کیا ریئلیٹی شو بچوں کا کھیل ہے!

ریئلیٹی شو
Image caption ریئلیٹی شو میں حصہ لینے کے لیے بچے دن بھر قطار میں لگے رہتے ہیں

بھارت میں ٹیلنٹ سے منسلک ریئلیٹي شو کی دیوانگي کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ تقریباً ہر ٹی وی چینل پر ایک ایسا شونظر آ جاتا ہے جسے دیکھ کر والدین کو یہ محسوس ہوکہ ان کا بچہ بھی اس میں جا سکتا ہے۔

آج کل ایسے ہی ایک مشہور میوزک شو انڈین آئيڈل جونیئر کے آڈیشن کا اشتہار ٹی وی پر چھایا ہوا ہے۔

آپ کی قابلیت اور صلاحیت کو کروڑوں لوگوں تک پہنچانے کا یہ طریقہ بڑے لوگوں کے ساتھ ساتھ بچوں کے درمیان بھی کافی مقبول ہے جس کا ثبوت ہے آڈیشن کی طویل قطاروں صبح آٹھ بجے سے لگے بچے کا نمبر کہیں رات کو دس بجے تک آتا ہے۔

ایسے میں منتخب کرنے والے ججز کے سامنے جا کر اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کرنا اور پھر ان کی ہاں یا نہ سننا۔ کیا یہ سفر بـچوں کے لیےآسان ہے؟

تنوجا شنکر نے ریئلیٹي شو پر مبنی فیچر فلم ’میوزک میری جان‘ کی ہدایتکاری کی ہے اور انہوں نے بچوں کے کئی آڈیشن کو قریب سے دیکھا ہے۔

’میں نے ایسے بچے دیکھے ہیں جو ایک نہیں کم سے کم پچاس بار کوشش کرتے ہیں اور اس وقت تک کرتے رہتے ہیں جب تک کسی نہ کسی سطح پروہ منتخب نہیں ہو جاتے۔‘

اپنا تجربہ بتاتے ہوئے تنوجا نے کہا ’دو قسم کے بچے اس طرح کے آڈیشن میں آتے ہیں۔ ایک وہ جن کے ماں باپ اپنا خواب اپنے بچے کے ذریعہ پورا کرنے کی خواہش رکھتے ہیں اور دوسرے وہ جو اپنے والدین سے چھپ کر آتے ہیں۔‘

ان ریئلیٹي شو میں آنے والے بچوں کے خوابوں کی بات کرتے ہوئے تنوجا کہتی ہیں ’یہ شہرت کی چاہ کا ایک کیڑا ہے جو بچوں کو لگا ہوا ہے۔ جس طرح سے شو کو دکھایا جاتا ہے، ایڈیٹنگ کرکے ڈرامہ پیش کیا جاتا ہے۔ یہ بچوں کو بہت لبھاتا ہے اور ان سب کو لگتا ہے کہ وہ مشہور ہو جائیں گے۔‘

وہیں کئی ٹیلنٹ شو میں جج کا کردار ادا کر چکے میوزک ڈائرکٹر وشال کے مطابق ایسے بڑے خواب بچوں کے نہیں ان کے ماں باپ کے دماغ میں پلتے ہیں۔ بچے شو میں مشہور ہونے نہیں آتے وہ تو اس لیے آتے ہیں کیونکہ انہیں موسیقی سے یا فن سے محبت ہے۔

ٹیلنٹ شو میں آئی ہزاروں کی بھیڑ میں جہاں بچے کا منتخب ہونا خوشی کی بات ہوتی ہے، وہیں نہ منتخب ہونے پر بچے کے حوصلے پر کیا اثر پڑتا ہے؟

تنوجا کہتی ہیں ’مسترد ہوجانے کو برداشت کرنے کی طاقت کئی بار بچوں میں نظر نہیں آتی۔ کئی بار تو وہ ماننے کو ہی تیار نہیں ہوتے کی ان میں وہ ٹیلنٹ نہیں ہے جسے ڈھونڈا جا رہا ہے۔‘

Image caption ٹی پر انڈین آئیڈل کے اشتہار چھائے ہوئے ہیں

وہیں سارےگاما لٹل چیمپس جیسے مقبول شو کے ڈائرکٹر گجیندر سنگھ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار ایک شو میں حصہ لینے والی ایک لڑکی کی ماں اپنی بیٹی کے شو سے باہر ہو جانے سے اتنی مایوس ہوئی کی جج سے لڑ پڑیں۔ اس کے بعد خود گجیندر کو کیمرے کے سامنے آکر مقابلے میں حصہ لینے والی لڑکی کی ماں کو سمجھانا پڑا۔

گجیندر کہتے ہیں ’ماں باپ جس طرح سے رد عمل ظاہر کرتے ہیں اس سے مجھے بہت مایوسی ہوتی ہے کہ کیوں وہ اس پلیٹ فارم کو ہار جیت کے طور پر لیتے ہیں۔ اسے صرف اپنے بچے کی صلاحیت کو دکھانے کا ایک موقع سمجھنا چاہیے۔‘

میڈیا مبصر ونیت کمار کے مطابق یہ شو بچوں کو کافی حد تک پختہ کر دیتے ہیں۔ سوچنے والی بات یہ بھی ہے کہ اتنے بڑے شو سے باہر ہونے کے باوجود بھی وہ اتنے مایوس نہیں ہوتے جتنا کہ کم گریڈ لانے والا بچہ ہوتا ہے۔

ونیت مانتے ہیں کہ ایسے شو میں حصہ لینے والے بچے بہت جلد گلا کاٹ مقابلے کو اور زندگی کی حقیقت کو سمجھ کرکے ذہنی طور پر کافی مضبوط ہوتے ہیں۔

وہیں گزشتہ پندرہ سالوں سے ریلیٹي شو بنا نے والے گجیندر کے مطابق اب بچوں میں کافی بیداری آ گئی ہے۔ اب ان میں پڑھائی لکھائی کے ساتھ ساتھ ایسے ہنر کو سنبھالنے کا سلیقہ آ گیا ہے۔ پہلے ہم ان کے پاس چل کر جاتے تھے، اب بچے ہمارے پاس چل کر آتے ہیں۔

اسی بارے میں