کانگاں، نیا شمارہ، پلاک کا ڈھولکی باجا

Image caption پنجابی کے سہ ماہی جریدے ’کانگاں‘ کا یہ شمارہ اُس کے سید وارث شاہ نمبر کے بعد آیا ہے

نام کتاب: کانگاں، سہ ماہی

شمارہ: جنوری تا مارچ 2013

مدیر: محمدافضل راز

صفحات: 285

قیمت: 300 روپے

ناشر: افضل راز روزن بلڈنگ، ریلوے روڈ گجرات۔

رابطہ: dailyrozan@gmail.com

پنجابی کے سہ ماہی جریدے ’کانگاں‘ کا یہ شمارہ اُس کے سید وارث شاہ نمبر کے بعد آیا ہے اور اس میں ایک بڑا حصہ ان خطوط کا ہے جن میں وارث شاہ نمبر کے بارے میں اظہارِخیال کیا گیا ہے اور سبھی لوگوں نے اسے سراہا ہے۔ مجموعی رائے یہی ہے کہ وارث شاہ نمبر تاریخ ساز کام ہے، تاہم کچھ لوگوں نے بعض کمیوں کی بھی نشاندہی کی ہے۔

اس شمارے میں اداریے اور محمد انور میر کی حمد و نعت کے بعد ’پنجابی لیکھ‘ کے عنوان سے چار مضمون ہیں۔

مجید خاور میلسی کا مضمون ’جیون کتھا ہیر رانجھا‘ کے عنوان سے ہے اور اس میں انھوں تخت ہزارہ اور رنگ پور میں ہیر اور رانجھے کی قبروں کی دریافت پر اصرار کیا ہے، جو ان کے خیال میں کوئی مشکل کام نہیں ہو سکتا۔

طارق گوجر نے ’واث شاہ تے پنجابی شناسی‘ کے عنوان سے لکھے گئے مضمون میں پنجاب سے کہا ہے کہ اُسے اپنے جغرافیے اور تاریخ کے بارے میں نئے سرے سے سوچ پرکھ کرنی چاہیے اور اس سلسلے میں وارث شاہ سے رہنمائی لی جا سکتی ہے۔

پنجابی زبان تے لگے الزام ۔ ۔ ۔ کے عنوان سے خاموش چیچیانوی نے تین الزاموں کا ذکر کیا ہے اور ان کے جواب دیے ہیں اس کے علاوہ انھوں نے پنجابی زبان کو بچانے کے لیے دس تجاویز پیش کی ہیں جن میں سے اکثر نہ صرف پنجابی بلکہ ہر زبان سے محبت کرنے والوں کے لیے قابلِ غور ہیں۔

’پنجابی زبان دی بھیڑی صورتِ حال‘ کے عنوان سے شیخ عبدالرشید نے بھی پنجابی کی بہتری کی تجاویز دی ہیں۔

کتابوں پر تبصروں کے حصے میں محمد اشفاق ایاز نے مسعود چودھری کے افسانوں کے مجموعے ’دکھ کنھوں دساں‘ کا جائزہ لیا ہے اور اسے پنجابی کے افسانوی ادب میں ایک اضافہ قرار دیا ہے۔

امجد علی بھٹی اور احمد سلیم کے مرتب کردہ گجرات پیڈیا پر رانا امین کا تبصرہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’جیسے کہ مرتبین نے خود بھی کہا ہے کہ اس میں بہت سی کمیاں ہو سکتی ہیں‘ تو گجرات سے تعلق رکھنے والے سب لوگوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ بھی اس میں اپنا حصہ ڈالیں۔

آخر میں امرتا پریتم کا ایک افسانہ ’مٹی دی ذات‘ ہے اور تبصرے کے لیے موصول ہونے والی کتابوں کی تفصیل۔ شاعری کے لیے کوئی خاص حصہ مخصوص نہیں کیا گیا اور لیکن جگہ جگہ نظمیں اور غزلیں موجود ہیں جو خموش چیچیانوی، اعزاز احمد آذر، احسان رانا اور فرحین چوہدری کی ہیں۔ فرحین کی نظم ’چُپ دی بکل تے میں‘ درد کی اچھی جمالیاتی تشکیل ہے۔

اس شمارے کی خاص چیز ’کتاب کھوج‘ کے عنوان سے کیا جانے والا کام ہے۔ اس میں افضل راز نے گجرات سے تعلق رکھنے والوں کی گجرات اور گجراتیوں کے بارے میں کتابوں کی تفصیلات جمع کی ہے۔ یہ تفصیل چار سو کتابوں پر مشتمل ہے۔ ان کا یہ کام گجرات پر تحقیق کرنے والے کسی بھی محقق کے لیے انتہائی اہم ہو گا اور بڑا وقت بچانے کا باعث ہو گا لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اگر ہر کتاب کا تھوڑا سا تعارف بھی لکھ دیتے اور یہ بھی بتا دیتے تو بہت عمدہ ہوتا کہ یہ کتاب اب کہاں موجود اور دستیاب ہے۔

اس بھی زیادہ اہم باتیں وہ ہیں جن کا ذکر اس شمارے کے اداریے میں کیا گیا ہے۔

اداریے میں پہلے پنجاب کی تقسیم کی بات کی گئی ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ بات تو اچھی نہیں ۔ ۔ ۔ لیکن اس پر غور کیا جانا چاہیے کہ یہ بات یہاں تک پہنچی کیسے؟

اس سوال کو یہیں چھوڑ کر اداریے میں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگویج، آرٹ اینڈ کلچر یعنی ’پلاک‘ کے بارے میں سوال اٹھایا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ ’ایس ادارے وچ جنی ڈھولکی، واجا وجیا اے، اینا پنجابی دا اک اک لفظ جوڑیا جاندا تے اک لغت دی کتاب بن جاندی سی۔‘ (اس ادارے میں جتنی ڈھولکی باجا بجا ہے اتنے میں پنجابی کا ایک ایک لفظ جوڑا جاتا تو ایک لغت تیار ہو سکتی تھی)

مجھے پلاک کے بارے میں زیادہ معلوم نہیں لیکن سرکاری اداروں کا حال پتا ہے۔ آئی ٹی کے اس دور میں پاکستانی زبانوں اور ادب کی ترقی اور ترویج کے لیے کام کرنے والے اداروں میں گذشتہ دس پندرہ سال تک قیادت سنبھالنے والے لوگوں پر نظر ڈالیں، ایک ایک کا نام یاد کریں اور جو اب بیٹھے ہیں انھیں بھی شامل کریں اور سوچیں کہ اب تک پاکستان کی کوئی ایک بھی زبان ویب بیسڈ کیوں نہیں ہو سکی۔ کیا آج زبان کی ترقی کے معنی انھیں معلوم نہیں؟

یہ تو نہیں ہو سکتا کہ یہ لوگ اتنے پُر از جہل ہیں کہ انھیں دنیا کی تمام زبانوں میں ہونے والے اس ناگزیر پیش رفت کا علم نہیں۔ لیکن اس دوران انھوں نے اداروں کو اقربا پروری، تعلقاتِ عامہ اور ذاتی تشہیر کے علاوہ کس کام کے لیے استعمال کیا ہے؟

سو اگر پلاک کا حال بھی کچھ ایسا ہے تو بے یقینی اور حیرانی کی بات نہیں، اس کا رونا کس کے سامنے رویا جائے، کم از کم کوئی تو ایسا ہونا چاہیے جو خوشامد پرستوں کی باتیں بھی سنے اور ان سے ہٹ کر بھی سوچ سکے۔

میڈیا کا کام توجہ دلانا ہوتا ہے سو یہ کام کانگاں نے کر دیا ہے۔ اب نقارخانے میں طوطی کی آواز کہیں پہنچتی ہے نہیں پہنچتی یہ ایک الگ معاملہ ہے۔

اس شمارے میں گجرات اور گجراتیوں کے بارے میں چار سو ایسی کتابوں کی تفصیل ہے جو گجرات پر تحقیق کرنے والے کسی بھی محقق کے لیے انتہائی اہم ہو گی۔

اسی بارے میں