امیر ہونے کے طریقے

آخری وقت اشاعت:  منگل 5 مارچ 2013 ,‭ 15:25 GMT 20:25 PST

محسن حامد کی نئی کتاب ’ہاؤ ٹو گیٹ رِچ ِان رائزنگ ایشیا‘ (ابھرتے ایشیا میں امیر ہونے کا طریقہ‘) بظاہر ایک اپنی مدد آپ کی طرز کا مینیول نظر آتا ہے لیکن یہ ہے ایک ناول۔

بارہ ابواب پر مشتمل اس کہانی کا مرکزی کردار بے نام ہے کیونکہ مصنف اسے صرف ’تُم‘ کہہ کر مخاطب کرتا ہے۔

امیر بننے کے طریقے کے اس سلسلے کا پہلا قدم شہر منتقل ہونا بتایا گیا ہے، تو پہلے ہی باب میں ہیرو کا والد اپنے خاندان کو گاؤں سے شہر لے جاتا ہے۔ کہانی میں ہیرو لاہور نُما ایک شہر کے غریب علاقے میں رہتا ہے جہاں وہ سکول جاتا ہے، سکول میں پٹتا ہے اور ’خوبصورت لڑکی‘ کہلانے والی کردار پر عاشق ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد خوبصورت لڑکی کی کہانی ہیرو کی کہانی سے مختلف اوقات پر جا ملتی ہے۔

ہیرو اپنا کاروبار شروع کرتا ہے، پنجاب یونیورسٹی نما ایک جامعہ میں جمعیت نما تنظیم کا سہارہ لیتا ہے، جرائم پیشہ گروہوں سے کام کرواتا ہے اور دنیا کے بارے میں بہت کچھ سیکھتا ہے۔ وہ ایک امیر اور کامیاب شخص بن تو جاتا ہے لیکن اس کی کہانی میں پاکستان نُما ایک ملک کے بارے میں کئی حقائق سامنے آتے ہیں، کہ کون سے گروپ واقعی با اختیار ہیں، کس کا کیا دھندا چل رہا ہے، اور یہ کہ اس سارے معاشرے میں دولت پرستی کس قدر ہے۔

محسن حامد کراچی ادبی میلے میں

محسن حامد نے کراچی کے ادبی میلے میں بھی اپنی نئی کتاب پر بات کی

پیسہ، پیار اور کاروبار۔ ان سب کے لیے فوج اور سرکاری افسران میں جان پہچان (اور لین دین) ضروری ہے اور ہمارا ہیرو یہ تمام یہ سبق سیکھتا ہوا ترقی کرتا جاتا ہے۔

یہ ایک ہیرو کی کہانی جو مُفلسی سے امارت تک جاتا ہے لیکن ساتھ آج کل کی دنیا میں ایک ترقی پذیر معاشرے کی بھی کہانی ہے جس میں اقتصادی اور صنعتی تبدیلیوں سے روایتی زندگی اور رشتے اُلٹ پُلٹ ہو رہے ہیں۔

یہ محسن حامد کا تیسرا ناول ہے۔ اس سے پہلے وہ ’موتھ سموک‘ اور دا رِی لکٹنٹ فنڈامینٹلِسٹ‘ لکھ چکے ہیں۔ تینوں کتابوں میں مرکزی کردار لاہوری معلوم ہوتا ہے لیکن جس سماجی طبقے سے اس کا تعلق ہوتا ہے اسے صاحب اقتدار و دولت کبھی پوری طرح سے قبول نہیں کرتے۔

اس کتاب میں بھی ہمارے بے نام ہیرو کو اس کے دولت کے باوجود اعلی حلقے اور ’ایلیٹ‘ لوگ اپنے معیار کا نہیں سمجھتے ہیں اور استعمال تو کرتے ہیں لیکن قدرِ حقارت کے ساتھ۔

آخر میں مصنف یہ بھی سوچ دہراتے ہیں کہ ہم سب ایک طرح سے اپنے ماضی سے دور جانے کی کوشش میں ہیں: ’ہم سب اپنے بچپن سے بھاگے ہوئے پناہ گزین ہیں‘ لیکن ساتھ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ زندگی میں کہانیاں ہی سب سے زیادہ اہم ہیں اور کہانیوں سے ہی تمام فاصلے پار کیے جا سکتے ہیں: سماج کے، وقت کے اور خیالات کے۔

’ہاؤ ٹو گیٹ رِچ اِن رائزنگ ایشیا‘ اس ماہ برطانیہ میں شائع ہو رہی ہے۔ یہ کتاب پہلے ہی امریکہ میں شائع ہو چکی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔