’کاش میں اس دور میں ہیروئن ہوتی‘

مالا سنہا
Image caption مالا سنہا کی بہترین فلموں میں بہور رانی اور جہاں آرا بھی شامل ہے

بھارت کی معروف ادا کارہ اور ’پیاسا‘، ’دھول کا پھول‘، ’آنکھیں‘،’گمراہ‘ اور ’میرے حضور‘ جیسی سدا بہار فلموں میں اپنی اداکاری کا جوہر دکھانے والی مالا سنہا عصر حاضر کے سنیما سے بہت متاثر ہیں۔

ممبئی میں دادا صاحب پھالکے اکیڈمی کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب میں انھوں نے کہا ’میرے خیال سے سنیما میں آنے والی تبدیلی اچھی ہے۔ ہمارے زمانے میں فلمیں خاصی سست رفتاری کے ساتھ بنتی تھیں، اب تو ٹیکنالوجی بہت آگے پہنچ چکی ہے۔ کاش میں اس زمانے میں کام کر رہی ہوتی‘۔

انہوں نے مزید کہا ’ہم آج کے زمانے میں ہوتے تو سچ میں بہت لطف آتا۔ ٹیکنالوجی کی مدد سے ہمیں کافی سٹنٹس کرنے کو ملتے اور ہم اس کا فائدہ اٹھاتے‘۔

واضح رہے کہ بھارت میں ہندوستانی سینما کی صد سالہ تقریب کا اہتمام کیا جا رہا ہے اور اسی نسبت سے فلم انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات جن میں مالا سنہا بھی شامل ہیں کو فلم انڈسٹری میں ان کی خدمات کے اعتراف میں اعزاز دیا جا رہا ہے۔

مالا سنہا نے 60 اور 70 کی دہائیوں کی متعدد فلموں میں اپنی خوبصورتی اور اداکاری سے شائقین کا دل جیت لیا تھا۔ ان کی مشہور ترین فلموں میں ’گیت‘، ’ہمالیہ کی گود میں‘ اور ’جہاں آرا‘ شامل ہیں۔

فلم ساز بی آر چوپڑا کی فلم ’گمراہ‘ کو وہ اپنی پسندیدہ فلم مانتی ہیں۔ اس فلم میں ان کے ساتھ سنیل دت، اشوک کمار اور نمّي نے اہم کردار ادا کیے تھے۔ اس تقریب میں نمّي بھی مالا سنہا کے ساتھ موجود تھیں۔

مالا سنہا فلم انڈسٹری کا حصہ ہونے پر فخر محسوس کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا ’فلم انڈسٹری نے کولکتہ سے آئی میرے جیسی عام سی لڑکی کو بلندیوں پر پہنچا دیا۔ اسی نے میرے اندر کے ٹیلنٹ کو پلیٹ فارم عطا کیا‘۔

ہندوستانی سنیما کے دادا کہے جانے والے دادا صاحب پھالکے کی سالگرہ 30 اپریل کو ہے۔

انہیں یاد کرتے ہوئے مالا سنہا نے کہا ’دادا صاحب کی وجہ سے ہی ہم تمام فنکاروں کی آج تک دال روٹی چل رہی ہے۔ وہ نہ ہوتے تو ہم میں سے کوئی بھی نہ ہوتا‘۔

بھارت میں پہلی فلم بنانے والے دادا صاحب کی یاد میں دادا صاحب پھالکے اکیڈمی کی طرف سے منعقد کی جانے والی ایک تقریب میں آشا بھونسلے، مالا سنہا، پریم چوپڑہ، مرحوم یش چوپڑا اور مرحوم راجیش کھنہ جیسی شخصیات کو اعزاز سے نوازا جائے گا۔

اسی بارے میں