آج 74: دو ناول نگار دو شاعر

نام کتاب: کتابی سلسلہ آج 74

ترتیب: اجمل کمال

صفحات: 350

قیمت: 380 روپے

ناشر: آج کی کتابیں، 316 مدینہ سٹی مال، عبداللہ ہارون روڈ، صدر کراچی 74400

ajmalkamal@gmail.com

کتابی سلسلہ آج کی 74ویں کتاب میں طاہر بن جلون کے نئے ناول کا ترجمہ ہے۔ افضال احمد سید کی سات تحریریں ہیں، عذرا عباس کی 26 نظمیں ہیں اور فرانسیسی نژاد ژولیاں کا اردو لکھا گیا چوتھا ناول شائع ہوئے ہیں۔

طاہر بن جلون 1944میں مراکش، فاس (فیض) میں پیدا ہوئے۔ طاہر فلسفہ پڑھاتے تھے لیکن جب مراکش میں عربی نافذ کی گئی توانھوں نے ترک وطن کو ترجیح دی۔ اب وہ پیرس میں رہتے ہیں اور فرانسیسی میں لکھتے ہیں۔ انھیں فرانسیسی زبان کی مین سٹریم کا حصہ سمجھا جاتا ہے لیکن ان کی شناخت ایک ’افریقی عرب‘ فرانسیسی کی ہے۔ فکشن، نان فکشن اور شاعری پر مشتمل ان کی کتابوں کی لمبی فہرست ہے۔ ان کے ناول نہ صرف انگریزی میں بلکہ دنیا کی بیشتر زبانوں میں ترجمہ ہو چکے ہیں۔

اردو میں یہ ان کا دوسرا ناول ہے جسے محمد عمر میمن نے’رخصت‘ کے نام سے ترجمہ کیا ہے۔ اس سے پہلے عمر میمن ان کا ناول ’کرپشن‘ کے نام سے ترجمہ کر چکے ہیں جو آج ہی کی 69ویں کتاب میں شائع ہوا تھا۔

طاہر کا یہ ناول ناانصافی اور تشدد میں مبتلا ملک کے ان لوگوں کے بارے میں ہے جو ملک کو چھوڑ کر کسی ترقی یافتہ ملک میں جا بسنے والوں کی تگ ودو میں انحطاط اور زوال کا شکار ہو رہے ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ اس ناول کو پڑھتے ہوئے آپ کو اپنے ہی ملک کی بہت سی باتیں یاد آئیں اور یہ بھی خیال آئے کہ جو کچھ دکھائی دیتا ہے اس کے نیچے مراکش کا شہر طنجہ ایک نئی اخلاقیات کو شکل نہ دے رہا ہو۔ عمر میمن کے اس ترجمے کو دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ جملوں کو انگریزی ترجمے سے بہت قریب رکھنے پر یقین رکھتے ہیں اور یہ بات کہیں کہیں نثر کی بےساختگی کو متاثر کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔

اس کتاب میں افضال احمد سید کی سات تحریریں ہیں۔ افضال اردو شاعری ہی کے نہیں اردو ادب کے بھی چند اہم ترین لوگوں میں سے ایک ہیں۔ وہ شاعری کے حوالے سے زیادہ معروف ہیں اور ان کے کئی مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ لیکن انھوں نے نثر اور ترجمے میں بھی انتہائی اہم کام کیے ہیں۔ موجودہ کتاب میں شامل ان کی سات تحریریں، ناظم حکمت کے ساتھ ساڑھے تین سال، اورحان کمال کی کتاب کا تعارف ہے، کمال نے یہ مدت ناظم حکمت کے ساتھ جیل میں گذاری۔

شاعرلرپارک، استنبول کے ایک ایسے پارک کے بارے میں ہے جو دس شاعروں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ پھر دو تحریریں، نوبل انعام یافتہ اورحان پامک کے ’میوزیم آف انوسنس‘ کے حوالے سے ہیں۔ اس کے بعد، ’معمارِ اعظم کا کاسۂ سر‘، ’جو سرِ نخلِ صبوبر ہے، لحد کس کی ہے‘ اور ’آئینہ ساز‘۔ انھیں آپ دو حکایتوں کے درمیان ایک نظم سمجھ لیں۔

افضال احمد سید کا انداز نہ صرف شاعری میں جداگانہ بلکہ نثر میں بھی تقلید پر متحرک کرنے کی جارحانہ قوت رکھتا ہے۔ مجھے نہیں علم کہ ان کی اتنی تخلیقات آخری بار کب اور کہاں ایک ساتھ شائع ہوئی تھیں لیکن ان سب کو ایک ساتھ پڑھنا بہت سے قارئین کے لیے یقیناً لطف سے خالی نہیں ہوگا۔

آج کی اِس کتاب میں عذرا عباس کی چھبیس نظمیں ہیں۔ عذرا عباس بھی اردو کی جانی پہچانی شاعرہ ہیں اور انھیں اردو کی وہ شاعرہ بھی کہا جاتا ہے، جن کی نظموں نے نثری شاعری کے بارے میں شعری بحث کو اعتبار سے متعارف کرایا۔ ان کی شاعری کے کئی مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے بچپن کی یادداشتیں، کہانیاں اور ایک ناول شائع کیا ہے۔

ان کی نظموں میں ایک ایسا غیر معمولی پن ہوتا ہے جو پڑھنے والے کو حیرت سے دوچار کرتا ہے۔ لیکن موجودہ کتاب میں شامل نظموں میں ایسی نظمیں بھی ہیں جو جاری تشدد اور عدم تحفظ کو مصور کرتی ہیں۔ لیکن صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ یہ نظمیں تشد د اور عدم تحفظ کو دکھانے پر ہی رک جاتی ہوں، ان میں تشدد اور عدم تحفظ کی ایک نئی مابعدالطبیعیات بھی تشکیل پاتی دکھائی دیتی ہے۔

وہ لوگ جو عذرا عباس کو پچھلے چالیس سال سے پڑھتے آ رہے ہیں ان کے لیے تو ان نظموں کی ایک ساتھ اشاعت یقیناً دلچسپی کی حامل ہو گی لیکن وہ لوگ جو ان کی یہ نظمیں پہلی بار پڑھیں گے ضرور یہ محسوس کریں گے اب بہت سے لکھنے والوں میں ان کے انداز اور اسلوب کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔

آج کی اس اشاعت میں شامل ایک اور خاص تخلیق ژولیاں کا ناول ہے۔

ژولیاں، فرانسیسی نژاد ژولیاں کولومو (Julien Columean) کا قلمی نام ہے۔ وہ اس نام سے اردو ہی میں نہیں پنجابی میں بھی لکھتے ہیں۔ ژولیاں 1972 میں فرانس کے علاقے پروانس میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے اپنی زبان ’پرووانسال‘ کے علاوہ فرانسیسی میں بھی لکھا۔

ہندوستان میں اپنے آٹھ برس کے قیام کے دوران انھوں نے ہندی اور اردو سیکھی۔ ادھر پچھلے سات برس سے وہ پاکستان میں مقیم ہیں۔ وہ انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس سے وابستہ ہیں۔

اردو میں انھوں نے پہلا ناول ساغر صدیقی کے بارے میں لکھا جو 2010 میں شائع ہوا تھا۔ اس کے علاوہ انھوں نے ایک ناول زلزلہ کے نام سے لکھا جس کا ایک حصہ کتابی سلسلہ ’دنیا زاد‘ میں شائع ہوا۔ اس کے بعد انھوں نے تیسرا ناول ’میرا جی کے لیے‘ کے نام سے لکھا جو آج ہی کی 71ویں کتاب میں شائع ہوا۔

ساغر صدیقی کی طرح میرا جی کے بارے میں ناول میں بھی ان کی نجی اور تخلیقی زندگی کو بنیاد بنایا گیا لیکن فکشن میں ظاہر ہے سب حقیقت نہیں ہوتا۔ ہوتا بھی ہے تو اس کی حیثیت تاریخی حقائق کی نہیں متبادل تصورِ حقیقت کی ہوتی ہے۔ جس کا مقصد حقیقت تک رسائی کی کوشش ہوتا ہے۔

ژولیاں کا موجودہ ناول ’میر جعفری شہید‘ یقینی طور پر مختلف النوع ہے اور ایسے کردار کو سامنے لاتا ہے جو ذاکر ہےاور اپنی اُس زندگی کو خود بیان کر رہا ہے، جو کشاکش اور تناؤ سے بھری ہے۔ لیکن یہ کشاکش اور تناؤ کبھی بھی اس کی روح کا حصہ نہیں بن پاتا ، اگر چہ وہ اپنے حقائق کو اپنی مسلکی اصطلاحات کے تناظر میں ہی دیکھتا ہے۔

اس ناول میں روح تک عدم رسائی کی کشاکش کسی بھی طرح اُس کشاکش سے کم نہیں جس میں طاہر بن جلون کے کردار گذرتے ہیں۔ دونوں کے کردار ایک ہی طرح کی آگ میں جل رہے ہیں لیکن یہ آگ لگی اور اور طرح سے ہے۔ اتفاق ہے کہ ژولیاں اور طاہر دونوں جلاوطن فرانسیسی۔ ایک فرانس کے اندر افریقی عرب ہے تو ایک پاکستان میں فرانسیسی نژاد

اسی بارے میں