ودیا بالن مدر انڈیا نہیں بنیں گی

نہیں بنوں گی ’مدر انڈیا‘: ودیا بالن

ایک فلمی جریدے کے پہلے صفحے پر ودیا بالن ماضی کی مشہور اداکارہ نرگس کو یاد کرتے ہوئے ان کی ہٹ فلم مدر انڈیا کے لباس میں نظر آئیں لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر مدر انڈیا جیسی فلم دوبارہ بنے گی کو کیا اس میں کام کرنا چاہیں گیں یا نہیں تو ودیا نے اس سے انکار کر دیا۔

ودیا کہتی ہیں ’مدر انڈیا جیسی فلم دوبارہ بنانے کے لیے ہمت چاہیے اور اس میں نرگس جیسا کام کرنا ممکن نہیں ہے۔ میں ایسی کوشش بھی نہیں کروں گی کیونکہ میں ان کے جیسی اداکاری کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاؤں گی۔

یاد رہے کہ ودیا بالن آج کل اپنی فلم ’گھن چکر‘ کی تشہیری مہم میں مصروف ہیں۔ اس فلم میں ودیا بالن کے ساتھ عمران ہاشمی نظر آئیں گے۔

شردھا کے گھر کوئی سہیلی آنے کو تیار نہ تھی

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اگر کسی کے ماں باپ مشہور ہوں تو دوست یار اس سے ملنا چاہیں گے مگر شکتی کپور کی بیٹی شردھا کپور کے ساتھ بالکل اس کے برعکس ہوتا تھا۔

جلد ہی اشكي 2 میں نظر آنے والی شردھا کپور نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’میری سہیلیاں کہتی تھیں کہ پتہ ہے نیاز کے پاپا شکتی کپور ہیں جو فلموں میں ولن ہیں اس کے گھر ہم نہیں جائیں گے۔‘

تو شردھا نے اس مشکل کا حل کیسے نکالا؟

شردھا کہتی ہیں کہ ’میں نے سوچا اگر یہ سب میرے پاپا کے بارے میں ایسے ہی سوچتی رہی تو میں انہیں اپنے گھر کیسے بلاؤں گی پھر میں نے انہیں سمجھایا کہ میرے پاپا اصل میں ایسے نہیں ہیں وہ صرف سکرین پر ہی ایسے ہیں۔ جب میری سہیلیاں گھر آئی تو انہیں یقین ہو گیا کہ میرے پاپا ویسے نہیں ہیں بلکہ وہ تو بہت مزاحیہ ہیں۔‘

مذہبی گیتوں میں بالی وڈ کا تڑکا: کتنا صحیح؟

آج کل مذہبی تہواروں پر گائے جانے والے بھجن اور مذہبی گیتوں میں بالی وڈ کا اثر بہت ہوتا جا رہا ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کیا آپ کو کئی فلمی گانوں کی دھنوں پر گائے جانے والے بھجن سنائی دیتے ہیں، جیسے کہ ’چولی کے پیچھے کیا ہے‘ کی دھن پر کوئی بھجن یا پھر عمران ہاشمی کی فلم ’جنت‘ کے گانوں کی دھن پر کوئی بھجن۔

سچ بتائیے کہ جب آپ بالی وڈ کے کسی نغمے کی دھن پر بنے کسی بھجن کو سنتے ہیں تو آپ کے دماغ میں پہلی تصویر کس کی آتی ہے، مادھوری ڈکشت کی یا پھر ماں کی؟ ان گانوں کو نغمے والوں کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں؟

مذہبی گیتوں میں شہرت رکھنے والے انوپ جلوٹا کہتے ہیں کہ ’ایسا ہے کہ جس گلوکار کی جتني صلاحیت ہوگی وہ اتنا ہی تو کرے گا۔ اس نے تو صرف فلمی نغمے ہی سنے ہیں اور نغمے اسے آتے نہیں تو وہ تو ’مندر کے پیچھے کیا ہے مندر کے پیچھے‘ یہ ہی گائےگا نہ۔ ان میں سے زیادہ تر لوگوں نے موسیقی کی کوئی تعلیم نہیں لی ہوتی۔ ان میں ایسی قابليت ہی نہیں ہے کہ وہ کسی اچھے بھجن کو بنا سکیں اس لیے وہ فلمی گانوں کا سہارا لے لیتے ہیں۔‘

اسی طرح کی موسیقی میں ایک اور جانا مانا نام انو رادھا پوڈوال کا ہے جو کہتی ہیں کہ اس رجحان کے بھی دو پہلو ہیں۔

وہ کہتی ہیں’بڑی کمپنی ہو یا پھر کوئی چھوٹی کمپنی وہ تو یہی دیکھتے ہیں کہ بازار میں کیا بک رہا ہے۔ نیا گانا بنا کر اس کو استعمال کرنے میں بہت پیسہ لگتا ہے اور ہر کوئی کم سے کم رقم میں کام کر لینا چاہتا ہے۔‘

انو رادھا مزید کہتی ہیں کہ ’ہم لوگ قسمت والے تھے کہ ہمیں نئے نئے بھجن گانے کو ملے۔ آج کی تاریخ میں لاکھوں گلوکار ہیں لیکن پریشانی اس بات کی ہے کہ ان لوگوں کو صحیح موسیقار نہیں ملتے تو ایسے لوگوں کے پاس بس ایک ہی طریقہ بچتا ہے کہ کسی بھی عام نغمے کی دھن پر کوئی بھجن لكھوا لینا اور اسے گانا۔‘

اسی بارے میں