جاپانی لڑکیوں جیسی بھیدوں بھری کتاب

آخری وقت اشاعت:  اتوار 10 مارچ 2013 ,‭ 18:19 GMT 23:19 PST

کوئی جاپان کے بارے میں تعارف حاصل کرنا چاہے تو یہ ایک کتاب ہی کافی ہے

ترتیب وتدین: خرم سہیل

صفحات: 398

قیمت: 1400 روپے

ناشر : سنگِ میل پبلی کیشن۔ لاہور

خرم سہیل کی کتاب’سرخ پھولوں کی سبز خوشبو‘ اس اعتبار سے تو سنگِ میل ہے ہی کہ اس کی اشاعت پاکستان جاپان دوستی کی 60ویں سالگرہ پر شائع ہوئی ہے۔ اب اس میں سنگِ میل سے اشاعت کا اتفاق بھی شامل ہے۔

مجھے علم نہیں کہ یہ اہتمام تھا یا اتفاق۔ لیکن اس کتاب میں جو مواد خرم سہیل نے جمع کیا ہے اسے پڑھتے ہوئی مجھے اس خصوصی ضمیمے کی یاد آ گئی جو بیس پچیس سال پہلے روزنامہ نوائے وقت نے دو قسطوں میں شائع کیا تھا۔

اس ضمیمے میں جاپانی اور پاکستانی مصنفین کےجس طرح کے مضامین تھے ان سے اس ضمیمے کے پڑھنے والے تو لطف اندوز ہوئے ہی ہوں گے خود میں بھی ایک نئی دنیا سے متعارف ہوا تھا۔

سچ تو یہ ہے کہ اگر مجھے اس ضمیمے کو مرتب کرنے کی ادارتی ذمے داری نہ دی جاتی تو مجھے جاپانی ادب اور فلموں سے وہ شناسائی نہ ہوتی جو اب تک میری دلچسپیوں کا مستقل حصہ بنی ہوئی ہے۔

اس لیے جب خرم سہیل کی کتاب ملی تو میں دوسری کتابوں کو چھوڑ کر اس کی ورق گردانی کرنے لگا۔

مجھے پہلی حیرت تو یہ ہوئی کہ انھوں نے اس کتاب میں ایک پوری دنیا جمع کر دی ہے۔ جاپانیوں کی دنیا اور ان کی زندگیوں کا کم و بیش ہر پہلو اس میں موجود ہے۔ کچھ ایسے پہلو ضرور نہیں ہیں جن پر بات کرنا کچھ لوگوں کو اچھا نہیں لگتا لیکن گیشائیں جاپانی تہذیب و ثقافت اور تاریخ کا غیر اہم حصہ نہیں کہی جا سکتیں۔

پھر بھی حقیقت تو یہ ہے کہ اگر کوئی جاپان کے ادب اور ثقافت کے بارے میں قابل اعتماد تعارف حاصل کرنا چاہے تو یہ ایک کتاب ہی اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔

اس کتاب کے نو باب بنائے گئے ہیں اور ان پر نظر ڈالتے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس کتاب سے کیا کچھ ملنے کو توقع کی جا سکتی ہے۔

ان ابواب میں جاپانی اہلِ قلم کی اہم اردو تحریریں، جاپانی ادب اور شاعری، جاپانی ادیب اور شعرا، اردو زبان اور ادب کے لیے جاپانیوں کی خدمات، جاپانی ادب اور پاکستانی مترجمین، برصغیر کے فکشن میں جاپان، جاپانی تہذیب و فن، جاپانی ہماری نگاہ میں اور پاکستانیوں کی نظر میں جاپان کے عنوانات سے خاصا جائزہ لیا گیا ہے۔

بے خیالی سے دیکھیں تو لگتا ہے کہ عنوانات ایک ہی طرح کے ہیں اور گمان ہوتا ہے کہ شاید لکھنے والے مختلف لوگوں نے ملتے جلتے مسائل اور معاملات کے بارے میں اظہار کیا ہوگا اور کچھ تنوع ہوا تو رائے اور محسوسات و تجربات کا ہوگا لیکن ایسا ہے نہیں۔

ہر باب میں کئی کئی لکھنے والے ہیں اور ہر لکھنے والے نے کسی دوسرے لکھنے والے کو دہرایا نہیں ہے۔ پہلے باب ہی میں جو ’جاپانی اہل قلم کی اہم اردو تحریریں‘ کے عنوان سے ہے، آٹھ پروفیسروں کی تحریریں ہیں جو 1936 سے2011 کے درمیان لکھی جانے والی تحریروں سے منتخب کی گئی ہیں۔ اسی سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس کتاب میں اور کیا کیا ہے اور کیسا ہے۔

جامع احاطہ

کتاب کے ابواب میں جاپانی اہلِ قلم کی اہم اردو تحریریں، جاپانی ادب اور شاعری، جاپانی ادیب اور شعرا، اردو زبان اور ادب کے لیے جاپانیوں کی خدمات، جاپانی ادب اور پاکستانی مترجمین، برصغیر کے فکشن میں جاپان، جاپانی تہذیب و فن، جاپانی ہماری نگاہ میں اور پاکستانیوں کی نظر میں جاپان کے عنوانات سے خاصا جائزہ لیا گیا ہے۔

میرے لیے تو اس میں ایک خالص ذاتی دلچسپی بھی ہے۔ اس میں ایک مضمون کتاؤکا کا ہے جو اب پروفیسر ہیرو جی کتاؤکا بن چکے ہیں اور جاپان کی دائتوبناکا یونیورسٹی میں اردو پڑھاتے ہیں۔

پروفیسر کتاؤکا جن دنوں کراچی یونیورسٹی میں پڑھنے کے لیے آئے تھے اس کے ایک سال بعد میں بھی کراچی یونیورسٹی پڑھنے کے لیے داخل ہوا۔ انھوں نے اپنے مضمون میں جن اساتذہ اور دوستوں کا ذکر کیا ہے وہ اتفاق سے میرے بھی اساتذہ اور دوست تھے، ان میں سے بہت سے جلدی میں تھے اور مجھے یہاں چھوڑ وہاں چلے گئے جہاں ایک ایک نہ ایک دن سبھی کو جانا ہوگا۔

کتاؤکا نے انھیں ایسے یاد کیا ہے کہ وہ سارے دن رات اپنے سارے دکھوں سکھوں ساتھ سامنے آ کھڑے ہوئے ہیں اور یہ ایک مضمون ہی کیا، سارے مضمون اسی ڈھنگ کے ہیں کہ نثرکی ایک نئی دنیا، ایک جیتی جاگتی، ہنستی بولتی دنیا سامنے آ کھڑی ہوتی ہے اور کہتی ہے کہ آؤ پھر سے شامل ہو جاؤ۔

میں چاہتا تو ہوں کہ ہر باب کی تفصیل کروں اور ہر وہ بات آپ سے بانٹوں جس نے مجھے دوسری کتابوں کو چھوڑ کر اس بات پر اکسایا کہ فورًا آپ کو اس بارے میں بتاؤں۔ وہ کہتے ہیں نہ کہ اچھی خبر سنانے میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔

ایک بات مجھے اور کہنی ہے کہ کتاب بہت عمدہ شائع ہوئی ہے۔ مجلد ہے اور گردپوش کے بغیر۔ میں نے بہت سے جاپانیوں لڑکیوں کو دیکھا ہے لیکن کبھی کسی سے شناسائی نہیں ہوئی لیکن لگتا ہے وہ بھی ایسی ہی بھیدوں بھری ہوتی ہوں گی جیسی یہ کتاب ہے۔

لیکن میرے خیال میں اس کتاب کی قیمت کچھ زیادہ ہے اور کسی حد تک پہنچ سے باہر ہے، مجھے نہیں پتا کہ اس بات کا بھی جاپانی لڑکیوں سے کوئی علاقہ ہے یا نہیں۔

ایک بات اس کتاب کی جلد بندی کے بارے میں بھی ضرور کہنی چاہیے اور اس پر تو پاکستان کے تمام پبلشروں کو توجہ دینی چاہیے کیونکہ اکثر ذرا زیادہ صفحوں والی مجلد کتابوں کے صفحات یا تو پوری طرح کھلتے نہیں ہیں اور کھول ہی لیے جائیں تو لگتا کہ ہاتھ میں آنے کو ہیں اور کوئی دم جاتا ہے کہ پشتہ سلائی کا سارا کچا چٹھا کھول دے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔