صرف ایک فلم کے ’سپر سٹار‘

بھاگیہ شری
Image caption بھاگیہ شری کی فلم میں نے پیار کیا سلمان خان کے ساتھ اپنے زمانے کی کامیاب ترین فلم تھی۔

بھارت میں کھانے کی میز پر فلموں اور فلمی ستاروں کا ذکر بڑی عام سی بات ہے۔ ایسے میں کئی بار ان چہروں کو بھی یاد کیا جاتا ہے جن کی پہلی ہی فلم کامیابی کی بلندیوں پر پہنچ گئی لیکن اس کے بعد وہ ایسے غائب ہوئے کہ صرف ایک ہی فلم کے شہزادے بن کر رہ گئے۔

یاد کیجيے اور دیکھیے کہ آپ کو کون سا ایسا چہرہ یاد آتا ہے جس نے اپنی پہلی فلم کی کامیابیوں کے بعد کوئی خاطرخواہ کام نہیں کیا۔شاید سب سے پہلے کمار گورو یاد آئیں؟

اپنے زمانے کے معروف اداکار اور بالی وڈ میں جوبلی کمار کے نام سے مشہور راجندر کمار کے بیٹے کمار گورو کی پہلی فلم ’لو سٹوری‘ سپر ہٹ رہی لیکن اس کے بعد انھیں خاطر خواہ کامیابی نہ مل سکی اور ان کی پہلی کامیابی ہی آخری بن کر رہ گئی۔

فلم تاریخ نویس ادیا تارا نیر کہتی ہیں ’راتوں رات کمار گورو نوجوانوں کے چہیتے بن گئے، لیکن اس کے بعد راجندر صاحب کی لاکھ کوششوں کے باوجود بھی ان کی کوئی فلم ہٹ نہیں ہو پائی۔‘

مہیش بھٹ کی فلم ’نام‘ کو کمار گورو کی واپسی سمجھا گیا لیکن اديا کے مطابق فلم نے کمار گورو کی جگہ سنجے دت کے لیے زیادہ کام کیا۔

Image caption عاشقی اپنے زمانے کی کامیاب ترین فلموں میں تھی لیکن بعد میں اس کے دونوں اداکار کچھ خاص نہیں کر سکے

تاہم 2002 میں کمار ’کانٹے‘ فلم میں نظر آئے لیکن ان کی پہچان لو سٹوری کے ہیرو، سنجے دت کے بہنوئی اور ’ون فلم ونڈر‘ ہی بن کر رہ گئی۔

بالی ووڈ میں کپور خاندان کی اہمیت کسی سے چھپی نہیں ہے۔ پرتھوی راج کپور سے رنبیر کپور تک ہر نسل نے فلموں میں قسمت آزمائی کی اور شہرت بھی حاصل کی۔

لیکن اس خاندان کے کچھ ایسے افراد بھی ہوئے جن کے لیے خاندان کا نام کرشمہ نہیں دکھا سکا۔ ان میں سب سے بڑی مثال راج کپور کے بیٹے راجیو کپور ہیں جن کی فلم ’رام تیری گنگا میلی‘ سپر ہٹ رہی اور فلم میں منداكني کے ساتھ ان کی جوڑی کو بھی خوب سراہا گیا۔

لیکن کامیابی ہر کسی کو راس نہیں آتی، راجیو کو بھی نہیں آئی۔ اپنے پورے کیریئر میں 10 سے 12 فلمیں کرنے کے بعد راجیو بڑے پردے پر سے پوری طرح غائب ہو گئے۔ راجیو کے علاوہ ششی کپور کے بیٹے کنال اور کرن کپور کا حال تو اس سے بھی برا رہا جن کے ہاتھ کوئی قابل ذکر فلم نہیں لگی۔

فلم ’میں نے پیار کیا‘ نے بھاگیہ شري کو وہ عروج عطا کیا کہ منموہن دیسائی جیسے ہدایت کار اپنی فلم کے لیے بھاگيہ شري کو منہ مانگی رقم دینے کو تیار تھے۔

Image caption گمار گورو نے کئی فلمیں کیں لیکن لو سٹوری کی کامیابی کسی کو نہ مل سکی

لیکن بھاگیہ شري نے تو اپنی پہلی فلم کے بعد ہی شادی کا فیصلہ کر لیا تھا اور اس کے ساتھ ہی اپنا یہ فیصلہ بھی سنا دیا کہ وہ جو بھی فلم کریں گی اپنے شوہر ہماليہ کے ساتھ ہی کریں گی۔

تارا نیر کہتی ہیں بھاگيشري کا کسی اور ہیرو کے ساتھ کام نہ کرنے کا فیصلہ ان کے کیریئر کے لیے بہت مہلک ثابت ہوا۔ بعد میں بھاگيشري نے بھوجپوری، مراٹھی اور جنوبی بھارتی فلموں کے ساتھ ساتھ ٹی وی میں بھی واپسی کی اور آج کل وہ اپنے شوہر کے ساتھ ایک میڈیا کمپنی کو سنبھال رہی ہیں۔

راہول رائے اور انو اگروال کی فلم ’عاشقي‘ والی جوڑی بھی آپ کو یاد آ رہی ہوگی۔ 1990 میں بنی اس فلم کے ہیرو ہیروئین راہول اور انو نوجوانوں کے حواس پر اس قدر چھا گئے تھے کہ کسی نے راہول کی ہیئرسٹائل کی کاپی کی تو کسی نے انو کے بالوں میں لگنے والے ربن کی۔

لیکن ان دونوں ہی فنکاروں نے کامیابی کا مزا چکھا ہی تھا کہ ان کے کیریئر کا گراف منہ کے بل آ گرا۔

بی بی سی سے بات چیت میں راہول نے بتایا ’عاشقي کے بعد مجھے 47 فلموں کی آفر ہوئی جن میں سے 19 کے پیسے میں نے واپس کر دیے۔ ایک وقت آیا جب میں ایک ساتھ 27 فلمیں کر رہا تھا جس کے لیے دن رات شفٹ میں کام کرنا پڑتا تھا۔‘

Image caption راجیو کپور کی کوئی دوسری فلم رام تیری گنگا میلی سے زیادہ کامیاب نہ ہو سکی

راہول نے تو 23 سال بعد ایک بار پھر فلموں میں واپسی کا فیصلہ کیا ہے لیکن انو اگروال انڈسٹری سے مکمل طور پر دور ہیں۔

ان کے بارے میں پوچھنے پر راہول نے بتایا ’انو فلموں سے ہٹ کر رہنا چاہتی تھی۔ میں اس سے ملا نہیں اور نہ ہی میں نے اسے تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ آخری بار مجھے پتہ چلا تھا کہ وہ ممبئی کے باندرہ علاقے میں رہ رہی ہے۔‘

’ایلو ایلو‘ والا لڑکا یاد ہے آپ کو؟ منیشا كوئرالا کے ساتھ وویک مشران نے سبھاش گھئي کی فلم ’سوداگر‘ میں کافی تعریف و توصیف حاصل کی تھی۔ اس میں دلیپ کمار اور راج کمار ایک عرصے کے بعد ایک ساتھ آئے تھے۔

ناظرین کے ساتھ ساتھ فلم انڈسٹری کے ماہرین نے بھی کہا تھا کہ اس لڑکے میں کچھ بات ہے لیکن دوسری ہی فلم سے یہ بات بگڑتی نظر آئی۔ وویک نے ’رام جانے‘ اور ’فرسٹ لو لیٹر‘ جیسی فلمیں کی مگر یہ فلمیں ان کو مزید آگے لے جانے میں کسی بھی طرح کی مدد نہیں کر سکیں۔

بعد میں وویک نے ٹی وی کی طرف رخ کیا اور وہ فی الحال سیریلز میں نظر آ رہے ہیں۔ ان ناموں کے علاوہ ایسے کئی اور نام بھی ہیں جن سے توقع کی گئی تھی کہ یہ فلموں میں بڑا نام کریں گے۔

Image caption دوستی اپنے زمانے کی آج کی ہٹ فلموں میں شمار ہوتی ہے

سنیما کے بارے میں علم رکھنے والے جے پرکاش چوكسے بتاتے ہیں کہ 50 کی دہائی میں ’جادو‘ نام کی فلم آئی تھی جس میں نوشاد نے پہلی بار مغربی موسیقی شامل کی تھی۔ فلم میں نلنی جيوت کے ساتھ ہیرو سوریش تھے۔ فلم بہت چلی لیکن سوریش اس کے بعد غائب ہو گئے۔

دلیپ کمار کے بھائی ناصر خان کی بات کرتے ہوئے جے پرکاش کہتے ہیں کہ ناصر کی ایک فلم 50 کی دہائی میں آئی تھی جس کا نام نگینہ تھا۔یہ ایک اے سرٹیفکیٹ فلم تھی اور شنکر جيكشن کی موسیقی کی وجہ سے سپر ہٹ ہوئی تھی۔ فلم میں ہیروئین نوتن تھی اور یہ فلم کافی چلی بھی لیکن ناصر صاحب کو بعد میں کام نہیں ملا۔

جے پرکاش بتاتے ہیں کہ ’گنگا جمنا‘ میں دلیپ کمار کے ساتھ ناصر نے واپسی کی لیکن اس کے بعد بھی ان کی بات نہیں بنی اور وہ شادی کر کے پاکستان چلے گئے۔

سپر ہٹ فلم ’دوستی‘ کے اہم اداکار سشیل کمار اور سدھیر کمار کا بھی یہی حال رہا۔

ہندی سنیما کے 100 سالوں میں ایسے کئی اور نام ہے جن کی بڑے پردے سے دوستی زیادہ دن نہیں چل پائی اور کسی نے ٹی وی کی طرف رخ کر لیا تو کسی نے اداکاری کو خیرباد کہہ دیا۔

اسی بارے میں