کھلا ہے باب اب یارانِ نکتہ داں کیلیے

نام کتاب: ریاست و حکومت، علامہ اقبال اور عصری مسائل

تدوین و ترتیب: شیخ عبدالرشید

صفحات: 274

قیمت: 600 روپے

ناشر: شعبہ تصنیف و تالیف، جامعہ گجرات۔ حافظ حیات کیمپس، جلالپور جٹاں روڈ گجرات۔ پاکستان

جامعہ گجرات کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد نظام الدین کا کہنا ہے کہ حقیقی معنوں میں یونیورسٹی کا مقصد موجودہ علم کی ترسیل، نئے علم کی تحقیق نیز تخلیق و تجزیاتی قوتوں کی آبیاری ہوتا ہے۔ یہ فریضہ بغیر کسی علمی مجادلے، جاندار مباحثے اور گہرے تحقیقی ادراک کے ممکن نہیں۔

جامعہ گجرات کو بنے جتنا عرصہ ہوا ہے وہ جامعات کے جامعات بننے میں لگنے والے عرصوں کے تناظر میں بہت تھوڑا ہی کہلائے گا پھر بھی اُس کی سرگرمیوں کی جو اطلاعات اور وہاں جانے والوں کے جو تاثرات ہیں ان کی بنا پر قدرے یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اس کا رخ ایک ایسے مستقبل کی طرف ہے جو ہماری کئی ایک جامعات کی طرح مایوس کرنے والا نہیں۔ حالانکہ پاکستان کے سب سے پسماندہ شعبے تعلیم اور صحت ہی ہیں لیکن مقتدر قوتوں نے زبانی جمع خرچ کے سوا کبھی بھی اس حقیقت کا درکار احساس نہیں کیا کہ ایٹم بم بھی ایک ناخواندہ اور غیر صحت مند قوم کو زوال سے نہیں روک سکتا۔

ڈاکٹر نظام الدین نے موجودہ علم کی ترسیل، نئے علم کی تحقیق اور تخلیق و تجزیاتی قوتوں کو فروغ دینے کے فرض کی ادائی کے لیے جس علمی مجادلے، جاندار مباحثے اور گہرے تحقیقی ادراک کی بات ہے اُسے بھی ایک خاص ماحول اور کشادگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان میں وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ماحول میں جو تبدیلیاں آئی ہیں وہ علم کے حوالے سے انتہائی کم مثبت ہیں اسی لیے کشادگی کم سے کم ہوتی چلی جا رہی ہے۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے گذشتہ پینسٹھ سال کے دوران سکولوں کے نصاب میں لائی جانے والی تبدیلیوں کو ہی دیکھ لینا کافی ہو سکتا ہے۔

ایسا کیوں ہوا، اس کی تفصیل طویل اور سیاسی ہے۔ اس میں جانے کی یہاں گنجائش نہیں۔ مختصر یہ ہے کہ ہر آنے والے نے اس سے قطع نظر کہ وہ کیسے آیا، عمارت کو نئے سرے سے بنانے پر زور دیا اور اس میں تاریخ تک کو نہیں بخشا۔ اب حقیقت کی تلاش اندھیرے میں کالی بلی کو پکڑنے کے مترادف ہے۔

ایسے میں کسی جامعہ کا سچ مچ کے سیمینار کرانا خوش آئند ہے۔ لیکن جامعہ گجرات نے یہ سیمینار اقبال اکیڈمی کے تعاون سے کرایا۔ اکیڈمی ایک مدت سے ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جو ایک خاص نوع کی فکر کو ہی درست سمجھتے ہیں۔ انفرادی طور پر کوئی خاص سوچ رکھنا اور اُسے دوسروں تک پہنچانا یقینی طور پر بنیادی حق اور لازمی ضرورت ہے لیکن اُسے واحد درست اور دوسروں کے لیے لازمی تصور کر لینا اس تصور کے برخلاف ہے جسے ڈاکٹر نظام الدین موجودہ علم کی ترسیل، نئے علم کی تحقیق اور تخلیق و تجزیاتی قوتوں کو فروغ دینے کے فرض کی ادائی کے لیے ضروری تصور کرتے ہیں۔

جامعہ گجرات نے اپنا فرض ادا کیا، اس ماحول میں جو ہو سکتا تھا کیا۔ دستیاب سوچنے والوں، لکھنے والوں اور بات کرنے والوں کو ایک پلیٹ فارم فراہم کیا اور وسائل بھی۔انھوں نے اس موقعے کو کیسے استعمال کیا اس کا اندازہ آپ کو اُن مضامین کو پڑھ کر ہی ہو سکتا ہے جو 15 نومبر 2011 کو ’ ریاست و حکومت، علامہ اقبال اور عصری مسائل‘ کے عنوان سے ہونے والے سیمینار میں شرکا نے پڑھے۔

ڈاکٹر نظام الدین علم کی ترسیل، تحقیق اور تخلیق و تجزیاتی قوتوں کے فروغ کے لیے جس ضرورت پر زور دیتے ہیں اس کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ ان مضامین کو پڑھا جائے اور ان پر بات کی جائے تا کہ ادراک کی توسیع کے لیے مجادلے اور مباحثے کا ماحول وسیع ہو۔ ان مضامین کی کتابی شکل میں اشاعت نے اس بات کو ممکن بنا دیا ہے۔

اس کتاب میں بالترتیب، عشق کے درد مند کاطرزِ کلام اور ہے: ڈاکٹر نظام الدین افتتاحی کلمات، وہ کام جو اقبال ادھورا چھوڑ گئے: ڈاکٹر جاوید اقبال، اقبال کا سیاسی فلسفہ، اسلامی روایات کی روشنی میں: ڈاکٹر اعجاز اکرم، اقبال کا تصورِ اجتہاد اور جدید اسلامی ریاست: محمد عمر سہیل، اقبال اور سلطانی جمہور کا اسلامی تصور: فتح محمد ملک، اقبال اور جمہوریت: خورشید احمد ندیم، اقبال کا تصورِ ریاست و حکومت: ڈاکٹر طاہر حمید تنولی، خروج: کلاسیکل اور معاصر موقف کا تجزیہ فکرِ اقبال کی روشنی میں: عمار خان ناصر، اقبال اور ریاست: شیخ عبدالرشید، جہانِ تازہ کی افکارِ تازہ سے ہے نمود: ڈاکٹر نظام الدین کے اختتامی کلمات۔

اس کے علاوہ شیخ عبدالرشید نے سیمینار کے ایک مختصر رپورٹ بھی کتاب میں شامل کی ہے اور سیمینار کی رنگین تصاویر بھی کتاب کا حصہ ہیں۔

ایسی کتابوں کی اشاعت بہت ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اگر جامعہ، بے نیازی اور عدم توجہ سے آراستہ اپنی ویب سائٹ پر بھی ان مضامین کا متن اور آڈیو ویڈیو فراہم کر دے تو ان کی رسائی ان لوگوں تک بھی ہو جائے گی جن تک یہ کتاب یقیناً نہیں پہنچ سکے گی۔ ابھی تو حال یہ ہے کہ جامعہ کی مطبوعات میں بھی اس کتاب کا ذکر تک نہیں ہے۔

یہ صورتِ حال خوش امیدیوں کو حقیقتِ حال میں لانے کے لیے ناکافی نہیں۔ سننے میں تو یہ آیا تھا کہ جامعہ کو انتہائی جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے اور اس کا IT کا شعبہ بھی ہے۔

میں نے کہیں پڑھا ہے کہ اس سیمینار کے کچھ حصے یوٹیوب پر بھی دستیاب ہیں لیکن پاکستان میں تو یوٹیوب کو بھی ایک عرصے سے ناقابلِ رسائی بنا دیا گیا ہے۔ مجھے نہیں علم یہ عظیم کارنامہ کن ’صاحبان علم‘ کی بصیرت، مشوروں اور کوششوں کا نتیجہ ہے۔

اسی بارے میں