’ہمارے قومی رہنما‘ کی تقریبِ رونمائی

Image caption مصنف میر حامد علی کتاب تقریب کے صدر نگراں صوبائی وزیر برائے اوقاف و مذہبی مور سردار یٰسین کو کتاب پیش کر رہے ہیں

نگراں صوبائی وزیر اطلاعات اور معروف سندھی دانشور اور ڈرامہ نگار نور الہدی شاہ نے کہا کہ آج ہمیں نظریہ پاکستان سے زیادہ نظریہ ہم وطنی کی ضرورت ہے۔

وہ سنیچر کو آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں ممتاز دانشور اور ماہر تعلیم میر حامد علی کی کتاب ’ہمارے قومی رہنما‘ کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کر رہی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری پچھلی نسل نے پاکستان بنایا لیکن ہم اس کی دیواروں کو توڑنے میں اور بنیادوں کو برباد کرنے میں لگے ہیں۔

تقریب سے صوبائی وزیرِ اوقاف و مذہبی امور سردار یٰسین ملک، سینیٹر عبد الحسیب خان، بیرسٹر شاہدہ جمیل، سابق گورنر سندھ معین الدین حیدر، روزنامہ جنگ کے مدیر اور سینئر صحافی نذیر لغاری، ڈاکٹر عبدالوہاب، ہمدرد کی سر براہ ڈاکٹر سعدیہ راشد، بہادر یار جنگ سو سائٹی کے خواجہ قطب الدین، محمد احمد شاہ، محمود احمد خان اور دیگر شخصیات نے بھی خطاب کیا۔

’ہمارے قومی رہنما‘ کی رونمائی کا اہتمام آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی ادبی کمیٹی نے کیا تھا اور تقریب کی میزبان ڈاکٹر ہما میر تھیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نگراں صوبائی وزیر اوقاف و مذہبی امور سردار یٰسین ملک نے کہا کہ ’ہمارے قومی رہنما‘ جیسی کتاب وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ہماری نئی نسل اپنے اکابرین سے واقف سے ہو سکے۔

سینیٹر عبد الحسیب خان نے کہا کہ اس کتاب میں بہت سی ایسی سچائیاں ہیں جو کچھ لوگوں کو تلخ بھی لگ سکتی ہیں لیکن ہمیں حقائق کے بارے میں حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس کتاب کو تمام سیاستدانوں اور تاجر برادری تک پہنچانے کا وعدہ کرتے ہیں کیونکہ اس کتاب میں حامدعلی نے ہماری اس سلسلے میں رہنمائی کی ہے کہ اس وقت ملک کو بچانے کے لیے کیا چیزیں ضروری ہیں۔

Image caption ’ہمارے قومی رہنما‘ کی تقریبِ رونمائی کے موقع پر سینیٹر عبدالحسیب، بیریسٹر شاہدہ جمیل، اعجاز فاروقی، میر حامد علی، سردار یٰسین، ہما میر، ڈاکٹر عبدالوہاب، میر نواز خاں مروت، محمود احمد خاں،معین الدین حیدراور نذیر لغاری

بیرسٹر شاہدہ جمیل نے کہا کہ پاکستان بنانے میں صرف قائد اعظم اکیلے نہیں تھے ان کے ساتھ بہت سے لوگ تھے جنھوں نے آزادی کی جد و جہد میں بھر پور کردار ادا کیا، اس کتاب میں ان کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

سابق وزیر میر نواز مروت نے کہا کہ یہ کتاب ہمارے لیے ایک بہت ہی اہم ورثہ ہے۔ جس کی حفاظت ضروری ہے ۔

سابق وزیرِ داخلہ معین الدین حیدر نے کہا کہ اس کتاب میں ان لوگوں کا تذکرہ کیا گیا ہے جنھیں ہماری نئی نسل بھولتی جا رہی ہیں۔

روزنامہ جنگ کے مدیر اور سینئر صحافی نذیر لغاری نے کہا کہ پاکستان ان لوگوں کی چراہ گاہ بنا ہوا ہے جن کا اس ملک کو بنانے میں کو ئی کردارنہیں تھا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر میر حامد علی نے کہا کہ اس کتاب کو لکھنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ ہماری نئی نسل ان کے کارناموں سے آگاہ ہو سکے۔

دیگر مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم کو آج پھر مخلص،محب وطن رہنماؤں کی ضرورت ہے اور ملک کو ترقی کی راہ پر گا مزن کر نے کے لیے ہم سب کو اپنا کردار ادا کر نا ہو گا۔

تقریب میں فاطمہ ثریا بجیا، فرہاد زیدی، مسرت جبیں، معصومہ میر، پروفیسر اعجاز فاروقی، شہناز صدیقی، ڈاکٹر مختار اعظمی، ڈاکٹر آصف نیاز، کیپٹن وارث نبی، محمد عاقل ایڈوکیٹ،ساتھی اسحاق، انور عزیز کجارتہ والا، فرحان الرحمٰن ،یحییٰ بولانی اور دیگر ممتاز دانشوروں، تخلیق کاروں، قانون دانوں، تاجروں اور سیاسی و سماجی رہنما ؤں کے علاوہ لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اسی بارے میں