ادبی میلہ اب اسلام آباد میں بھی

Image caption اسلام آباد میلے کا اعلان آصف فرخی اور امینہ سید نے کیا

آکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ گذشتہ چار سال کے دوران سالانہ کراچی ادبی میلوں کی شاندار کامیابی کے بعد اب اسلام آباد میں پہلا لٹریچر فیسٹیول منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں ہونے والا یہ پہلا دو روزہ او یو پی اسلام آباد ادبی میلہ 30 اپریل سے یکم مئی 2013 تک جاری رہے گا۔

او یو پی کی منیجنگ ڈائریکٹر امینہ سید نے کراچی ادبی میلے کے شریک بانی آصف فرخی کے ساتھ جمعہ کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اسلام آباد فیسٹیول سے دوسرے صوبوں سے آنے والے لوگوں کو زیادہ سہولت میسر آئے گی اور اس کے انعقاد کا فیصلہ سندھ کے علاوہ دوسرے صوبوں میں رہنے والوں کی جانب سے اصرار پر کیا جا رہا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ 0102 میں کراچی میلے کے 34 اجلاسوں میں 35 مقررین جب کہ پانچ ہزار لوگوں نے شرکت کی۔ 2011 میں میلے کے 46 اجلاسوں میں 102 مقررین تھے اور دس ہزار لوگوں نے شرکت کی۔

2012 کے 61 اجلاسوں میں 138 مقررین اور 15 ہزار شرکا تھے جب کہ 2013 میلے کے 148 اجلاس ہوئے۔ ان اجلاسوں میں 211 مقررین نے حصہ لیا اور مجموعی طور 40 ہزار سے زائد لوگ شریک ہوئے۔

چوتھے میلے میں پاکستان کے تمام صوبوں کے علاوہ فرانس، جرمنی، بھارت، اٹلی، نیپال، روس، برطانیہ اور امریکہ کے عالمی سطح پر معروف ادیبوں نے بھی شرکت کی۔

آکسفرڈ یونیورسٹی پریس کی امینہ سید نے وضاحت کی کہ شروع ہی سے ان ادبی میلوں کا مقصد کتابوں اور مطالعے کو فروغ دینا اور ذہنوں کو زرخیز بنانا رہا ہے۔ کراچی میں ان ادبی میلوں کا انعقاد ایک چیلنج تھا لیکن ان کے کامیاب انعقاد نے ثابت کر دیا ہے کراچی ایک متنوع شہر ہے اور شہر کے لوگوں کی بڑی تعداد پڑھنے لکھنے سے گہری رغبت رکھتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے ہمیں جو حوصلہ افزائی ملی ہے، اور اسی کی بنا پر ہم اسے ملک کے دوسرے حصوں تک لے جانا چاہتے ہیں تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو تخلیق کاروں سے ملنے ملانے کا موقع اور پڑھنے کی تحریک ملے۔

امینہ نے امید ظاہر کی کہ اسلام آباد میلے کے انعقاد سے یقینی طور شمالی علاقوں کے ادیبوں اور عام پڑھنے والوں کو ایسے مکالموں اور مباحثوں میں حصہ لینے کا موقع ملے گا جو ان کی سوچ اور ذوق کے لیے اہم ثابت ہو گا۔

انھوں نے مزید کہا کہ آکسفرڈ یونیورسٹی پریس اس قسم کے ادبی میلوں کے ذریعے ایک ایسی فکری گنجائش پیدا کرنا چاہتا ہے، جس میں قلم کار ایک دوسرے سے مل سکیں، ایک دوسرے کو جان سکیں اور پاکستان کے اندر اور سرحدوں سے باہر کی روایات کے حوالے سے پاکستانی معاشرے کے تنوع اور ایک سے زیادہ نظریات کا اظہار کر سکیں۔

اس ضمن میں اسلام آباد کے ادبی میلے میں کراچی کے میلے کی طرح مباحث، بات چیت، انٹرویوز، مذاکروں، مشاعرے، کتب میلہ، کتابوں کی رونمائی، مطالعے اور دوسری سرگرمیاں ہوں گی۔

امینہ کے مطابق اب تک اکثر ادیبوں اور مصنفین نے اسلام ادبی میلے میں شرکت کی تصدیق کر دی ہے جن میں پاکستان سے چند سرِ فہرست ادیبوں میں محمد حنیف، ایچ ایم نقوی، منیزہ شمسی، کشور ناہید، امجد اسلام امجد، پرویز ہود بھائی، طارق رحمان، ملیحہ لودھی، نسیم زہرہ، فوزیہ سعید، ریاض خان، انتظار حسین، مستنصر حسین تارڑ اور عبداللہ حسین شامل ہیں۔

بعد میں ایک سوال کے جواب میں افسانہ نگار، نقاد اور مترجم آصف فرخی نے کہا کہ میلے میں پاکستان کی تمام قومی زبانوں کے ادیب شریک ہوں گے اور تمام قومی زبانوں کے ادب پر بات کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جن زبانوں کو کچھ لوگ علاقائی زبانیں کہتے ہیں وہ انھیں قومی زبانیں کہنا زیادہ مناسب سمجھتے ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ ایسے میلوں کے انعقاد سے کتابوں کے فروغ کو تقویت ملتی ہے اور چوتھے کراچی ادبی میلے کے دوران بعض غیر ملکی اور پاکستانی ادیبوں کی میلے میں لائی جانے والی تمام کتابیں فروخت ہو گئیں اور خریداروں کو کتابیں نہ ملنے کی شکایتیں رہیں۔

اسی بارے میں