دل سے دل تک کا سفر

Image caption ’یاقوت کے ورق‘ کی تقریبِ رونمائی کے موقعے پر علی اکبر ناطق کشور ناہید کے ساتھ

اس دور میں کہا جاتا ہے کہ ادب ختم ہو چکا ہے، زبان رو بہ انحطاط ہے، لوگوں نے اردو کی کتابیں پڑھنا چھوڑ دی ہیں۔ اسی دور میں علی اکبر ناطق کو دیکھتے ہی دیکھتے اتنی شہرت مل گئی ہے کہ آنکھیں چکاچوند ہو گئی ہیں اور بہت سے لوگوں کو انھیں کسی خانے میں فٹ کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔

اس دوران ناطق یکے بعد دیگرے چونکا دینے والی کتابیں سامنے لا رہے ہیں۔ ڈھائی سال پہلے ان کا شعری مجموعہ ’بے یقین بستیوں میں‘ شائع ہوا جس کا دیباچہ اردو کے سب سے بڑے نقاد شمس الرحمٰن فاروقی نے لکھا۔ گذشتہ برس ان کے افسانوں کی کتاب ’قائم دین اور دوسرے افسانے‘ کو آکسفرڈ پریس نے چھاپا۔ وہ غالباً پہلے حیات ادیب ہیں جن کی فکشن کی کتاب آکسفرڈ سے چھپی۔

اب ان کا دوسرا شعری مجموعہ ’یاقوت کے ورق‘ شائع ہوا ہے جس پر ایک بار پھر بھرپور مکالمے کا آغاز ہو چکا ہے۔ فیس بک پر بھارت سے شائع ہونے والے ممتاز ادبی رسالے ’اثبات‘ کے مدیر اشعر نجمی ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پر روتی ہے تب جا کر کوئی ناطق پیدا ہوتا ہے۔

جمعرات کو اسلام آباد میں ادبی اور ثقافتی بیٹھک ’کچھ خاص‘ میں اس کتاب کی تعارفی تقریب منعقد کی گئی جس میں مختلف مقالہ نگاروں نے ناطق کے فن کا جائزہ لیا۔ ہم نے اس موقعے پر ناطق سے ان کے فن کے بارے میں گفتگو کی۔

انھوں نے اپنی شاعری کے آغاز کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا، ’مجھے شاید فطرت موت کی طرح اپنی طرف کھینچتی ہے اور میں جہاں کہیں خدا کے نظاروں دیکھتا ہوں تو اس کی تعریف میں نغمہ سرا ہو جاتا ہوں۔‘

ناطق کا ناطہ میرا جی سے جوڑا جا رہا ہے۔ شمس الرحمٰن فاروقی نے ناطق کو میرا جی کے خانوادے کا شاعر قرار دیا ہے۔

اس بارے میں ناطق کہتے ہیں، ’جب تک میری شاعری کا احاطہ تاریخی پس منظر اور فطرت کی جمالیات کو ساتھ رکھ کر نہ کیا جائے اس وقت تک صحیح نتیجہ نہیں نکل سکے گا۔ آپ کو میری شاعری کو اس معاملے میں تین حصوں میں تقسیم کرنا پڑے گا۔ فطرت کی منظر نگاری، تاریخی منظر نگاری اورذہنی نفسیات کی منظر نگاری۔ فاروقی صاحب نے غالباً ذہنی نفسیات کی منظر نگاری ہی کو سامنے رکھ کر یہ بات کی ہے، جو کہ میری شاعری کا ایک پہلو ہو سکتا ہے، سب نہیں۔‘

ناطق کے افسانوں کے مجموعے کو بھرپور توجہ ملی ہے۔ ان کے ایک افسانے کا ترجمہ معروف برطانوی ادبی پرچے گرانٹا میں شائع ہوا جسے بہت پسند کیا گیا۔ اپنی شاعری اور افسانہ نگاری کے بارے میں وہ کہتے ہیں:

’اگر آپ سمجھتے ہیں کہ میری کہانی سناتی ہوئی نظمیں واقعی نظمیں بن گئی ہیں توآپ اُن میں کہانی پن کے اسلوب کو آج سے ایک اور اصول کہہ لیں۔ دوسری بات یہ کہ جب آپ کے پاس کہنے کو کچھ ہو تو وہ کہانی بن کر رہتی ہے۔ یہی کہانی نظم یا افسانے کی شکل میں ڈھل جاتی ہے۔ دنیا کی بڑی شاعری کہانی ہی کے واسطے سے آگے بڑھی ہے۔ میرا خیال ہے کہ میری نظموں اور افسانوں کو اسی وجہ سے قبولیت ملی ہے کہ ان میں کہانی فنی جمالیات کے ساتھ موجود رہی ہے اور قاری کو سمجھ آ رہی ہے کہ میں کیا کہنا چاہتا ہوں۔‘

’یاقوت کے ورق‘ کی نمایاں ترین نظم ’سفیرِ لیلیٰ‘ جو چار حصوں پر مشتمل ہے۔ اس نظم میں ناطق بھرپور تاریخی شعور کے ساتھ وقت کے سمندر میں اترتے ہیں اور قاری کو ایسے جزیروں کی سیر کرواتے ہیں جو بیک وقت جانے پہچانے بھی ہیں اور اجنبی بھی۔

ناطق نے اس کے بارے میں بتایا، ’مشرقِ وسطیٰ کی سیر و سیاحت کے دوران بہت سے خرابات کے نقش میری آنکھوں میں بیٹھ گئے تھے جن کو میں اپنے اندر ہی اندر لیے پھرتا رہا اور یہ نظم بہت عرصہ تک میں سینے میں پکتی رہی ہے اور میں تاریخ کے تناظرمیں اِسے اپنے دماغ میں بُنتا رہا۔ میرا خیال ہے کہ یہ نظم میں نے لکھنے کی بجائے خود دیکھی ہے اور قاری کو دکھائی ہے۔‘

’بے یقین بستیوں میں‘ سے ’یاقوت کے ورق‘ تک اپنے شعری سفر کے بارے میں انھوں نے کہا، ’میں سمجھتا ہوں کہ اس کتاب میں بہت سے ایسے موضوعات کو شعر میں لے کر آیا ہوں جو شاید میں اپنی پہلی کتاب میں نہ لا سکتا تھا کہ وہ میرے سفر کا آغاز تھا۔ میں نے شعر نہیں کہا جب تک میرے پاس مسئلہ نہیں اور مسئلہ بیان نہیں کیا جب تک وہ شعر نہ بنا۔‘

ناطق کہتے ہیں کہ شاعری دل سے دل تک کا سفر ہے جو لفظوں کے معصوم پرندوں کے پروں پر ہوتا ہے۔

خود ناطق کا سفر جاری ہے۔ شاعری اور افسانے کے بعد اب وہ ایک ناول لکھنے میں سرگرم ہیں۔ ناول کے چند ابواب کا مسودہ دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ناطق اردو کے اہم ناول نگاروں کی صف میں جگہ بنانے کی بھی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

اسی بارے میں