ایک رقاصہ کی بغاوت

یہ دنیا میں شاید کسی حکومت کا تختہ الٹنے کا سب سے عجیب و غریب منصوبہ ہوگا جسے ایک برطانوی سفارت کار نے ’اٹکل پچو مزاح‘ قرار دیا۔

کہانی کچھ یوں ہے کہ کیسے ایک مشہور رقاصہ ڈیم مارگوٹ فونٹین اور ان کے پانامین شوہر نے ایک من موجی برطانوی فیشن ماڈل جوڈی ٹیتھم کے ساتھ مل کر پانامہ کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش۔

جوڈی ٹیتھم نے نصف صدی قبل کے اس فرار کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’وہ سب کچھ بہت غیر سنجیدہ تھا اور میں نے یہ بس دل لگی کے لیے کیا تھا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’مارگوٹ کا خیال تھا کہ ان کے شوہر پانامہ کے سربراہ بن جائیں گے اور وہ ملک کی ملکہ، ان کا کردار کچھ رومانوی قسم کا تھا اور میرا کردار ایک دوست کی مدد کرنا تھا‘۔

اٹلی کے دلکش اور حسین نظاروں والے علاقے ٹسکنی میں اپنے خوبصورت گھر میں بیٹھی ٹیتھم جن کی عمر اب ستاسی برس ہو چکی ہے۔ چاہتی ہیں کہ وہ اپنی مشہور دوست سے وابستہ یادوں کا دوسروں کے ساتھ تبادلہ کریں اور اس تقریباً مزاحیہ بغاوت کی کہانی بھی۔

Image caption جوڈی ٹیتھم اور ڈیم مارگوٹ پانامہ میں حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام کوشش کے ایک ہفتے بعد لندن میں

اس سے قبل ٹیتھم نے شاہد ہی اس بارے میں بات کی ہو اس دور کے بارے میں جو شاید شمالی لندن کے ایک وکیل کی اس خوش گفتار بیٹی کے لیے کچھ خوف کا دور تھا۔

یہ اپریل انیس سو انسٹھ کے اوائل کا ذکر ہے جب ٹیتھم جو خود اپنے آپ کو ’من موجی، بے تکلف یا سادہ مزاج‘ کہتی ہیں کو نیو یارک میں ماڈلنگ کا کام ڈیم مارگوٹ کے توسط سے ملا۔ انہیں دنوں مارگوٹ اپنے شوہر روبرٹو ’ٹیٹو‘ ایریاس کے ساتھ نیو یارک میں تھیں جو پانامہ کے ایک سابق صدر کے بیٹے تھے اور جن کا لبرل خاندان صدر ارنیسٹو ڈی لا گاردیا کے اقتدار کا مخالف تھا۔

یہ تینوں ایک دن صبح کے ناشتے کے لیے نیویارک کے پلازا ہوٹل میں ملے اور وہاں ڈیم مارگوٹ اور ایریاس نے ایک عجیب سی درخواست ٹیتھم کے سامنے رکھی۔ انہوں نے کہا ’کیا آپ میرے لیے کچھ شرٹس لا سکیں گیں؟‘ ٹیتھم نے کہا ہاں کیوں نہیں کیونکہ وہ مارگوٹ کے لیے کچھ کرنے کے لیے پرجوش تھیں۔

میں نے پوچھا ’کتنی؟‘یہ سوچتے ہوئے کہ شاید دو یا تینں درکار ہوں گی، ٹیٹو نے جواب دیا ’تقریباً پچاس‘۔

میں اس پر بہت حیران ہوئی لیکن ادب کو ملحوظ رکھتے ہوئے میں نے ان سے ان شرٹس کے سائز پوچھے ’چھوٹی، درمیانی یا بڑے سائز کی‘۔

انہوں نے جواب دیا مگر ہماری گفتگو ہر گزرتے لمحے کے ساتھ عجیب تر ہوتی جا رہی تھی۔ پھر میں نے پوچھا ’کن رنگوں میں؟‘ ڈیم مارگوٹ نے ایک لمحے کے لیے توقف کیا اور کچھ سوچنے کے بعد ہوٹل کے شوخ سبز قالین پر نظر ڈالتے ہوئے جلدی سے بولیں ’اس طرح کے کیلی گرین رنگ میں مگر کسی صورت میں بھی خاکی نہ ہوں‘۔

Image caption بی بی سی کے مائک لینچن نے جوڈی ٹیتھم کا انٹرویو بی بی سی ورلڈ سروس کے پروگرام وٹنس کے لیے لیا

اور یہ سب کچھ یہیں ختم نہیں ہوا بلکہ مارگوٹ اور ٹیٹو چاہتے تھے کے ٹیتھم اپنے تعلقات استعمال کر کے نیو یارک کے تاجروں سے اتنے ہی کلائی پر باندھنے والے آرم بینڈ حاصل کرے جو ان شرٹس پر استعمال کیے جا سکیں۔

اب یہ ٹیتھم کی باری تھی کہ وہ کچھ پوچھے کیونکہ نہ ہی ڈیم مارگوٹ اور نہ ہی ایریاس نے اسے کوئی وضاحت پیش کی کہ وہ کیا کرنے جا رہے ہیں مگر ان پر اب کچھ کچھ بات واضح ہوتی جا رہی تھی۔

کسی انقلاب کا ذکر نہیں کیا گیا تھا اور اس کے بارے میں پوچھنا آداب کے برخلاف تھا مگر اس موقعے پر میں نے ٹیٹو سے پوچھا ’اگر تم کسی منصوبے پر کام کر رہے ہو تو میری ایسٹر کی چھٹیاں آنے کو ہیں اور میں اس میں شامل ہونا چاہوں گی نہ کہ اس کے باہر رہنا۔‘

اس پر ٹیٹو نے فوری جواب دیا ’ٹھیک ہے تم آرم بینڈز بھی لے آنا‘۔

اس کے بعد ٹیتھم نے پانچ سو کیلی گرین رنگ کی شرٹس خریدیں اور انہیں ایریاس کے حوالے کیا اور اس کے بعد مشرقی نیو یارک میں واقع ایک غلیظ جگہ پر واقع ایک شخص کی ورکشاپ گئیں تاکہ آرم بینڈز بنوا سکیں۔

جب جوڈی وسطی امریکہ جانے سے پہلے اپنا سامان باندھ رہی تھیں تب ان پر یہ خیال مسلط تھا کہ وہ کیسے یہ سب سازوسامان کسٹم سے ملک میں سمگل کریں گیں۔

انہیں اپنی حاضر دماغی پر بہت مان تھا اور کہانی جاری رکھنے سے قبل وہ کہتی ہیں کہ ’میں نیویارک کے ایک ڈیپارٹمنٹ سٹور میسیز کے سامنے سے گزر رہی تھی جب میں نے اس کے سامنے چند بڑے ڈبے رکھے ہوئے دیکھے جن میں صفائی کے لیے تولیے رکھے تھے اور میں نے وہ خرید لیے‘۔

یہ سب سامان اپنے فلیٹ میں واپس رکھنے کے بعد انہوں نے آرم بینڈز ان میں گھسیڑے اور ہوائی اڈے روانہ ہو گئیں۔ کسی نے بھی اس نوجوان حسین ماڈل کو روکنے کا سوچا اور یہ پوچھنا گوارا نہ کیا کہ اسے کیوں اتنی بڑی تعداد میں صفائی کے تولیے چاہیے۔ جب وہ پانامہ کے ہوائی اڈے سے گزر کر ایریاس کے خاندانی گھر پہنچیں۔

اگلے ایک ہفتے تک ڈیم مارگوٹ سے کہیں بھی ملاقات نہیں ہوئی جبکہ ایریاس نے انہیں پانامہ میں گھمایا پھرایا۔

انہوں نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ سب بہت قدیم لگتا تھا اور ہم نے جنگل کے کئی سادہ سے ریستورانوں میں کھانا کھایا اور ہم نے پارٹیاں کیں مگر ان میں کہیں بھی بغاوت کا کوئی ذکر نہیں تھا‘۔

ٹیتھم نے بتایا کہ ’میں نے اس بارے میں پوچھنے کو برا خیال کیا‘ مگر ایریاس کی بہن روزاریو نے یہ موضوع چھیڑا جس پر ٹیتھم کو کچھ تسلی ہوئی مگر روزاریو نے اسے پریشان نہ ہونے کا کہتے ہوئے کہا کہ ’صدور کا تختہ الٹنے کا کام ہمارا خاندان نہیں کرتا‘۔

ٹیتھم نیو یارک واپس آ گئیں مگر ان کے پاس کچھ زیادہ تفصیلات نہیں تھیں۔

Image caption ہاؤس آف کامن میں شیڈو سیکرٹری انرین بیون نے اپنے بیان میں ان کی پانامہ سے رہائی کی خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ’برطانوی عوام انہیں راج ہنس کے روپ میں دیکھنے کے بعد کسی صورت میں بھی قید میں بند بطخ کے روپ میں نہیں دیکھ سکتے تھے۔‘

ایسا بہت عجیب لگے گا مگر ٹیتھم کا کہنا ہے کہ انہیں ڈیم مارگوٹ کے پانامہ میں ہونے والے واقعات میں ملوث ہونے کی حد کے بارے میں علم بہت سال بعد ہوا اور یہ کہ ان وردیوں اور آرم بینڈز کا کیا بنا۔

انہیں سو انسٹھ کے دور کے بارے میں برطانوی حکومت کی خفیہ فائلیں جنہیں دو ہزار دس میں جاری کیا گیا ظاہر کرتی ہیں کہ کیسے کہ ’ایک اٹکل پچو مزاحیہ پروگرام‘ سے برطانوی سفیر سر ائین ہینڈرسن کی توجہ اکیس اپریل انیس سو انسٹھ کے دن اس جانب مبذول ہوئی۔ اسی دن انہیں ڈیم مارگوٹ کی پانامہ شہر میں حیران کن گرفتاری کی اطلاع بھی ملی۔

وہ اور ان کے شوہر ایریاس ایک لگژری یاٹ (ایک کشتی جو تفریحی مقاصد کے لیے استعمال کی جاتی ہے) میں آبنائے پانامہ میں تھے جہاں انہوں نے ساحل پر لنگر انداز ہو کر اسلحہ حاصل کرنا تھا اور ایک بڑی قومی شاہراہ پر قبضہ کرنا تھا۔

ہوا یوں کے مقامی مچھیروں نے مزاحمت کی اور انہیں فرار ہونے پر مجبور کر دیا۔ جب ڈیم مارگوٹ گرفتار ہوئیں ایریاس اس وقت بھی مفرور تھے۔

منصوبہ کچھ یوں تھا کہ طلبا کے ایک گروہ نے دارالحکومت میں مزاحمت کا آغاز کرنا تھا مگر انہوں نے جلد بازی کی اور وقتِ مقررہ سے پہلے ہی کارروائی شروع کر دی جس سے حکام حرکت میں آگئے۔ اس کے علاوہ کیوبا کے فیدل کاسترو کی طرف سے بھجوائے گئے باغی جنہیں بحراوقیانوس کے ساحل پر اترنا تھا بھی نہیں پہنچے۔

ہینڈرسن نے ایک ٹیلی گرام میں لکھا کہ وہ ڈیم مارگوٹ کے رویے سے خوش نہیں ہیں اور ان کے خیال میں ان کا رویہ کسی صورت بھی ’ایک برطانوی شہری کے شایانِ شان‘ نہیں تھا۔

انہوں نے سفارت خانے کے عملے کی مدد سے رقاصہ کو رہا کروایا اور ایک جہاز پر سوار کروا کر امریکہ روانہ کر دیا جہاں ہوائی اڈے سے انہوں نے ٹیتھم کو کال کی۔ مارگوٹ پہلے کی طرح اس بارے میں مکمل طور پر خاموش رہیں کہ وہ کیا کرتی رہی ہیں اور ایک بار پھر ٹیتھم نے مداخلت نہ ہی کرنے کا سوچا۔

نیو یارک میں موجود برطانوی سفارت کاروں کے اسرار پر ان دونوں کو ایک پرواز پر سوار کروا کے لندن بھجوا دیا گیا۔

ٹیتھم کا کہنا ہے کہ مجھے پائلٹ کے دروازے سے باہر نکالا گیا جبکہ مارگوٹ صحافیوں کا سامنا کرنے دوسری طرف سے گئیں۔

اس دور کی نیوز فوٹیج سے ظاہر ہوتا ہے کہ کیسے ایک خاموش مارگوٹ صحافیوں کی جانب سے ایک بیرونی حکومت کا تختہ الٹنے کے بارے میں سوالات کو ہنسی میں اڑا دیتی ہیں۔

ایک رپورٹر نے پوچھا ’کیا آپ کے پاس پانامہ میں ایک بندوق تھی؟‘ جس پر مارگوٹ نے جواب دیا کہ ’میں اس بات کا جواب نہیں دوں گی کیونکہ آپ اندازہ لگا لیں گے کہ میرے پاس بندوق تھی یا نہیں۔‘

اس کے بعد سے ٹیتھم کبھی نیو یارک واپس نہیں گئیں جہاں انہوں نے کئی دوست احباب، ایک فلیٹ اور ملازمت چھوڑی۔ وہ اور ڈیم مارگوٹ واپس پہنچنے کے کچھ دنوں بعد ایک دوسرے سے لا تعلق ہو گئے اور اس کے بعد کبھی نہیں ملے۔

ڈیم مارگوٹ اور ایریاس بالآخر پانامہ واپس گئے جہاں انہوں نے رہائش اختیار کی اور جہاں مارگوٹ کا انیس سو اکانوے میں انتقال ہوا۔

اس واقعے کے پانچ دہائیوں بعد جوڈی اپنی ایک زمانے کی دوست کے بارے میں زیادہ سخت باتیں کرنے کو تیار نہیں تھیں۔

انہوں نے کہا کہ ’مارگوٹ کو اس بات کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔ انہیں اس بات کا کوئی اندازہ نہیں تھا ان کے لیے یہ ایک دل لگی تھی کچھ ایڈونچر یا مہم جوئی۔ انہوں نے سوچا یہ بہت زبردست ہو گا اور میں نے بھی یہی سوچا تھا۔‘

اسی بارے میں