پاکستان میں ’تان‘ کی کہانی

Image caption چھبیس قسطوں کے اس ڈرامے کے لیے سو نئے اور پرانے گیتوں کو نئی آوازوں میں از سرِ نو ریکارڈ کیا گیا ہے

اپنے اردگرد کے حالات و اقعات سے تو ہر انسان ہی کسی نہ کسی طرح متاثر ہوتا ہے لیکن فنکار کے پاس اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے حالات پر اپنا درعمل انتہائی خوبصورت انداز میں پیش کرنے کے کئی پلیٹ فارم اور مواقع ہوتے ہیں۔

لاہور میں آجکل ایک ایسے ڈرامے کی عکس بندی جاری ہے جس میں نئی اور پرانی موسیقی کے تنازع کو بنیاد بنا کر پاکستان میں عدم برداشت اور مختلف گروہوں کے درمیان بڑھتی خلیج کی نشاندہی کی گئی ہے۔

’تان‘ نامی اسی ڈرامے کی کہانی ’حیات حویلی‘ میں موجود میوزک اکیڈمی کے اردگرد گھومتی ہے جہاں کلاسیکل اور پاپ میوزک سیکھنے کے شوقین کرداروں کے ذریعے نہ صرف موسیقی بلکہ ملک کے مسائل کو بھی اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ڈرامے میں تان میوزک اکیڈمی حیات حویلی میں قائم کی گئی ہے۔ حیات حویلی کے مالک کا کردار فردوس جمال نے بنھایا ہے جو ایک خاتون کو ساتھ ملا کر اپنی آبائی حویلی میں موسیقی کی تربیت کا ادارہ کھولتا ہے ۔

وہ خاتون اکیڈمی کے زریعے موسیقی کی خدمت کا جذبہ رکھتی ہے جبکہ فردوس جمال اس سے پیسہ کمانا چاہتے ہیں ۔ فردوس جمال کے مطابق ’ ہمارے ملک میں جو حالات ہیں آرٹ اور کلچر کے حوالے سے خاص طور پر موسیقی سے متعلق جو مشکلات ہیں انھیں اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔‘

Image caption یہ ڈرامہ لاہور کی تاریخی حویلی نونہال سنگھ میں فلمایا جا رہا ہے

ڈرامے کے ایگزیکٹو پروڈیوسر نبیل سرور کہتے ہیں کہ ’جو ہماری پرانی موسیقی ہے کلاسیکی ہو یا نیم کلاسیکی اور جو جدید موسیقی ہے جسے پاپ میوزک کہتے ہیں یا فیوژن میوزک کہا جاتا ہے ہم اس کا ایک موازنہ اس ڈرامے میں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا واقعی ہی اس میں کوئی تنازعہ ہے یا یہ ایک ہی دریا کی مختلف شاخیں ہیں۔‘

چھبیس قسطوں کے اس ڈرامے کے لیے سو نئے اور پرانے گیتوں کو نئی آوازوں میں از سرِ نو ریکارڈ کیا گیا ہے اور کئی گانے ڈرامے کے اداکاروں کی آواز میں ہی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

ڈرامے میں یاسمین حق نے گوجرہ کی اس عیسائی لڑکی کا کردار نبھایا ہے جس کا گھر ایک ہجوم کے ہاتھوں جل چکا ہے جبکہ موسیقی سے نفرت کرنے والے ایک قبائلی شخص کے کردار کو بھی تان میں شامل کیا گیا ہے جو حیات حویلی کو تباہ کرنے کا ارادہ لیے وزیرستان سے لاہور آتا ہے اور پھر خود سروں کا دیوانہ ہوجاتا ہے۔

ڈرامے کے ڈائریکٹر ثمر رضا کے مطابق تان میں جہاں ملک کے گھمبیر مسئلوں کی نشاندہی ہے وہیں موسیقی کے ذریعے امن اور ہم آہنگی کا پیغام بھی دیا گیا ہے: ’پروڈیوسر نے جو آئیڈیا لیا ہے وہ بہت بولڈ ہے ۔ بولڈ اس لحاظ سے کہ موسیقی اور بین المذہب ہم آہنگی کو لے کر ٹریکس بنائے گئے ہیں۔ مختلف ذات رنگ اور نسل کے کرداروں کو ایک جگہ اکٹھا کیا ہے اور موجودہ حالات میں ہلکے پھلکے انداز میں ایک مثبت پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے۔‘

Image caption نئی اور پرانی موسیقی کے تنازع کو بنیاد بنا کر پاکستان میں عدم برداشت اور مختلف گروہوں کے درمیان بڑھتی خلیج کی نشاندہی کی گئی ہے

لیکن تان میں ناظرین کی دلچسپی کے لیے صرف گانے ہی نہیں بلکہ مزاح کا پہلو بھی موجود ہے۔ اداکارہ ثنا عسکری ڈرامے میں اپنے کردار کے بارے میں کچھ یوں بتاتی ہیں ’اس کہانی میں سب کردار ہی بہت اہم ہیں ۔ اس میں کوئی ہیرو ہیروئن نہیں اور میرے کردار کی خاص بات یہ ہے کہ یہ پوری سیریل میں کامک ریلیف بھی دے رہا ہے ۔ چھوٹی چھوٹی جگتیں ہیں۔ یہ کردار نبھانے میں مجھے بہت لطف آ رہا ہے۔‘

سلمان شاہد ڈرامے میں کلاسیکل موسیقی کے استاد نور محمد کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اپنے کردار کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ’ہمیشہ سے میرا دل چاہتا تھا کہ گانا گاؤں اور ڈانس کروں اور اب یہ خواہش تان میں پوری ہورہی ہے ۔ اس ڈرامے میں کوئی ایک آدھ گانا نہیں بلکہ ہر قسط میں تین سے چار گانے ہیں اور کوئی بھی گانا زبردستی نہیں ٹھونسا گیا۔‘

تان کی عکس بندی کے لیے کوئی سیٹ نہیں لگایا گیا بلکہ اسے لاہور کی تاریخی حویلی نونہال سنگھ میں فلمایا جا رہا ہے اور خوبصورت لوکیشن اور اندرون شہر کے ماحول نے ڈرامے میں حقیقی رنگ بھر دیا ہے ۔