ہندی سنیما کے 100 سال: تھوڑی حقیقت، تھوڑا فسانہ

بھارت کا سنیما 100 سال کا ہو گیا ہے۔ 1913 میں بنی پہلی خاموش فلم راجہ ہریش چندر سے لے کر اس ہفتے ریلیز ہوئی بامبے ٹاكیز تک ہندی سنیما نے طویل سفر طے کیا ہے۔

کچھ لوگوں کو ان فلموں کے گیت، موسیقی، حقیقت سے کہیں بڑے کینوس یا پھر حقیقت سے دور غیر حقیقی دنیائیں پسند آتی ہیں تو کچھ کو اس سب سے الگ حقیقت کے اردگرد گھومتی، زندگی کا کڑوا سچ دکھاتی فلمیں۔

سال کے سال امیتابھ بچن، شاہ رخ، عامر اور سلمان خان جیسے ستارے ہر جمعہ کو خواب فروخت کرتے ہیں اور لوگ ہاتھوں ہاتھ ان سپنوں کو خرید بھی لیتے ہیں۔ کبھی ڈان، کبھی بازی گر تو کبھی دبنگ بن کر۔ اسی فینٹسی کے درمیان دو بیگھا زمین کسی ’اردھ ستيہ‘، ’انکر‘ یا ’ارتھ‘ کے لیے بھی نکل ہی آتی ہے۔

100 سال پورے ہونے پر فلمی صنعت میں جشن کا ماحول ہے۔ عامر خان نے اس موقع پر کہا کہ میں نے بھی یہاں 25 سال گزارے ہیں۔ اتنے سارے ہنرمند لوگوں کے ساتھ کام کرنا فخر کی بات ہے۔ کاش میں اس موقع پر کوئی فلم بنا پاتا۔

ہندی فلموں کو جتنی تعریف ملی ہے، اتنی ہی ان پر تنقید بھی ہوئی ہے لیکن ہدایتکار انوراگ كشيپ ہندوستانی سنیما کے مستقبل کو لے کر پرامید ہیں۔

انوراگ کا کہنا ہے کہ ’سنیما کا مستقبل اچھا ہی نظر آ رہا ہے۔ پورے بھارت بھر میں اب جس طرح کی فلمیں بننے لگی ہیں وہ بہت ترقی پسند ہیں چاہے وہ مراٹھی، تمل یا تیلگو فلمیں ہوں۔ اب تک ہم بندھے ہوئے تھے لیکن اب ہم لوگ اور ہمارا سنیما کھل رہا ہے، آزاد ہو رہا ہے۔ آگے جو بھی ہوگا اچھا ہی ہوگا۔‘

سنیما پیچھے جا رہا ہے؟

انوراگ كشيپ جہاں پرامید ہیں تو اداکار سنجے سوری ان لوگوں میں سے ہیں جن کے نزدیک ہندی سنیما دراصل پیچھے کی طرف جا رہا ہے۔

سنجے سوری کہتے ہیں ’مجھے لگتا ہے کہ پہلے کے مقابلے ہمارا سنیما پیچھے جا رہا ہے۔ یہ بہت اچھی بات ہے کہ سو سالوں کا جشن منایا جا رہا ہے لیکن آنے والے سالوں میں کیا ہوگا میں اس بارے میں فکرمند ہوں۔ ایسا نہیں ہے کہ فلمیں اچھی بن نہیں سکتیں یا بن نہیں رہیں لیکن اتنی تعداد میں نہیں بن رہیں کیونکہ اس کے لیے ضروری ماحول نہیں ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ پہلے بھی فلموں میں جنسی عمل کے منظر یا عریانی دکھائی جاتی تھی لیکن اب بے وجہ کی سنسنی زیادہ ہے۔ یہاں سنسر شپ پر بات کرنا بھی ضروری ہے۔ فلم کی کہانی لکھتے وقت اگر سوچنا پڑے کہ یہ فلم سنسر میں اٹک جائے گی یا اخلاقی پولیس کی نذر ہو جائے گی تو مصنف لکھنا ہی چھوڑ دیں گے۔‘

Image caption ’پچھلے 70، 80 سال میں بھارت کا سنیما صرف ہندوستانیوں کے لیے ہی بنا ہے‘

کبھی ہندی سنیما بھارت کے گاؤں، قصبوں یا دہلی اور بمبئی جیسے شہروں تک محدود تھا لیکن پر آج فلمیں بھارت میں ہی نہیں بلکہ سات سمندر پار بھی ڈالر اور پونڈ کما رہی ہیں۔

ایسے الزامات لگتے رہے ہیں کہ ہندی سنیما کی زبان، لباس، لہجہ بھارت کی اپنی زبان اور طور طریقوں سے دور چلا گیا ہے۔ اوئے لکی لکی اوئے جیسی فلم کے ڈائریکٹر دباكر بنرجی سمجھتے ہیں کہ بھارت کی فلموں کو عالمی سنیما کی بہترین فلموں میں جگہ بنانی ہوگی۔

دباكر کہتے ہیں، ’پچھلے 70، 80 سال میں بھارت کا سنیما صرف ہندوستانیوں کے لیے ہی بنا ہے لیکن اب ایسا وقت آ رہا ہے کہ عالمی سنیما دیکھنے والے لوگ بھی بھارت کی فلمیں دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہاں میں بالی وڈ کی بات نہیں کر رہا ہوں بلکہ بھارتی سنیما کی بات کر رہا ہوں۔ ہمیں سنیما کی ایسی زبان بنانی ہے جو بھارت کی اپنی زبان ہو لیکن وہ باہر کے لوگ بھی سمجھیں۔‘

پیسہ یا فن؟

فلمیں جہاں تخلیقی صلاحیت اور فن کی نمائش کا ایک ذریعہ ہے وہیں ان میں پیسہ بھی خوب لگتا ہے اور دونوں کے درمیان کی یہ جنگ برسوں سے چلی آ رہی ہے۔ فائر، ارتھ، بونڈر اور فراق جیسی فلموں کی اداکارہ نندیتا داس کو افسوس ہے کہ آج کی فلموں میں پیسہ فن پر حاوی ہوگیا ہے۔

نندیتا مانتی ہیں، ’ان 100 سالوں میں ہم نے ایک موقع کھویا ہے وہ یہ کہ ہم نے بندشوں اور سرحدوں کو پار کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ہم فلموں میں دلیر نہیں ہو پائے۔ جسے ہم متوازی سنیما کہتے تھے وہ سنیما تو اب تقریباً ختم ہو چکا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’مني کول یا کمار ساہنی جیسی فلمیں نہیں بن سکتیں چاہے وہ فلمیں کسی کو پسند آئیں یا نہ آئیں لیکن کم سے کم پہلے وہ جگہ تو تھی کہ ایسی فلمیں بن سکیں۔ آج پیسہ فن میں بہت زیادہ دخل دینے لگا ہے۔ ہر چیز بہت زیادہ کمرشل ہو گئی ہے۔ پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ فلم کتنی چلے گی بجائے یہ دیکھنے کے کہ میں کیا کہانی لینا چاہتی ہوں۔‘

Image caption آج پیسہ فن میں بہت زیادہ دخل دینے لگا ہے اور ہر چیز بہت زیادہ کمرشل ہو گئی ہے: نندیتا داس

بات اگر بھارتی فلموں کی ہو رہی ہے تو گیت اور موسیقی کا ذکر تو ضروری ہے۔ نغمہ نگار پرسون جوشی ہندی سنیما کا حصہ ہونے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔

پرسون کے مطابق، ’بھارتی فلم کے 100 سال کے سفر کو میں بڑا سفر مانتا ہوں۔ ہمارا رہن سہن، كپڑنے پہننے کا طریقہ، بول چال، ثقافت ۔۔۔ ان سب پر جتنا اثر فلموں نے ڈالا ہے اتنا اثر شاید کسی اور چیز نے نہیں ڈالا۔ آج سنیما کے بغیر بھارت کا تصور کرنا مشکل ہے۔ سوچیے اگر فلموں کے ڈائیلاگ نہیں ہوتے، نغمے نہیں ہوتے ۔۔۔ سماج میں فلموں کا بڑا حصہ ہے اور مجھے فخر ہے کہ میں اس فلم نگری کا ایک حصہ ہوں۔‘

کبھی تعریف تو کبھی تنقید کے درمیان 100 سال کا سفر تو مکمل ہوا لیکن یہ پڑاؤ صرف وقفہ بھر کا ہے ۔۔۔۔ امید یہی ہے کہ ہندی فلموں کی طرح اس سفر کا بھی نقشہ آنا ابھی باقی ہے۔

اسی بارے میں