امر سندھو کی ’جاگتی آنکھوں کے سپنے‘

آخری وقت اشاعت:  پير 4 مارچ 2013 ,‭ 14:45 GMT 19:45 PST
امر سندھو، مہمیدہ ریاض اور عرفانہ ملاح

امر سندھو کی کتاب ’جاگتی آنکھوں کے سپنے‘ سندھی میں اردو ترجمے کے ساتھ شائع ہوئی ہے

اتوار کی شام کراچی آرٹس کونسل میں سندھی کی معروف شاعرہ امر سندھو کی 2011 میں شائع ہونے والے شعری مجموعے ’جاگتی آنکھوں کے سپنے‘ کی تقریبِ رونمائی ہوئی۔ تقریب سے مہمانِ خصوصی فہمیدہ ریاض، زاہدہ حنا، تنویر انجم، عطیہ داؤد اور رخسانہ پریت نے معکوس ترتیب میں خطاب کیا۔ عرفانہ ملاح نے نظامت کی جبکہ سہائی ابڑو نے شاہ عبدالطیف بھٹائی کی شاعری کی رقص سے عکاسی کی۔

امر سندھو کی کتاب سندھی میں اردو ترجمے کے ساتھ شائع ہوئی۔ اردو میں ترجمے عطیہ داؤد نے کیے اور زیبائش معروف آرٹسٹ خدا بخش ابڑو نے کی۔ سہائی کے رقص سے قبل امر نے اپنی نظمیں سندھی میں پڑھیں اور عطیہ نے ان کا ترجمہ سنایا۔

امر سندھو سندھ یونیورسٹی میں فلسفہ پڑھاتی ہیں۔ انھوں نے اپنی شاعری کی اشاعت پر مختصر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان نظموں کی اشاعت ممکن نہ ہوتی اگر فہمیدہ ریاض، خدا بخش ابڑو اور عطیہ داؤد مجھے اس کی تحریک نہ دیتے اور حوصلہ افزائی نہ کرتے۔

’میں تو ان نظموں کو ایسے ’own‘ نہیں کرتی تھی جیسے کنواری لڑکیں اپنے ناجائز بچوں کو اون نہیں کرتیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ لوگ خوش نصیب ہوتے ہیں جن کے حصے میں تعبیریں آتی ہیں، میرے حصے میں خواب آئے ہیں، جاگتی آنکھوں کے خواب۔ خواب تاریکی خلاف مزاحمت ہے، میں نے اپنے حصے کی تاریکی کے خلاف اپنے حصے کی روشنی سے مزاحمت کی ہے۔

خود بھی کئی شعری مجموعوں کی خالق اور انگریزی زبان اور ادب کی ڈاکٹر اور پروفیسر تنویر انجم کے سوا تقریب میں مقررین نے شاعرہ پر اپنی اپنی پسند کے لیبل چسپاں کرنے کی کوشش کی۔ شاید یہ بھی امر کی شاعری کے تنوع کا اظہار ہے۔

جاگتی آنکھوں کے سپنے

یہ بھی کہا گیا کہ کچھ فرق کے ساتھ امر کی شاعری میں سارا شگفتہ کا انداز محسوس ہوتا ہے۔ تنویر انجم کا خیال تھا کہ امر اپنی نظموں میں مارکسسٹ، نیشنلسٹ، فیمینسٹ اور کسی حد تک انارکسٹ بھی محسوس ہوتی ہے لیکن اُس کا اظہار فلسفیانہ نہیں شعری ہے اور ان کی نظمیں سارا شگفتہ سے ان معنوں میں مختلف ہیں کہ وہ ایک مکمل عضویاتی کُل بناتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امر اپنا رشتہ تمام تاریخوں اور تہذیبوں سے استوار کرتی ہیں لیکن نظریوں کے تسلط کو خود پر طاری نہیں ہونے دیتیں۔

فہمیدہ ریاض نے کہا، ’جیسے بچہ جنم دینے والوں کے بہت سے اوصاف اور خصوصیات اپنے اندر سمو کر دنیا میں آتا ہے اسی طرح امر سندھو کی شاعری میں اس کی غیر معمولی شخصیت کا عکس نظر آتا ہےجو پہلی ملاقات میں ہی ذہن پر گہرے نقش چھوڑ جاتا ہے۔‘

امیدوں، مایوسیوں اور اندیشوں کے اظہار کے بعد فہمیدہ ریاض نے یہ خوش امیدی ظاہر کی، ’خوش قسمت ہے سندھی ادب جس میں امر سندھو جیسی عورت کے قدم پڑے ہیں۔‘

معروف افسانہ نگار اور کالم نگار زاہدہ حنا کا کہنا تھا کہ ایسی لڑکیاں کم کم ہوتی ہیں جو اپنے دکھوں کی نمائش کی بجائے دوسروں کے دکھوں کے پشتارے اٹھائے چلتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امر سندھو کوئی دولخت شخصیت نہیں اس کی نظموں میں مزاحمت رگوں میں دوڑتے زندہ لہو کی طرح گردش کرتی محسوس ہوتی ہے۔ اس کے خوابوں کا رشتہ ذات سے نہیں کائنات سے جڑا ہے۔ اس کے ہاں عشق کی وہ پرچھائیاں ملتی ہیں جن پر مزاحمت کرنے والوں کے نقوش ہیں۔ مبارک ہو کہ وہ منحرفوں اور باغیوں کی صف میں ہے۔

عطیہ داؤد جنھوں نے امر کے نظموں کو اردو روپ دیا ہے بتایا کہ شیخ ایاز کا کہنا تھا کہ امر کی شاعری میں اس کی سوچ شعلے کی طرح جل رہی ہے۔ انھوں بتایا کہ امر نے ان دنوں میں ان کا ساتھ دیا جب وہ اپنی جد و جہد میں بالکل اکیلی پڑ گئی تھیں اور ہر طرف سے طنز و ملامت کا نشانہ بن رہی تھیں۔ انھوں نے امر کی قوم پرستانہ سوچ کو نسائی امتیاز کی طرف راغب کرنے کے لیے ہونے والی بحثوں کا ذکر کیا اور پھر ان کی شاعری کی طرف آتے ہوئے کہا کہ امر کی شاعری میں عشق سمندر کی طرح گہرا ہے۔ اس کی شاعری میں اس کی شخصیت جھلکتی ہے۔ اسے پڑھتے ہوئے سارا شگفتہ یاد آتی ہے۔ وہ اپنی نظموں سے تاریخ لکھتی ہے لیکن وہ تاریخ کے کسی ایک دور میں نہیں کئی ادوار میں ایک ساتھ رہتی ہے اور لگتا ہے وہ اپنے ساتھ مزاحمت کے لیے پیدا ہوئی ہے۔

سندھی کی پروین شاکر کہہ کر متعارف کرائی گئی رخسانہ پریت نے کا کہنا تھا کہ امر سندھو کی شاعری میں تخیل کی وہ بلندیاں دکھائی دیتی ہیں جو انھوں نے پہلے نہیں دیکھیں۔ امر کی شاعری اس عورت کی آواز ہے جس کا دم سمجھوتوں اور مفاہمتوں کی چادر میں لپٹنے کے باعث گھٹ رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امر کی مشاہداتی قوت کی داد دینی پڑتی ہے۔ وہ عورت کی داخلیت کو بڑی خوبصورتی سے نمایاں کرتی ہیں۔

تقریب کی ابتدا پر عرفانہ ملاح نے کہا کہ ’یہ جدید سندھ کی منفرد لہجہ رکھنے والی شاعرہ کے مجموعے کی تقریب ہے۔ اس مجموعے میں خدا بخش ابڑو کی السٹریشن اور عطیہ داؤد کے ترجمے نے چار چاند لگا دیے ہیں۔ انھوں شبنم شکیل کے انتقال کی خبر سنائی اور شبنم کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے حاضرین سے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کے لیے کہا۔

اس پُر جوش اور غیر معمولی حاضری والی تقریب کا اختتام سہائی ابڑو کے رقص پر ہوا۔ جس کے آخر پر امر سندھو نے سہائی ابڑو کو پھول پیش کیے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔