پران کے لیے دادا صاحب پھالکے ایوارڈ

پران
Image caption پران سکنڈ اپنی بہترین اداکاری کے لیے آج بھی مقبول ہیں

بھارتی فلم انڈسٹری اور سنیما میں بہترین خدمات کے لیے دیا جانے والا باوقار اعزاز ’دادا صاحب پھالکے ایوارڈ‘ اس برس معروف اداکار پران کو دیے جانے کا اعلان کیا گيا ہے۔

93 سالہ پران کو بھارتی فلموں میں 50 برسوں سے بھی زیادہ وقت تک ناقابل فراموش خدمات کے عوض یہ اعزاز دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پران کے بیٹے سنیل سكند نے اس فیصلے پر خوشی ظاہر کی اور کہا ہے کہ یہ پورے خاندان کے لیے بےحد مسرت کا موجب ہے۔

کیا پران کو یہ اعزاز ملنے میں تاخیر ہوئی؟ اس بات کا جواب دیتے ہوئے سنیل سكند نے کہا، ’ہمیں اس طرح کی باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔ یہ بہت بڑا اعزاز ہے اور ہم ان لمحات کا پوری طرح سے لطف اٹھانا چاہتے ہیں۔ ویسے بھی پران صاحب نے کبھی احترام یا ایوارڈ کے لیے اداکاری نہیں کی۔ یہ تو ان کا جنون اور نشہ تھا۔‘

پران گذشتہ کچھ عرصے سے بیمار ہیں اور وقتاً فوقتاً انھیں علاج کے لیے ہسپتال میں داخل کرایا جاتا ہے۔

پران نے اپنا فلمی کریئر کا آغاز 40 کے عشرے کیا تھا۔ ابتدائی کچھ فلموں میں انھوں نے بطور ہیرو کام کیا لیکن ان کی اصل پہچان ولین کے روپ میں بنی۔

1949 میں ریلیز ہونے والی فلم ’ضدی‘ اور ’بڑی بہن‘ سے ان کی پہچان ولین کے طور پر بننی شروع ہوئی تھی جو آخر تک قائم رہی۔

انہوں نے اس دور کے مشہور ہیرو جیسے راج کپور، دیو آنند اور دلیپ کمار کی کئی فلموں میں بطور ولین ناقابل فراموش کردار کیے۔

انہوں نے فلم ضدی، آزاد، مدھومتي، رام اور شیام، کشمیر کی کلی میں ویلین کے طور پر اپنی زبردست اداکاری کے جوہر دکھائے۔ فلم زنجیر، امر اکبر ایتھني، ڈان اور شرابی میں ان کے کیےگئے رول بہت معروف ہیں جو اب بھی عوام میں بہت مقبول ہیں۔

لیکن سنہ 1967 میں منوج کمار کی فلم ’اپكار‘ میں ملنگ چچا کے طور پر ان کے کردار نے انہیں ایک نئی شناخت دی جس کے بعد سے پران کو ہر فن مولا اداکار کے طور پر مانا جانے لگا۔

70 کے عشرے کے سپر اسٹار امیتابھ بچن کے ساتھ انہوں نے زنجیر، ڈان، امر اکبر اینتھني اور شرابی جیسی یادگار فلمیں کیں۔

اسی بارے میں