سندھی میں عشق کی نئی دکان

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 14 مارچ 2013 ,‭ 01:45 GMT 06:45 PST

امر پیرزادہ نے 14سال کی عمر میں شاعری شروع کی

جب کسی شاعر کا پہلا مجموعہ آتا ہے تو بالعموم اس پر بات کرنے والوں کا انداز خود بخود سرپرستانہ، بزرگانہ اور سچ کہوں تو غیر منصفانہ ہو جاتا ہے۔

سندھی شاعری کا یہ دوسرا مجموعہ ہے جس پر مجھے بات کرنی ہے اور اتفاق ہے کہ پہلا مجموعہ بھی امر کا تھا اور یہ دوسرا بھی امر کا ہے لیکن وہ امر سندھو تھیں اور یہ امر پیرزادہ ہیں۔

اس کے باوجود نہ تو امر سندھو کو پڑھتے ہوئے سرپرستانہ، بزرگانہ یعنی غیر منصفانہ رویے کا احساس میرے پاس بھٹکا تھا اور نہ ہی امر پیرزادہ کو پڑھتے ہوئے۔

مجھے سندھو بھی ہم عصر لگی تھیں اور امر پیرزادہ بھی۔ لیکن یہ ہم عصریت نظم اور نثری شاعری ہی میں نمایاں ہے غزل میں امرپیرزادہ اتنے ہی روایتی ہیں جتنی غزل ہے۔ ایسا کیوں اس کی تفصیل الگ ہے جس کا یہ موقع نہیں ہے۔

پہلے امر پیرزادہ سے ملاقات کریں۔

ان کا کہنا کہ شاعری انھوں نے 14سال کی عمر میں شروع کی۔ وہ انور پیرزادہ کے فرزند ہیں۔’اسی لیے شاید شاعری میرے جینز میں ہے‘۔

وہ بتاتے ہیں کہ وہ ’بلھڑیجی‘ کے ہیں۔ یہ ڈسٹرکٹ لاڑکانہ کے ضلع ڈوکری کا ایک قصبہ یا یوں کہیں کہ چھوٹا سا ’بڑا‘شہر ہے۔ چھوٹا جغرافیے کے معنوں میں اور بڑا تاریخ کے معنوں میں۔

یہ قصبہ ادیبوں، شاعروں، آرٹسٹوں، بھٹائی شناسوں، صحافیوں اور زندگی کے صوفیانہ انداز کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔گھر میں انور پیرزادہ کی سحر انگیز شخصیت اور شیخ ایاز کی شاعری تھی تو باہر سندھی ادبی سنگت کا ماحول۔ شاعری کا عشق تو ہونا ہی تھا۔

شروع ہی سے غزل پسند آئی اور غزل ہی زیادہ کہی۔ پھر نظمیں لکھیں اور نثری شاعری بھی کی۔

ویسےگھر میں نظم ہی زیادہ لکھی جاتی ہے وہ یوں بتاتے ہیں جیسے کوئی بھولی ہوئی بات یاد آ رہی ہو، انور پیرزادہ، شاہ محمد اور فیض پیرزادہ سبھی نظمیں لکھتے۔

شروع ہی سے غزل پسند آئی اور غزل ہی زیادہ کہی۔ پھر نظمیں لکھیں اور نثری شاعری بھی کی: امر

امر کہتے ہیں کہ انھیں شاعری کی تمام اصناف میں سہولت محسوس ہوتی ہے۔ ان کا مسئلہ یہ تھا کہ کسی کے انداز اور ڈکشن کی نقل نہ کریں۔’محتاط رہا ہوں۔ میرے خیال میں میری نظموں کی ایک اپنی دنیا ہے‘۔

اب وکلا کی بات بھی سُن لیں۔

امداد حسینی نے امر پیرزادہ کی کتاب کے پیش لفظ میں لکھا ہے کہ امر کو سادگی سےگہری بات کرنے کا ہنر آتا ہے۔ وہ تصدیق کرتے ہیں کہ امر کی نظموں کی اپنی ایک دنیا اور اپنے راستے ہیں۔ اس کی شاعری ذاتی تجربے سے نکلتی ہے۔

لیکن صرف اتنا نہیں ہے۔ امر جس جغرافیے اور ماحول میں ہیں وہ بھی ان کے ذاتی تجربے کا حصہ ہے۔ امداد حسینی توجہ دلاتے ہیں۔ دہشت گردی، مذہبی انتہا پسندی اور فیمن ازم سےان کا جو علاقہ ہے اس کے اثرات ان کی شاعری میں جگہ جگہ دکھائی دیتے ہیں۔

نظموں کو بھی غزلوں کی طرح سننا اور سمجھنا ایک عمومی رویہ ہے۔ قصائی کی طرح نظموں کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے الگ کیا جاتا ہے۔ پُٹھ، ران، گردن، سینہ اور چانپوں کی طرح حصے بنائے جاتے ہیں اور سراہا جاتا ہے۔ وجہیں دو ہیں۔ ایک افادیت پسندی اور دوسری غزل کی روایت اور ثقافت، یعنی درباریت۔

میں نظموں کو ٹوٹے ٹوٹے نہیں کروں گا۔

’عشق‘

امر پیرزادہ نے اپنے ’عشق‘ کی دکان میں ہر مال رکھا اور لگتا ہے جو بھی آئے گا اُسے کچھ نہ کچھ ضرور بھائے گا۔ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہر میل کا مال رکھنے والی دکانیں چلتی رہتی ہیں اس کے باوجود کہ ان کی شناخت ہمیشہ سوال کی زد میں رہتی ہے۔ لیکن اس مجموعے کا اصل جوہر تو وہ شعری سوچ ہے جو لسانی پیرائے سے ماورا ہے اور جس میں شاعر کی شعوری کوشش کو دخل نہیں۔

امر کا یہ پہلا مجموعہ ہے۔ سب کی طرح انہیں نثری شاعری سمیت ساری اصناف کے لیے سازگار ماحول میسر ہے۔ پھر بھی اگر وہ روایتی اصناف کے بغیر اظہار نہیں کر سکتے تو ان کا مسئلہ ذاتی ہے۔ دوش ان کا بھی نہیں ابھی تو اردو نثری شاعری کےکچھ سرِ فہرست بھی غزل کی لذت و قبولیت سے جان نہیں چھڑا سکے تو امر پیرزادہ سے اصناف کی ماہیتوں اور اظہار کی پیچیدگیوں میں جان گھلانے کی توقع کیوں کی جائے۔

ان کی اس کتاب میں سب سے زیادہ غزلیں ہیں تو حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن نثری شاعری میں ان کے اظہار کے موضوعات زیادہ ذاتی اور زیادہ قریبی محسوس ہوتے ہیں۔ غزلوں کو پڑھنے والے خود دیکھ لیں گے۔

ذرا عنوان ہی دیکھیں: کراچی، اس شہر میں، جہاں خوشخبریوں کا موسم نہ آئے، انور پیرزادہ کے بچھڑنے پر،محبوبہ اور جنگ ، ماں کے بچھڑنے پر، دادا اور پوتے کی جوڑی، حسن درس کے بچھڑنے پر، جگجیت سنگھ کے بچھڑنے پر، تشبیہ، (Love Marriage)لو میرج، خود کو عورت تصور کرنا، یہ کوڑے تم خود کو لگاتے، وہ لڑکی، اور میں ناکام ہو گیا۔

اس مجموعے میں 59 کے لگ بھگ غزلیں، سات وائیاں اور غالبًا پانچ آزاد نظمیں ہیں۔ یہ کہنا اضافی ہے کہ ان کی شعری احساس میں وہ ثقافتی انجذاب اتصال ہے جسےمقامی سیاسی مقاصد والے لسانی طور پر الگ الگ کر کے دیکھنے پر اصرار کرتے ہیں۔ ان کی ایک نظم اردو میں دیکھیں۔ باقی کتاب میں پڑھ لیجیےگا۔

خود کو عورت تصور کرنا

جب نہ چاہتے ہوے بھی تمہیں/ وہ سب کرنا پڑے/ جس میں تمہارا دل، تمہاری روح/ شامل نہ ہو/ تو خود کو عورت تصور کرنا

جب تمہارے جسم کا سودا ہو/ جب تم کسی کی ملکیت سمجھے جاؤ/ جب تمہاری سانسوں پر/ نصیحتوں کی گُھٹن ہو/ خود کو عورت تصور کرنا

جب جوان ہوتے ہی قید ہوجاؤ/ اور آسمان کی وسعت/ کھڑکی جتنی رہ جائے/ خود کو عورت تصور کرنا

کبھی آدھی رات کو اپنے بچے کے لیے/ اگر نیند سے جاگو/ اس کا بستر بدلو/ اُس کو کپڑے پہناؤ/ اپنا چین گنواؤ/ خود کو عورت تصور کرنا

جب یہ طے ہو جائے/ تمہیں کیا کرنا ہے/ کیسے رہنا ہے/ کیسے ہنسنا ہے/ کیسے رونا ہے/ کیسے جینا ہے/ کیسے مرنا ہے/ خود کو عورت تصور کرنا

جب جسمانی فرق کی سزا/ انسانی فرق بن جائے/ خود کو عورت تصور کرنا/ اور ایسا تصور کر کے/ اے نام نہاد غیرت مند مردو!

عورت نہ ہونے پر/ شکر نہ کرنا/ اُسے اپنی طرح آزاد ہونے دینا۔ ۔ ۔

امر پیرزادہ نے اپنے ’عشق‘ کی دکان میں ہر مال رکھا اور لگتا ہے جو بھی آئے گا اُسے کچھ نہ کچھ ضرور بھائے گا۔ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہر میل کا مال رکھنے والی دکانیں چلتی رہتی ہیں اس کے باوجود کہ ان کی شناخت ہمیشہ سوال کی زد میں رہتی ہے۔ لیکن اس مجموعے کا اصل جوہر تو وہ شعری سوچ ہے جو لسانی پیرائے سے ماورا ہے اور جس میں شاعر کی شعوری کوشش کو دخل نہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔