بالوں کا گچھا، عقیدے اور محبت

آخری وقت اشاعت:  پير 11 مارچ 2013 ,‭ 13:53 GMT 18:53 PST

نام کتاب: بالوں کا گچھا

مصنف: خالد طور

صفحات: 448

قیمت: 500 روپے

ناشر: آج کی کتابیں، مدینہ سٹی مال، عبداللہ ہارون روڈ، صدر کراچی 74400

ادب اور تخلیق کے بارے میں ان گنت تصورات اور نظریے موجود ہیں اور سبھی اپنی اپنی جگہ اپنی اساسی بنیادوں پر درست محسوس ہونے کی قوت رکھتے ہیں۔ ان نظریات اور تصورات میں یہ ایک سوال بڑی حد تک مشترک رہا ہے کہ ادیب اور فنکار کے تخلیقی تسلسل میں اس کے تخلیقی وصف اور اعتراف کی اہمیت اور کردار کیا ہے۔

بروقت اعتراف اور اہمیت حاصل نہ کر سکنے والے اور حاصل نہ کرسکنے کی شکایت رکھنے والے ہمیشہ اکثریت میں رہے ہیں اور آج بھی ہیں۔ ناقدری کی اس شکایت اور ملال کی ایک بڑی وجہ تو شاید یہ ہے کہ کوئی بھی ادیب اور فنکار ، ادب اور فن کی پہچان رکھنے والوں کی نظر میں وہ جیسا بھی ہو، اس وقت تک کچھ تخلیق ہی نہیں کر سکتا جب تک اس کا کام خود اس کی اپنی نظر میں اہم، منفرد اور ناگزیر نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے اظہار کی ایسی داد اور اعتراف کا طالب ہوتا ہےجس کی حدود کا تعین نہ تو اب تک کیا گیا ہے اور نہ ہی شاید کیا جا سکتا ہے۔

زیادہ طویل تفصیل میں جانے کی بجائے اگر ہم پرتگیزی ادیب ہوزے ساراماگو، جرمن ادیب گنٹر گراس اور سب سے بڑھ کر چیک ادیب میلان کندیرا کو ہی سامنے رکھیں تو اس بات کو آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ ساراماگو اور گنٹر گراس کو بالترتیب 1998 اور 1999 میں جب ادب کے نوبل انعامات پیش کیے گئے تو انھیں ساری دنیا میں ادب پڑھنے والے بخوبی جانتے تھے، تقریبًا تمام ہی زبانوں میں ان کے تراجم ہو چکے تھے اور نوبل انعام ان کی قدر اور منزلت میں وہ اضافہ نہیں کر سکتا تھا جو اس انعام نے مو یان 2012، ہرتا ملّر 2009، لی کلیزیو2008، اورحان پامک 2006، الفریڈی جیلینک 2004 یا امری کرٹز 2002کی قدر اور منزلت میں کیا۔

دس سال کے اس عرصے کے دوران ٹرانس ٹرومر، برگس یوسا، ڈورس لیسنگ، ہیرلڈ پیِنٹر، اور جون کوئٹزی کے نام بھی آتے ہیں جو بڑی حد تک دنیا بھر میں جانے پہچانے، معروف اور مقبول تھے اور انھیں نوبل انعام پیش کرنے سے ان کی توقیر میں تو جو اضافہ ہونا تھا وہ ہوا ہی ہوگا لیکن خود نوبل انعام کی ساکھ کے عدم استحکام میں ضرور کمی ہوئی ہو گی۔ جہاں تک کندیرا کا معاملہ ہے تو انھیں اگرنوبل انعام پیش کیا بھی جائے گا تو اس سے نوبل انعام ہی زیادہ فائدے میں رہے گا۔

اردو میں آئیں سعادت حسن منٹو کا معاملہ بھی اس بات کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔ لیکن یہ بڑی مثالیں ہیں۔

جہاں تک خالد طور کا معاملہ ہے انھیں ہم نےتب سے جاننا شروع کیا جب ان کا ناول ’کانی نکاح ‘ کتابی سلسلے آج کے 63 ویں شمارے میں شائع ہوا اور لگا کہ وہ ایک پُر قوت لکھنے والے ہیں۔ حالاں کہ یہ ان کی پہلی تحریر نہیں تھی۔

خالد طور کی شاید پہلی کہانی ’سائیں موسم‘ فنون میں 1966 کے کسی شمارے میں شائع ہوئی تھی اس کے بعد ان کا ناول ’کانی نکاح‘ 1991میں شائع ہوا لیکن وہ توجہ اور پذیرائی حاصل نہ کر سکا جو اسے ’آج‘ میں اشاعت سے حاصل ہوئی اور جس نے انھیں یہ ناول ’بالوں کا گچھا‘ مکمل کرنے پر اکسایا جو پہلے ’آج‘ ہی کےغالبًا 72 ویں شمارے میں آیا اور اب کتابی شکل میں آ چکا ہے۔

اگر میں غلطی پر نہیں، تو شاید ’آج‘ اردو کا پہلا اور غالبًا اب تک واحد ادبی جریدہ ہے جس نے اپنے شماروں میں پورا پورا ناول شائع کرنے کی ابتدا کی۔ اب نہ صرف اردو کے کئی ناول بلکہ دوسری کئی زبانوں کے پورے پورے ناول ’آج‘ میں شائع ہو چکے ہیں۔

آج میں مقرر اشاعت سے اور کچھ ہوا ہو یا نہ ہوا ہو کم سے کم خالد طور کا تخلیقی دھارا ضرور پھر سے رواں ہو گیا اور ’بالوں کا گچھا‘ کو اس کا ثبوت کہا جا سکتا ہے۔ اس ناول کو ’انھوں نے برسوں پہلے لکھنا شروع کیا لیکن پھر بد دل ہو کر ادھورا چھوڑ دیا‘۔ میں نے اوپر اسی بد دلی کو سمجھنے کی کوشش کی ہے جو داد اور پذیرائی سے گہرا رشتہ رکھتی ہے۔

خالد طور کے اس ناول میں دو کہانیاں ہیں ایک تو بالوں کے اس گچھے کی ہے جس کے ذریعے توہمات اور اس استحصال کو دکھایا گیا ہے جو پیری فقیری کے نام پر کیا جاتا ہے اور دوسری کہانی گلنازی کی محبت اور اس سے کی جانے والی محبت کی ہے۔ گلنازی اور اس کا حالہ وہ مٹھاس ہے جس کا لیپ دے کر خالد طور نے پیری فقیری کے کاروبار کی کڑواہٹ اور خُشکی کو قاری کے حلق میں اتارنے کی کوشش کی ہے۔

وہ پیری فقیری کی کہانی کو اُس قوت اور جاذبیت سے تو بیان نہیں کر سکے، سوائے سانپ کے مارے جانے کے واقعے کے، جو انھیں’کانی نکاح‘ میں حاصل ہے۔ لیکن گلنازی، نوراں، گداؤ اور ماسی جیراں جیسے کردار ایسے ہیں کہ اگر ضمنی کہانی کا حصہ نہ ہوتے تو شاید ناول کا جلوہ کچھ اور ہوتا۔

ہو سکتا ہے کہ میری یہ رائے میری اپنی خاص پسند کے زیر اثر ہو اور لوگوں کو ناول کی دوسری کہانی زیادہ پسند آئے۔ لیکن اس بات سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا کہ فکشن بنیادی طور پر قصے کہانی کے ذریعے اظہار کرنا ہے۔ انداز کیسا بھی ہو اس کا فیصلہ تو لکھنے والے ہی کو کرنا ہوتا ہے اور یہ کام دوسرے کے کہے سے ہو بھی نہیں سکتا۔

اس ناول کا ایک اور عمدہ پہلو کہانی کا جغرافیہ اور ماحول ہے جسے انتہائی مناسب بیان میسر ہے۔

ہو سکتا ہے کہ خالد طور کا یہ ناول بڑا ناول شمار نہ ہو لیکن یہ مقصدیت تلاش کرنے والوں کو بھی پسند آئے گا اور کہانی کو اولیت دینے والوں کو بھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔