اسلام آباد ادبی میلے کا دوسرا دن

Image caption پہلے روز ہونے والے مشاعرے میں غضنفر ہاشمی، اظہار الحق، انور زاہدی،علی محمد فرشی، ثروت محی الدین، امجد اسلام امجد اور علی اکبر ناطق

آکسفرڈ پریس کے زیرِ اہتمام اسلام آباد ادبی میلے کے دوسرے روز بھی بے حد گہماگہمی دیکھنے میں آئی۔

اس دوران یہ صورتِ حال رہی کہ اگر کسی کو اسلام آباد کے Who is Who سے ملنا ہے تو وہ میلے کا رخ کرے، کسی نہ کسی اجلاس میں ملاقات ہو ہی جائے گی۔

کئی اجلاسوں میں ہال کھچاکھچ بھرے ہوئے تھے، اور ایک اجلاس میں تو نوبت یہاں تک پہنچی کہ کھڑے ہونے کی جگہ بھی نہ رہی۔

اس اجلاس کا تذکرہ تھوڑی دیر بعد میں، پہلے ہم چلتے ہیں بورڈ روم، جس میں ’افسانے کے نئی آوازیں‘ کے نام سے اجلاس منعقد ہوا۔

ادبی میلہ تصاویر میں

اس اجلاس میں نیلوفر اقبال، عاصم بٹ اور مبشر زیدی نے شرکت کی۔ مبشر زیدی کی حال ہی میں افسانوی مجموعہ آیا ہے جس میں انھوں نے یہ جدت روا رکھی ہے کہ ہر افسانہ صرف ایک سو الفاظ پر مبنی ہے۔

اردو میں اس قسم کے تجربات پہلے بھی کیے گئے ہیں۔منٹو نے ’سیاہ حاشیے‘ کے نام سے چند سطروں پر مبنی کہانیاں لکھیں، جنھیں افسانچے کہا جاتا ہے۔ تاہم مبشر کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے ہر افسانے کے لیے سو الفاظ کی حد مقرر کی ہے، نہ کم نہ زیادہ۔ انھوں نے تین افسانے پڑھ کر سنائے۔

نیلوفر اقبال نے نائن الیون اور عراق پر امریکی حملے کے تناظر میں افسانہ سنایا۔ افسانہ سنتے وقت ہال میں چہ میگوئیاں ہو رہی تھی کہ اتنی عمدہ افسانہ نگار کا یہ افسانہ ادب کی حدیں پار کر کے پروپیگنڈے کی میدان میں داخل ہو گیا ہے۔

ایک اور اجلاس ’نئی آوازیں‘ کے نام سے منعقد کیا گیا، جس میں علی محمد فرشی، انوار فطرت، سعید احمد، قاسم یعقوب اور ارشد معراج نے کلام سنایا۔ علی محمد فرشی اور انوار فطرت اچھے خاصے سینیئر شاعر ہیں۔ شاید انھیں نئی آوازوں میں شامل کرنے کی وجہ یہ ہوگی کہ ان کی شاعری بہت جدید اور تازہ بہ تازہ ہے۔

ارشد معراج کی ایک مختصر نظم:

مہندی میں گیت گاتے گاتے ڈھولک میں بم پھٹ گیا مہندی لگے ہاتھوں کے لیے جنت کے دروازے کھلتے چلے گئے

Image caption اس دوران یہ صورتِ حال رہی کہ اگر کسی کو اسلام آباد کے Who is Who سے ملنا ہے تو وہ میلے کا رخ کرے

اس اجلاس کی صدارت عذرا عباس نے کی۔ ان کا کہنا تھا نظم کو شاعر کی پہچان بننا چاہیے، اس پر شاعر کا نام نہ ہو تو بھی۔

اسی دوران سنگم ہال میں ’داستان اور شاعری‘ کے نام سے اجلاس جاری تھا، جس کے مقرر انتظار حسین اور زہرہ نگاہ تھے۔

انتظار حسین نے اپنی کہانیوں میں قدیم داستانوں کے اسالیب سے استفادہ کیا ہے، اس لیے انھیں اس موضوع پر تخصیص حاصل ہے۔

انھوں نے کہا کہ آج کل داستان کا احیا ہو رہا ہے، جو بڑی اچھی بات ہے لیکن اس دوران تمام تر توجہ داستان امیر حمزہ پر مرکوز کر دی گئی ہے۔ حالانکہ اردو کی روایت میں اور بھی کئی داستانیں موجود ہیں، جن میں طوطا کہانی، قصہ چہار درویش، حاتم طائی، اور دوسری داستانیں شامل ہیں۔

انھوں نے اس بات میں اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ عام طور پر ہماری داستانیں عربی و عجمی داستانوں تک محدود کر دی جاتی ہیں لیکن ہندوستانی روایت میں بھی داستانیں موجود ہیں، جو اردو کا حصہ ہیں۔ ان میں بیتال پچیسی، پنچ تنتر، شنکنتلا، اور اس جیسی کئی اور داستانیں موجود ہیں۔

ہم نے کل اپنی تحریر میں اس ’ادبی‘ میلے میں بہت سے ایسے اجلاسوں کی شمولیت کا ذکر کیا تھا جو ویسے تو موضوع کے اعتبار سے ’غیرادبی‘ ہیں، لیکن سماجی اور علمی سطح پر بہت اہم ہیں اور جن سے معاشرے کو درپیش مختلف مسائل پر مکالمہ قائم کیا گیا۔

ایسا ہی ایک اجلاس ’ایٹمی پاکستان: دفاعی جہتوں کا جائزہ‘ کے عنوان سے تھا جس میں گرما گرم بحث ہوئی۔

اے ایچ نیئر نے اس موقعے پر کہا کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کا جواز بدلتا رہا ہے۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ یہ صلاحیت بھارت کی روایتی ہتھیاروں میں برتری کا مقابلہ کرنے کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ پھر کہا گیا کہ بھارت کو پاکستان کے اندر ’سرجیکل‘حملہ کرنے سے باز رکھنے کی خاطر ایٹمی اسلحہ بنایا جا رہا ہے، جب کہ اب یہ موقف ہے کہ ہم چونکہ ایک ناکام ریاست بنتے جا رہے ہیں، اس لیے ہماری امداد کی جائے تاکہ یہ اسلحہ دہشت گردوں کے ہاتھ نہ لگ جائے۔

ظفر اقبال چیمہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان کے ایٹمی اسلحے کے غیرمحفوظ ہونے کا شوشہ ایک ایجنڈے کے تحت چھوڑا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان واحد ملک ہے جس کے ایٹمی اثاثوں کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ مکمل طور پر محفوظ ہیں، جس کی گواہی خود امریکہ بھی دے چکا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایک تھری سٹار جنرل اور کئی دستے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کی حفاظت پر مامور ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ ملک جہاں سب سے زیادہ ایٹمی حادثات ہوئے ہیں وہ امریکہ ہے۔ اور امریکہ ہی وہ واحد ملک ہے جس نے نہ ماضی میں ایٹمی ہتھیار استعمال کیے ہیں، اور اگر مستقبل میں ایٹم بم استعمال ہوا تو غالب امکان یہی ہے کہ وہ امریکہ ہی کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ اس لیے دنیا کو زیادہ خطرہ امریکہ کے ایٹمی اسلحے سے ہونا چاہیے۔

ظفر اقبال چیمہ نے مزید کہا کہ شمالی کوریا کہ پاس ایٹمی اسلحہ نہ ہوتا تو مغرب اس پر بہت پہلے چڑھائی کر چکا ہوتا۔ عراق کے پاس ایسی کوئی چیز نہیں تھی اس لیے امریکہ اس پر بے خطر چڑھ دوڑا۔

حسبِ توقع لوگوں نے بھرپور تالیاں بجا کر ظفر اقبال چیمہ کو داد دی۔

ہوٹل کے لان میں ہونے والے آخری اجلاس کا موضوع مقبول ٹی وی ڈرامے تھے۔

امجد اسلام امجد نے کہا کہ پاکستان ڈرامے پورے خطے میں بہت شوق سے دیکھے جاتے تھے۔ انھوں نے حاضرین کو بتایا کہ ان سے امیتابھ بچن نے کہا کہ پاکستانی ڈرامے ایسے ہوتے ہیں کہ جو تمام فیملی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھے جا سکتے ہیں۔

معروف اداکارہ لیلیٰ زبیری نے کہا کہ اس وقت ہماری ڈرامہ انڈسٹری کو سب سے بڑا خطرہ بیرونی ڈراموں سے لاحق ہے۔ انھوں نے کہا کہ ترکی ڈرامے نہ صرف سستے ہوتے ہیں بلکہ ان کے اوپر چینل والوں کو ٹیکس بھی نہیں دینا پڑتا، جس کی وجہ سے ہمارے اپنے نئے ڈرامے ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ مقامی ڈراموں کے تحفظ اور فروغ کے لیے ترکی اور دوسرے ممالک کے ڈرامے فوراً بند کیے جائیں۔

میں نے ابتدا میں ایک ایسے اجلاس کا ذکر کیا تھا جس کے دوران اردو محاورے کے مطابق ہال میں تل دھرنے کی جگہ نہیں رہی تھی۔

یہ اجلاس تھا ضیا محی الدین کا جنھوں نے صداکاری کو باقاعدہ فن کا درجہ دے کر اردو کلاسیکس کو عوام تک پہنچانے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔

اگرچہ اس اجلاس میں ضیا محی الدین نے اردو کے بجائے انگریزی تحریروں کے اقتباسات پڑھ کر سنائے لیکن اس کے باوجود شائقین کے جوش و خروش میں کوئی کمی نہیں آئی اور انھیں جتنی داد ملی جو کسی اور کے حصے میں نہیں آئی۔

اسی بارے میں