سیمنٹ انجینئر سے مستنصر حسین تارڑ تک

اسلام آباد ادبی میلے کا پہلا روز

اسلام آباد لٹریچر فیسٹول (آئی ایل ایف) کے پہلے دن کے پہلے دور میں تین اجلاس ہوئے جس میں پہلے دور کا سب سے اہم اجلاس عہد حاضر میں اردو فکشن کے اہم ترین ادیب عبداللہ حسین کی ریڈنگ اور ان سے گفتگو پر مشتمل تھا۔ اس اجلاس کے موڈریٹر محمد احمد شاہ تھے۔

محمد احمد شاہ کے اس سوال پر کہ آپ نے تو بنیادی طور پر سیمنٹ انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی تھی پھر یہ فکشن کہاں سے آگیا؟ عبداللہ حسین دھیمی آواز میں ہنسے اور کہا کہ یہی سیمنٹ کی انجینئرنگ انھیں فکشن کی طرف لائی۔

انھوں نے کہا ’ہوا یوں کہ جب مجھے پہلی ملازمت ملی اور میں گیا تو میرے روزانہ چھ آٹھ گھنٹے ایسے ہوتے تھے، جن میں کوئی کام نہیں ہوتا تھا۔ یہ بات جان لیں کہ جہاں سیمنٹ فیکٹری ہوتی ہے وہ ایک مکمل سنگلاخ یا پہاڑی ویرانہ ہوتا ہے اور ایسا ویران کہ عام طور پر درخت تک نہیں ہوتے۔

’کچھ دن یوں گذارنے کے بعد میں نے سوچا کہ کچھ لکھنا چاہیے، لکھنے بیٹھا تو یوں ہی خیال آیا کہ کہانی لکھنی چاہیے۔ کہانی شروع کی اور کہانی چلی تو چلتی چلی گئی اور مجھے لگا کہ میں نے ایک مصیبت گلے میں ڈال لی ہے، خیر میں سوچا کہ دیکھیں کہا جاتی ہے اور وہ بڑھتے بڑھے سینکڑوں صفحوں پر پھیل گئی۔

’جب اسے پڑھ کر دیکھا تو خیال ہوا کہ یہ تو ناول سا بن گیا ہے اور اچھا بھی لگ رہا ہے۔ لاہور میں چار جاننے والوں سے بات کی تو انھوں نے کتابیں چھاپنے والے ادارے کا بتایا۔ میں نے جا کر ناول ان کو دے دیا انھوں کہا چند ہفتوں میں بتاتے ہیں کہ چھاپیں گے یا نہیں۔ میں نے کہا ٹھیک ہے۔

چند ہفتوں بعد معلوم کیا تو انھوں نے کہا کہ ناول تو ٹھیک ہے اور ہم چھاپیں گے بھی لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آپ کو تو کوئی جانتا ہی نہیں ہے۔ اس لیے پہلے آپ کچھ کہانیاں لکھ کر دیں، ہم انھیں چھاپیں گے، ان سے لوگ آپ کو جان جائیں گے تو پھر ہم اس ناول کو چھاپ دیں گے۔

میں نے انھیں کہانی لکھ کر دی۔ یہ کہانی’ندی‘ کے نام سے ان کے رسالے سویرا میں چھپی۔ اس کے بعد میں نے ان سے جا کر پوچھا کہ اور کہانی کب دینی ہے تو انھوں نے کہا اس کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ چاہیں تو اور لکھیں، نہ چاہیں تو نہ لکھیں۔ ناول کو چھپنے کے لیے جتنی پہچان چاہیے وہ تو اس ایک کہانی نے ہی آپ کو دلا دی ہے۔ اس طرح یہ ناول چھپ گیا۔

یہ بات تو بعد میں پتا چلی کہ جب میں انھیں ناول دیا تو انھوں نے یہ ناول حنیف رامے، محمد سلیم الرحمٰن اور صلاح الدین کو پڑھنے کے لیے دیا تھا اور انھوں نے رائے دی تھی کہ ناول اچھا ہے۔ اسے چھپنا چاہیے۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ لوگوں نے اس ناول کو کیوں پسند کیا عبداللہ حسین نے کہا ’اب اس ناول کو لوگوں نے کیوں پسند کیا، اس کے بارے میں تو میں اب تک نہیں جان سکا لیکن یہ ہے کہ اس کا ایک عنصر اس کی زبان بھی تھا۔ میرے ہاں زبان روایتی نہیں ہے اس میں انگریزی کے لفظ بھی آ جاتے ہیں اور پنجابی کے بھی، تو اس کا رنگ کچھ مختلف سا ہو جاتا ہے۔‘

عبداللہ حسین نے ایک اور سوال کے جواب میں بتایا کہ اس کے بعد انھوں نے تیرہ سال تک کچھ نہیں لکھا۔ ’ہاں کہانیاں لکھیں۔ لیکن اس کے بعد باگھ لکھا۔ اب باگھ کو ادبی حلقے زیادہ پسند کرتے ہیں اور زیادہ اہم بھی سمجھتے ہیں۔ وہ سنجیدہ ادبی حلقوں کی پسند ہے جو ظاہر ہے تعداد کے اعتبار سے کم ہوتے ہیں۔‘

انگریزی ناول کے بارے میں انھوں بتایا کہ جب وہ لندن چلے گئے تھے تو انھوں نے کلیپہم میں ایک بار لے لیا اور اسی دوران ان لوگوں کے بارے میں ایک ناول لکھنا شروع کیا جو ہمارے ہاں سے غیر قانونی طور پر جاتے ہیں اور پھر وہاں چھپ چھپ کر رہتے ہیں۔

اس ناول پر فلم بننے کے بارے میں انھوں بتایا کہ لندن میں ان کے بار میں زیادہ تر ادب، آرٹ اور فلم وغیرہ سے متعلق لوگ آتے تھے۔ ان میں ایک نوجوان ڈائریکٹر، جو خاصا نام بنا چکا تھا، نے ایک رسالے پر میری تصویر دیکھی اور پوچھا کہ تمھاری تصویر کیوں چھپی ہے تو میں نے اسے بتایا کہ یہ ادبی رسالہ ہے اور میں ادیب بھی ہوں۔

’اس پر اس نے تفصیل جانی اور پھر مجھے پوچھا کہ آج کل کیا کر رہے ہو تو میں نے بتایا کہ ایک ناول لکھ رہا ہوں اس نے کہانی پوچھی تو میں نے کہانی بھی بتا دی۔ اس نے مجھ سے ایک صفحے کا سناپسس لکھوایا اور فلمساز کے پاس لے گیا۔ اسے کہانی پسند آئی اور ایسے اس کی فلم بن گئی۔‘

عبداللہ حسین نے کہا کہ ان کے تمام ناول اور کہانیاں اصل میں تو محبت کی کہانیاں ہیں اور اب جو ناول لکھ رہے ہیں وہ بھی محبت کے بارے میں ہے۔ اس ناول کا نام ’دی افعان گرل‘ ہے۔ ’یہ ایک افغان خاتون کی کہانی ہے جو صحافی ہے اور جسے 80 کی دہائی میں ہونے والے افغان جہاد کے دوران، جو روسی مداخلت کے خلاف کیا گیا تھا اور دس سال جاری رہا تھا، ایک سی آئی ایجنٹ سے محبت ہو جاتی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ وہ یاداشتیں لکھ رہے ہیں جو فکشنائزڈ ہیں۔ اب پتا نہیں لوگ انھیں کیا قرار دیتے ہیں۔

آئی ایل ایف کے پہلے دن کے دوسرے دور ایک اہم اجلاس میں شرکا نے اس پر تشویش کا اظہار کیا کہ پاکستان میں بچوں سے مشقت کا رحجان بڑھ رہا ہے۔

دوسرے دور میں ’بچوں سے مشقت کی سیاست‘ کے عنوان سے ہونے والے اس اہم اجلاس میں سمر من اللہ خان، انیس جیلانی، فواد عثمان اور ڈاکٹر تیمور رحمٰن نے گفتگو کی۔ اس اجلاس کی موڈریٹر بیلا جمیل تھیں۔

اس اجلاس یں بتایا گیا کہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بچوں سے مشقت کے رحجان میں کمی آنے کی بجائے اضافہ ہوا ہے اور یہ کسی ایک نہیں ہمارے معاشرے کے تمام حلقوں کی ناکامی ہے۔

کہا گیا کہ اس ناکامی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ملک میں کوئی قانون نہیں ہے اگر قانون ہو تو مطالبہ کیا جا سکتا ہے کہ اس قانون پر عمل کیا جائے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ قانون بنانے کا عمل پاکستان میں بہت پیچیدہ ہے اور پیچیدگی یہ ہے کہ قانون، قانون ساز نمائندے نہیں بناتے بلکہ بیوروکریسی بناتی ہے اور بیورو کریسی کو ایسے کسی قانون میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

اس بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ بعض این جی اورز اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ اسمبلیوں میں جانے والے نمائندے قانون بناتے ہیں اس لیے وہ ان کے ساتھ لابنگ کرتے ہیں اور انھیں اس بات کا ہم نوا بنانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ اس مقصد کے لیے قانون سازی کرائیں لیکن وہ تو بے بس ہوتے ہیں۔

قانون سازی کے لیے دوسری اہم بات حکومتی رضامندی ہے۔ سول حکومتوں کو بھی اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ ہو بھی تو ان کی چلتی نہیں ہے۔ کوئی ایک بھی سیاسی جماعت نہیں ہے جس کی ترجیحات میں بچوں سے مشقت کا خاتمہ ہو۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ پنجاب حکومت نے لیپ ٹاپس پر تین ارب روپے خرچ کیے۔ یہ غلط بات نہیں ہے لیکن دیکھنا یہ چاہیے کہ زیادہ ضرورت کہاں ہے۔ یہی رقم اگر بنیادی تعلیم پر خرچ کی جاتی یا بچوں سے مشقت ختم کرانے پر خرچ کی جاتی تو خاصا فرق پڑ سکتا تھا۔ کیونکہ اس وقت پاکستان میں تین کروڑ بچے ہیں جو سکول جانے کی عمروں میں ہیں لیکن ان سے ساٹھ فیصد سکول نہیں جا پاتے۔

ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ بچوں سے مشقت کا خاتمہ کوئی ناممکن بات نہیں ہے۔ اسے امریکہ، جاپان اور مغربی یورپ میں بھی ختم کیا گیا ہے تو یہاں بھی ہو سکتا ہے۔ اور جہاں جہاں بچوں سے مشقت ختم ہوئی ہے وہاں وہاں اس کے نتائج صاف اور سامنے ہیں۔

طبقاتی حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ بچوں سے مشقت بنیادی طور ہے ہی طبقاتی مسئلہ۔ لیکن یہ بھی درست ہے اب پاکستان میں بچوں سے جبری مشقت انتہائی کم ہے اور تقریباً تمام ہی رضا کارانہ ہے۔

اجلاس میں اصرار کیا گیا کہ کم از کم تمام تعلیم یافتہ لوگوں کو اس پر بات کرنی چاہیے اور جہاں جہاں، خاص طور پر گھروں میں جہاں بچوں کو ملازم رکھا جاتا ہوں، اس مسئلے کو اٹھایا جائے۔

پہلے دن کے تیسرے دور کا ایک اہم اجلاس ’پاکستان کی طبقاتی ساخت‘ کے عنوان سے تھا۔ اس اجلاس میں ڈاکٹر تیمور رحمٰن نے گفتگو کی۔ تیمور رحمٰن اس عنوان سے ایک کتاب کے مصنف بھی ہیں جسے آکسفرڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا ہے۔ اس اجلاس کے موڈریٹر رضا رومی تھے۔

تیمور رحمان نے بتایا کہ برصغیر میں بھی بنگال میں قحط پڑنے تک انگریزوں کو احساس نہیں ہوا کہ وہ کیا کر رہے ہیں اس لیے انھوں نے بنگال ایکٹ نافذ کیا اور زمینوں کی ملکیت کا نظام تبدیل کیا اس طرح پنجاب اور سندھ میں بھی 1857 کا سیٹلمنٹ ایکٹ نافذ کیا گیا اور نجی ملکیت کو رائج کیا گیا۔ اسی کے نتیجے کاروباری اور صنعتی طبقہ پیدا ہوا۔

انھوں نے پورپی پس منظر بیان کرنے کے بعد کہا کہ پاکستان میں ٹریڈنگ کلاس اپنے مقاصد کے لیے فوجی حکمرانی پر زور دینے لگی۔ اس کا اندازہ پہلے فوجی دورِ حکومت سے کیا جا سکتا ہے جس میں ٹریڈنگ کی ترقی اور اس میں سے صنعتی کلاس بنانے اور اسے ترقی دینے کی کوششیں سرکاری سطح پر کی گئیں۔

انھوں نے فیوڈل ازم کی بات کرتے ہوئے کہا کہ اس میں جو ذات برادریوں کا نظام جنم لیتا ہے اس کے خلاف ہونے والی ہر کوشش کو یہ اپنے حق میں استعمال کر لیتا ہے۔ مثلاً صوفیوں نے بغاوت کی تو فیوڈل خود پیر اور گدی نشین بن کے بیٹھ گئے۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ نوآبادیاتی دور میں سرمایہ داری نظام کو جبراً متعارف کرایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کے لیے سرمایہ داری ناگزیر ہے۔ اور طبقاتی ساخت کو تبدیل کرنے کے لیے جمہوریت ناگرزیر ہے۔

اس سے پہلے جو بھی ہوگا وہ پائیدار نہیں ہوگا جیسے ستر کی دہائی میں ہونے والی زرعی اصلاحات شرعی عدالت نے ختم کر دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی نظام میں موجودہ سیاسی جماعتوں سے بھی کسی تبدیلی کا آنا ممکن نہیں۔

پہلے دن کے چوتھے دور کا اہم اجلاس میں مین بُکر انٹر نیشنل کے فائنلسٹ انتظار حسین نے گفتگو کی۔ اس اجلاس میں کتابی سلسلہ، دنیا زاد کا مین بُکر انٹرنیشنل کے حوالے سے مرتب کیا جانے والا خصوصی شمارہ بھی پیش کیا گیا۔

آصف فرخی سے گفتگو کرتے ہوئے انتظار حسین نے بتایا کہ انھیں ہمیشہ خود پر ہونے والی تنقید سے بہت فائدہ ہوا ہے۔ اس کے لیے انھوں نے ’آخری آدمی‘ کی مثال دی اور کہا کہ اس پر بہت تنقید کی گئی لیکن پھر اسے ایک علامتی افسانہ بنا لیا گیا۔ اسی طرح بستی پر بھی پہلے بہت تنقید کی گئی لیکن پھر اسے قبول کر لیا گیا۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا ’ایک زمانے میں افسانہ نگار کہا کرتے تھے کہ وہ فلاں سے بہت متاثر ہیں فلاں سے بہت متاثر ہیں تو جب مجھ سے پوچھا کہ میں کہانی کاری میں کس سے متاثر ہوں تو میں نے کہہ دیا کہ چیخوف اور نانی اماں سے۔‘ انھوں کہا کہ گوتم بدھ، چیخوف اور نانی اماں والی تثلیث بعد میں بنی۔

انتظار حسین نے کہا کہ بعد میں انھوں نے سوچا کہ یہ میں نے کیا کہہ دیا اور اس کے بعد میں بدھا کی جاتکیں پڑھیں۔ کتھا کہانی سے میری آشنائی ہوئی۔ میں سکالر نہیں ہوں لیکن میری رائے میں تو افسانہ مہاتما بدھ پر ختم ہے۔ مجھے ان کی کہانیوں نے اس قدر متاثر کیا کہ ایک زمانے تک میں جب مجھ سے کوئی عمر پوچھتا تھا تو میں یہی کہتا کہ میں تو بدھ کے زمانے کا ہوں۔

ماضی کے بارے میں کیے جانے والے ایک اور سوال کے جواب میں انتظار حسین نے کہا کہ طالب علمی کے زمانے میں وہ سرشار اور پھر پریم چند سے بہت متاثر تھے اور کرشن چندر کو تو ایک زمانے تک سب سے بڑا افسانہ نگار سمجھتے تھے۔

ان کا افسانہ ’ڈیڑھ فرلانگ لمبی سڑک‘ نے تو عسکری صاحب کو بھی متاثر کیا اگر انھوں نے یہ افسانہ نہ لکھا ہوتا تو عسکری صاحب کبھی بھی جوائیس وغیرہ کی طرف نہ جاتے۔

انھوں کہا کہ اب تو کوئی نقاد منٹو اور بیدی کا نام لیے بغیر نوالہ نہیں اٹھاتا۔ اس اجلاس میں انھوں نے سعادت حسن منٹو سے بھی اپنی ملاقات کا حال بیان کیا۔

آخر میں انھوں نے اپنی کہانی کے اقتباسات سنائے۔ اس اجلاس کے موڈریٹر آصف فرخی تھے جو دنیا زاد کے مرتب ہیں۔

پہلے دن کے پانچویں دور کا پہلا اجلاس طارق رحمٰن کی کتاب ’فرام ہندی ٹو اردو: اے سوشل اینڈ پولیٹیکل ہسٹری‘ کے عنوان سے تھا۔ اس اجلاس کے موڈریٹر حارث خلیق تھے۔

ڈاکٹر طارق نے کہا کہ زبانیں ایک دوسرے کے قریب آرہی ہیں لیکن فرق بھی آیا ہے اور وہ فرق یہ ہے کہ ہندوستان میں ہندی میں سنسکرت کے لفظ شامل کیے جا رہے ہیں جیسے کہ یہاں اردو میں فارسی کے لفظ شامل کیے جا رہے ہیں۔ لیکن یہ صورتِ حال علمی کاموں ہی میں ہے۔ عملاً یہ ہو رہا ہے کہ بالی ووڈ کی ایک زبان ہے۔ پہلی یہ ہوتا تھا کہ سیٹ پر منشی یا مولوی ہوتے تھے جو تلفظ درست کراتے تھے۔ بعض صورتوں میں اس کا خیال اب بھی رکھا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ اردو صرف مسلمانوں کی زبان تھی اس میں سبھی لوگ اظہارِ خیال کرتے تھے لیکن دلچسپ بات یہ تھی کہ ہندو مصنف بھی کتاب کی ابتدا بسم اللہ سے کرتے تھے۔

یہ بعد میں ہوا کہ فارسی دانی کو اردو کا معیار بنا لیا گیا۔ لیکن یہ نہیں ہوا کہ کسی نے پنجابی اردو میں یا سندھی اردو میں یا پستو اردو میں کتاب نہیں لکھی ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ اردو عام لوگوں کی زبان کبھی نہیں تھی پہلے یہ اردوِ معلیٰ تھی اور اشرفیہ کی زبان تصور کی جاتی تھی اور تقسیم کے بعد سب سے بڑا تضاد یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ ہندوستان میں گاندھی اور نہرو کی خواہش کے باوجود یوپی میں اردو کو ثانوی زبان قرار دے دیا گیا۔اب بھی صورت یہ ہے کہ اگر کسی سکول میں چالیس طالبِ علم اردو پڑھنے والے نہیں ہوتے تو وہاں استاد مہیا نہیں کیا جاتا۔

رسم الخط کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ تمام اسلامی مذہبی کتابیں فارسی رسم الخط میں ملتی ہیں اسی طرح دیوانِ غالب جو وہاں بہت فروخت ہوتا ہے فارسی رسم الخط میں ملتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک سرکاری سطح پر تبدیلی نہیں لائی جاتی اس وقت تک کسی زبان میں کسی موثر تبدیلی کا عمل شروع نہیں ہوگا۔ سوشل میڈیا میں رومن اردو شروع ہونے کا کوئی اثر زبان پر نہیں پڑے گا۔

پہلے دن کے چھٹے دور کا پہلا اجلاس انگریزی کے کہانی کار عامر حسین کی ریڈنگ اور گفتگو پر مشتمل تھا۔ اس اجلاس کے موڈریٹر آصف فرخی تھے۔

عامر حسین اب اردو میں بھی کہانیاں لکھنے لگے ہیں۔ لیکن انگریزی میں ان کہانیوں کے چار مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ وہ لندن ہی میں رہتے ہیں۔

عامر حسین نے بتایا کہ جب انھیں ان کے والدین برطانیہ لائے تو بھی ان کا اردو سے رابطہ نہیں ٹوٹا اور ان کی والدہ انھیں شاعری پڑھنے میں بہت مدد کرتی رہیں۔

انہوں نے بتایا میر حسن کی مثنوی انھیں بہت پسند تھی اور ان کے فکشن کی کہانیوں کی ابتدا اسی سے ہوتی ہے۔

بعد میں انھوں نے دوسرے لوگوں کو پڑھا اور قراۃ العین، عبداللہ حسین اور انتظار حسین کو پسند کرنے لگے لیکن زیادہ اثر مجھ پر میرے خاندان ہی کا رہا۔ کیونکہ مجھے رومی بھی میری والدہ ہی نے پڑھایا۔

آخر میں آصف فرخی نے ان کی کہانی ’مایا ہنس‘ کے کچھ حصے پڑھ کر حاضرین کو سنائے۔

چھٹے دور کا تیسرے اجلاس میں ڈاکٹر سلطانِ روم کی کتاب ’نارتھ ویسٹ فرنٹئر (خیبر پختونخوا)‘ اور رابرٹ نکولس کی مرتب کردہ کتاب ’فرنٹئر کرائم ریگولیشن: اے ہسٹری ان ڈاکومنٹس‘ کی رو نمائی ہوئی۔ اس اجلاس میں رسول بخش رئیس نے شرکت کی اور اس کے موڈریٹر ہمایوں گوہر تھے۔

پہلے دن کے آخر پر مشاعرہ ہوا جس کی صدارت امجد اسلام امجد نے کی اور جس کی نظامت کے فرائض غضنفر ہاشمی نے ادا کیے۔ مشاعرے میں اظہار الحق، انور زاہدی، عذرا عباس، احمد فواد، ثروت محی الدین، حارث خلیق، انوار فطرت، قمر رضا شہزاد، سعید احمد، علی اکبر ناطق اور قاسم یعقوب نے شرکت کی۔

ادبی میلے کا دوسرا روز

اسلام آباد لٹریچر فیسٹول، آئی ایل ایف کے دوسرے دن کے پہلے دور میں تین اجلاس ہوئے۔ دوسرے دن کے پہلے دور کا پہلا اجلاس ممتاز نقاد ناصر عباس نیّر کی کتاب’ما بعدِ نو آبادیات: اردو کے تناظر میں‘ کی رونمائی پر مشتمل تھا۔ اسی اجلاس میں شمس الحق عثمانی کی کتاب ’پورا منٹو‘ کی رونمائی بھی ہوئی۔ اس اجلاس کے موڈریٹر ڈاکٹر ضیا الحسن تھے۔ پروگرام کے مطابق اجلاس میں تحسین فراقی نے شرکت کرنی تھی لیکن وہ بہ وجوہ آ نہیں سکے۔

ڈاکٹر ضیا الحسن نے ’مابعد نوآبادیات: اردو کے تناظر میں‘ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اردو میں اس نوع کا کام اس سے پہلے نہیں ہوا کیونکہ اس میں ناصر عباس نیّر نے تحقیق کے بعد تجزے کا اندازہ اپنایا ہے۔ انھوں اس کے بعد ناصر عباس نیّر سے کتاب کے بارے میں بات کرنے کے لیے کہا۔

ناصر عباس کا کہنا تھا کہ کتاب کے بارے میں ان کا کہنا کچھ مناسب نہیں کیونکہ کتاب اب شائع ہو چکی ہے اور اب اس پر اس کے پڑھنے والوں کو بات کرنی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے تاریخ بھی مابعدالطبعیاتی نوعیت کی ایک چیز تصور کی جاتی ہے اور سمجھا جاتا ہے کہ اس میں جو واقعات ہو جاتے ہیں ان کے عوامل اور محرکات پر توجہ نہیں دی جاتی اور اسے اختیار سے بالا قوتوں کا کام بھی سمجھا جاتا ہے۔ یعنی ہم تاریخ میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتے۔

نوآبادکاروں کی سب سے بڑی قوت ان کا علم تھا اور انھوں نے اسی علم کی بنا پر صرف چار ہزار منتظمیں اور تیس ہزار بیرونی اور بعد میں اتنے ہی یا کچھ زائد مقامی فوجیوں کی مدد سے برصغیر کے پینتیس کروڑ لوگوں پر حکومت کی۔

نوابادیاتی نظام کی ایک اور بات یہ ہے کہ اس میں نوآبادکار یہ دعوا کرتا ہے کہ وہ نوآبادیات بنائے جانے والے علاقوں میں لوگوں کو تہذیب سکھانے جا رہے ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ یہ بات آج بھی سننے میں آ رہی ہے اور امریکہ کر رہا ہے۔

ناصر عباس کا کہنا تھا کہ نوآبادیات تمام ہی طاقتور قوموں نے بنائیں، جیسے جب مسلمان طاقتور تھے تو انھوں نے بھی بنائیں۔ ہوتا یہ کہ نوآْبادکار مقامیوں کی ایک متھ بنا لیتا ہے اور اس کی بنایاد پر اس کے بارے میں فیصلے کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں مذہب کی بنیاد پر پہلی بار تقسیم انگریزوں نے کی۔ انھوں نے ہی ہندوؤں اور مسلمانوں کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کیا۔ انھوں نے فورٹ ولیم کالج قائم کیا جس میں ایک کہانی میر امن سے باغ و بہار کے نام سے لکھوائی اور ان سے کہا کہ اس میں سنسکرت کا کوئی لفظ نہیں آنا چاہیے۔

ایک کہانی للو لعل کوئی جی سے پریم ساگر کے نام سے لکھوائی اور ان سے کہا کہ اس میں کوئی لفظ فارسی کا نہیں آنا چاہیے۔ تو اس طرح اردو اور ہندی کو ایک نئی بنیاد فراہم کی۔ دونوں ہندوؤں اور مسلمانوں کو لسانی بنیادوں پر الگ کیا۔

ناصر عباس نیّر کی اس کتاب کو آکسفرڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا ہے۔

اس کے بعد دوسری کتاب ’پورا منٹو‘ کے بارے میں ضیاالحسن نے کہا کہ اس کتاب کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ اس میں متن کی صحت کا خیال رکھا گیا ہے۔ شمس الحق عثمانی نے تحقیق کے بعد جہاں جہاں ضروری محسوس کیا فٹ نوٹس کے ذریعے ہر بات کی وضاحت کر دی ہے۔ اس طرح ایک درست متن میسر آتا ہے اور اس کتاب کو آکسفرڈ یونیورسٹی پریس نے بہت عمدہ انداز سے شائع کیا ہے۔

اس اجلاس میں عباس رضوی نے منٹو کے افسانے ’انقلابی‘ سے ایک اقتباس پڑھا۔

دوسرے دن کے پہلے دور کے دوسرا اجلاس ’اردو افسانہ: آج کی صورتِ حال‘ کے عنوان سے تھا۔ اس میں نقاد اور افسانہ نگار حمید شاہد نے عامر حسین سے گفتگو کی۔ اس اجلاس کے صدارت انتظار حسین نے کی جب کہ اس موڈریٹر آصف فرخی تھے جو خود بھی اردو کے نقاد، افسانہ نگار اور مترجم ہیں۔

دوسرے دن کے ممتاز نقاد ناصر عباس نیّر اور عارفہ سیدہ زہرہ نے ’زمانے کے ساتھ زبان بدل رہی ہے‘ کے عنوان سے گفتگو کی۔ اس اجلاس کے موڈریٹر موڈریٹر حارث خلیق تھے۔

حارث خلیق نے کہا اس اجلاس میں ہم تین چیزوں کو دیکھنے کی کوشش کریں گے۔ ایک تو عام بول چال کی زبان میں کس طرح کی تبدیلیاں آ رہیں۔ دوسری یہ کہ رسم الخط کے بارے میں جو مختلف باتیں ہو رہی ہیں اور تین یہ کہ ادبی زبان میں زمانے کے ساتھ کیا تبدیلی آ رہی ہے۔

ناصر عباس نیّر نے کہا کہ زبان ذریعۂ ابلاغ ہے مگر محض ذریعۂ ابلاغ نہیں ہے۔ تبدیلی ایک مسلسل جاری عمل ہے۔ یہ تبدیلی پہلے اصواتی (آوازوں) میں رونما ہونا شروع ہوتی ہے۔ یک لسانی معاشروں میں اس تبدیلی کا عمل دو لسلانی یا کثیر لسانی معاشروں کی نسبتاً سست ہوتا ہے۔

جب یک لسانی معاشرہ کثیر لسانیت سے دوچار ہوتا ہے جیسے انگریزی نوآبادیاتی نظام میں ہوا تو بہت سی تبدیلیاں آتی ہیں۔ جن میں نفستیاتی لسانی تبدیلیاں بھی آتی ہیں اور ہم انھیں محسوس کر سکتے ہیں۔

ناصر عباس نے کہا کہ زبان کی تبدیلی اس تبدیلی کو کہتے ہیں جو رواج پا جاتی ہے۔ اس کے علاوہ بھی کوئی ایسا لفظ آ جائے جس کی صرورت محسوس ہو تو اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے۔ تاریخی تبدیلیوں کے حوالے سے یہ ضرور دیکھنا چاہیے کہ تبدیلی کس نوعیت کی ہے، اس کا رخ کیا ہے، اور اس تبدیلی میں اختیار کس کو حاصل ہے۔ اس لیے اس میں ریاست بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔

کثیر لسانی معاشروں میں زبانوں کی درجہ بندی ریاست کرتی ہے اور اس اعتبار سے طاقت تقسیم ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اب تک ردِ نوآبادیات سے آزاد نہیں ہو سکے۔ انگریزی لسانی استعمال کی شکل میں آئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ انگریزی کو غیر معمولی طاقت حاصل ہے جو اسے سماجی مرتبے سے حاصل ہوتی ہے۔ اس پر عالمیت یا گلوبلائزیشن کا بھی عمل دخل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اصل میں تو سب سے زیادہ خطرہ اس عالمیت سے ہے جس کے ذریعے ایک ایسا زبان کو رواج دینے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کے ذریعے زیادہ سے زیادہ لوگ ایک مشترک زبان کو بول اور سمجھ سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ سال تک دنیا کی سات ہزار زبانوں میں پانچ ہزار زبانیں ختم ہو جائیں گی اور یہ گلوبلائزیشن کا اثر ہے۔

ناصر عباس کا کہنا تھا کہ جہاں تک رسم الخط کا تعلق ہے تو رسم الخط کسی بھی زبان کا لباس نہیں کھال ہوتا ہے۔ اس کا تجربے کی ایک مثال ترکی ہے جس نے اپنی زبان کا رسم الخط تبدیل کیا لیکن اس کے نتیجے میں ترک دو حصوں میں بٹ گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ زبان انسان کے ذہن اور باطنی ضرورتوں سے پیدا ہوتی ہے اور اس میں فطری تبدیلیاں بھی ذہنی اور باطنی تقاضوں سے ہی عمل میں آ سکتی ہیں۔

ڈاکٹر عارفہ نجیبہ کا کہنا تھا کہ وہ زبان میں تبدیلیوں کی قائل ہیں تخریب کی نہیں۔

دوسرے دن کے چوتھے دور کا ایک اہم اجلاس سفر ناموں اور فکشن کے مقبول و معروف مصنف مستنصر حسین تارڑ کی کتاب ’غزالِ شب‘ کے حوالے سے تھا۔ اس میں مصنف سے موڈریٹر محمد احمد شاہ تھے۔

محمد احمد شاہ کے ایک سوال کے جواب میں مستنصر حسین تارڑ نے کہا کہ انہوں نے اس ناول کا عنوان ن م راشد کی ایک نظم سے لیا ہے۔ انھوں نے وہ نظم پڑھ کر بھی سنائی۔ جس پر لوگوں نے اتنی داد دی کہ انھیں وضاحت کرنی پڑی کہ یہ نظم ان کی نہیں ن م راشد کی ہے۔

مستنصر تاڑ نے بتایا کہ ان کا یہ ناول ایک المیے کے بارے میں ہے جو سوویت یونین کے ختم ہونے سے پیش آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سوویت یونین اپنے خاتمے سے پہلے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو تعلیمی وظیفے دیا کرتا تھا جن کے تحت وے وہاں پڑھنے جایا کرتے تھے۔ وہ اس کے روسی زبان سیکھتے تھے اور پھر وہاں جا کر روسی میں تعلیم حاصل کرتے تھے۔ لیکن جب وہ تعلیم مکمل کر لیتے تو ان کی یہ تعلیم پاکستان میں کسی کام کی نہیں ہوتی تھی کیونکہ ایک تو یہاں وہاں کی ڈگریوں کو تسلیم نہیں کیا جاتا تھا پھر وہ ایک ایسی زبان میں تعلیم حاصل کر کے آتے تھے جو یہاں بولی نہیں جاتی تھی۔

اس لیے یہ بھی ہوتا کہ تعلیم کے لیے جانے والے نوجوان وہاں ملازمت کی کوشش کرتے ان میں سے اکثر وہاں شادیاں بھی کر لیتے۔ یوں بھی کہا جاتا تھا کہ روسی عورتیں مردوں کی شکاری ہوتی ہیں۔ ان معنوں میں کہ یہ نوجوان جاتے تھے تو وہاں بھی نوجوان لڑکیاں ہوتی ہیں۔ ظاہر ہے اگر انہیں نوجوان معقول لگتے ہوں گے تو وہ کیوں شادیاں نہیں کرتی ہوں گی۔

اس صورت میں یہ نوجوان وہاں بس جاتے یا لڑکیوں کو لے کر آ جاتے اور ایسا کم ہی ہوتا۔ لیکن جب سوویت یونین کا خاتمہ ہوگیا تو وہاں رہنے والوں ایسے لوگوں کے لیے بڑے مسائل پیدا ہوئے۔ ایک تو وہاں کے لوگوں میں ردِ عمل پیدا ہوا اور انھوں نے کہا کہ یہ لوگ یہاں سے جاتے کیوں نہیں۔ دوسری طرف ان لوگوں کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ اب کہاں جائیں۔ یہ کہانی ان لوگوں کا المیوں پر مستمل ہے۔

اس بعد مستنصر تارڑ نے ناول کے کچھ حصے پڑھ کر سنائے۔ جس کے بعد اس سوال کے جواب میں کہ یہ غالباً ان کا چودھواں ناول ہے تارڑ نے کہا وہ اس عرب کی طرح ہیں جو بچے پیدا کرتا جاتا ہے ان کی تعداد یاد نہیں رکھتا۔

اس سوال کے جواب میں کہ وہ ایک مقبول اور نامور لکھنے والے ہیں لیکن نقاد انھیں سنجیدگی سے نہیں لیتے، اس کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ تارڑ نے کہا کہ جو نقاد انھیں سنجیدگی سے نہیں لیتے وہ بھی انھیں سنجیدگی سی نہیں لیتے۔ اس کے علاوہ مختلف ناول مختلف ادوار میں پڑے ہوتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ان کے ناول ’راکھ‘ کو جنوبی ایشا کا انتہائی نمائندہ ترین ناول قرار دیا جا چکا ہے۔ ناول ’بہاؤ‘ کو گذشتہ صدی کے دس بہترین ناولوں میں شمار کیا گیا ہے۔ ’قلعہ جنگی‘ افغانستان میں ترجمہ ہوا ہے بہت زیادہ پڑھا جاتا ہے۔ ’اب میرے اندر اگر ناول زیادہ ہیں تو میں کیا کروں‘۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا وہ گیلری کے لیے لکھتے ہیں؟ تارڑ کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں ہر مقبول ادیب بڑا ادیب نہیں ہوتا لیکن یہ بھی ہے کہ ہر مقبول ادیب خراب ادیب بھی نہیں ہوتا۔ انھوں نے کہا کہ ’میں گیلری کے لیے لکھتا ہوں‘۔

اس سوال کے جواب میں کہ آپ ناول کیسے لکھتے ہیں اور کیا آپ اس کے لیے کوئی تحقیق کرتے ہیں کیونکہ کچھ ادیب تو اپنے ناولوں کے لیے طویل ھویل عرصے تک تحقیق کرتے ہیں؟ تارڑ کا کہنا تھا کہ انھوں ’بہاؤ‘ کے لیے بارہ سال تحقیق کی۔ لیکن وہ اپنے ناولوں کو پروجیکٹ نہیں کرتے۔

انھوں نے بتایا کہ انھوں نے چالیس سال کے دوران لکھنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ لیکن گھر چلانے کے لیے میڈیا پر کام ضرور کیا ہے۔

حاضرین کی جانب سے کیے گئے ایک سوال کے جواب میں تارڑ نے کہا کہ ’میرا جی چاہتا ہے کہ میں اپنے ناول ایک ایسے معاشرے میں لکھوں جس میں کوئی پابندی نہ ہو۔ جس میں مجھے کوئی ڈر اور خوف نہ ہو، اگر مجھے ایسا معاشرہ میسر آئے گا تو یہی ناول بہت مختلف ہوں گے‘۔

حاصرین کی جانب سے ایک سوال کے جواب میں کہ لکھنے والوں نے تو لکھنے کی آزادی کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں یہاں تک کہ پھانسیاں تک قبول کی ہیں تو آپ ادیب ہو کر کیسے ڈرتے ہیں؟ مستنصر حسین نے کہا کہ وہ بزدل ادیب ہیں اور انھیں پھانسی نہیں لگنا۔

ممتاز ناول نگار عبداللہ حسین جو حاضرین میں موجود تھے مستنصر تارڑ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں ’غزال شب‘ ان کا سب سے میری بہترین ناول ہے۔

اسی بارے میں