عالمی بُکر 2013 کس کے مقدر میں ہوگا؟

عالمی بکر انعام کے دس فائنلسٹوں کے بارے میں اور ان کی تحریروں کے نمونے ، کتابی سلسلہ دنیازاد نے اپنی حالیہ کتاب 38 میں جمع کردی ہیں۔اگر اس کتاب میں فلپ روتھ کی تحریریں اور انٹرویوز بھی شامل ہوتے تو عالمی مین بُکر انعام کے حوالے سے یہ کتاب ایک مکمل دستاویز بن جاتی۔

عالمی بُکر 2013 کس کے مقدر میں

دنیا زاد 38 میں عالمی بُکر انعام کے فائنلسٹوں کے بارے میں کیا کیا ہے، اس کی بہت سی تفصیل دنیا زاد 38 میں جمع کر دی گئی ہے۔ کتاب 38 کو آصف نے ’افسانے کا زمانہ‘ قرار دیا ہے۔

اس کتاب پر تبصرے کے ساتھ مناسب یہی لگا کہ اس میں سے کچھ تفصیلات میں پڑھنے کو یہاں بھی شریک کر لیا جائے تا کہ جب ان تک اس ادیب کا نام پہنچے جس کے مقدر میں 2013 کا عالمی بکر ہے تو وہ ان کے بارے میں کچھ نہ کچھ ضرور جانتے ہیں۔

اس کتاب میں ولادی میر سوروکن سے ایک گفتگو اور خود سوروکن کی تین تحریں شامل ہیں جن کے ترجمے آصف فرخی اور نجم الدین احمد نے کیے ہیں۔ سوروکن اگست 1955 میں پیدا ہوے۔

ان کا شمار مابعد جدید اسلوب کے ادیبوں میں کیا جاتا ہے۔ انھوں نے انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ وہ ماسکو کے زیر زمین ادیبوں میں بھی سرگرم رہے۔ ان کی کتابوں کا بیس کے لگ بھگ زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ ان کی معروف ترین کتاب ’ڈے آف دی اوپری چنک‘ قرار دی جاتی ہے۔ میں نے جب اپنے روسی ادیب دوستوں سے سوروکن کے بارے میں پوچھا تو ان سب کا کہنا تھا کہ وہ مقبول بھی ہیں اور محترم لکھنے والے بھی۔

لیڈیا ڈیوس 1947 میں پیدا ہوئیں۔ انھوں زیادہ نام اور احترام فرانسیسی سے فلابیئر اور پروست کے ترجموں سے کمایا۔

انھوں نے بہت بڑی تعدادمختصر ترین افسانے لکھے اور امریکی افسانے کو ایک نیا پیرایہ دیا۔

ان کے افسانے کم سے کم محض ایک سطر کے اور زیادہ سے زیادہ چار صفحے کے ہوتےہیں۔ انھیں خود اپنے ہی ایجاد کردہ انداز کا ماہر تصور کیا جاتا ہے۔ اس کتاب میں ان کا ایک انٹرویو اور بیس افسانے ہیں جنھیں آصف فرخی، نجم الدین احمد، مبشر علی زیدی اور خود میں نے اردو میں کیا ہے۔

اسرائیلی ادیب ایہرن ایپل فیلڈ اب 80 کے ہو رہے ہیں۔ انھوں نے مشکل ترین اور انتہائی غیر محفوظ بچپن گذرا۔ ان کی والدہ نازیوں کے ہاتھوں ماری گئیں، وہ نازیوں کے نظر بندی کیمپ سے فرار ہوئے تو والد سے بچھڑ گئے جو انھیں بیس سال بعد ملے۔ وہ عبرانی میں لکھتے ہیں جو انھوں نے جوان ہونے کے بعد سیکھی۔

فلپ روتھ کے لفظوں میں وہ بے خانماں فکشن کے بے خانما ادیب ہیں۔ اس کتاب ان کے دو انٹرویو ہیں، جن میں سے ایک فلپ روتھ نے کیا ہے، جس کا ترجمہ کاشف رضا نے کیا ہے جب کہ ان کی طویل کہانی سے ایک اقتباس کو اردو میں نکہت حسن نے منتقل کیا ہے۔

سوئس ناول نگار پیٹر سٹام گذشتہ جنوری میں 50 کے ہو چکے ہیں۔ وہ مقامی سوئس زبان میں لکھنے کی بجائے جرمن زبان میں لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں اور افسانوں کے ساتھ ساتھ ریڈیو ڈرامے بھی لکھتے ہیں۔

انھوں نے اکاؤنٹس کی تعلیم حاصل کی اور پانچ سال تک اکاؤنٹنٹ رہے بھی۔ لیکن اب وہ صرف لکھنے تک محدود ہیں۔

ان کی سب سے زیادہ مشہور کتابیں ’غیر تشکیل شدہ منظر ‘اور ’سات سال‘ ہیں۔ اس کتاب میں ان سے دو گفتگوئیں ایک کہانی شامل ہے جن کے ترجمے آصف فرخی اور سید سعید نقوی نے کیے ہیں۔

امریکی مصنفہ میریلین روبنسن نومبر میں 70 کی ہونے والی ہیں۔ انھوں نے تین ناول لکھے ہیں جن میں سے دو پلٹزر کے لیے نام زد ہوئے اور ایک 2005 میں پلٹزر حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوا۔

ان کے تیسرے ناول ’گھر داری‘ کو اورنج انعام مل چکا ہے۔ وہ امریکہ کی کئی یونیورسٹیوں سے منسلک رہ چکی ہیں۔ ان کا ایک انٹرویو، ان کے بارے میں ایک مضمون اور خود ان کی تحریروں کے دو ترجمے اس کتاب میں شامل ہیں۔ تراجم نجم الدین احمد، مبشر علی زیدی اور آصف فرخی نے کیے ہیں۔

1956 میں پیدا ہونے والے جوزف نواکووچ نے سربیا میں دواؤں کی تعلیم حاصل کی۔ پھر امریکہ منتقل ہوئے اور کنیڈین شہری ہیں۔ ان کے افسانو کے تین مجموعے شائع ہو چکے ہیں اور انھیں خاص طور پر تشدد اور یوگوسلاویہ کی جنگ اور اس کی غارت گری کے بیان سے شہرت حاصل ہوئی۔ اس کتاب میں نواکووچ کی دو کہانیاں اور دو انٹرویو ہیں جو نجم الدین احمد، کاشف رضا اور آصف فرخی نے ترجمہ کیے ہیں۔

چینی مصنف یان لیان کے 1958 میں پیدا ہوئے۔ تیس سال پر محیط ادبی زندگی کے دوران وہ بہت سے انعامات حاصل کر چکے ہیں۔ انھوں نے لکھنے کی ابتدا تب کی جب وہ فوج میں بھرتی ہوئے۔

ان کا پہلا ناول ’سورج ڈوبتا ہے‘ حکومتی اجازت کے بغیر انگریزی میں ترجمہ ہوا۔ ان کےچار ناول اور کہانیوں دس جلدیں شائع ہوئی ہیں۔ ان کے ناول ’عوام کی خدمت‘ اور ’گاؤں ڈنگ کے خواب‘ پر پابندی لگی ، یہی ناول ان کے انتہائی مقبول بھی ہوئے اور ان پر انھیں انعام اور اعزاز بھی پیش کیے گئے۔

وہ انتہائی تیکھے اور طنزیہ انداز کے لکھنے والے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اگر ہمیں سو فیصد آزادی حاصل ہو جاتی توہم کچھ بھی نہ لکھ پاتے‘۔ اس کتاب میں ان سے انٹرویو کے ترجمے آصف فرخی نے کیے ہیں جب کہ ان کی تحریروں کے ترجمے تنویر انجم اور دانیال شیرازی نے کیے ہیں۔

فرانسیسی ادیبہ اور فائنلسٹوں میں آنے والی سب سے کم عمر ماری این جائے، 1967 میں پیدا ہوئیں ، بارہ سال کی عمر میں لکھنا شروع کیا اور ان کا پہلا ناول سترہ سال کی عمر میں شائع ہوا۔ ان کے اس ناول کو فرانس کے ادبی انعام ملا وہ اب تک فکشن کی گیارہ کتابوں کے علاوہ چار ڈرامے ، بچوں کے لیے متعدد ناول اور ایک فلم بھی لکھ چکی ہیں۔

ان کا تازہ ترین ناول ’تین طاقت ور عورتیں‘ 2012 میں شائع ہوا۔ اس کتاب میں ان کا ایک انٹرویو اور ایک کہانی ہے۔ کہانی کا ترجمہ معروف افسانہ نگار خالدہ حسین نے کیا ہے۔

یو آر آننتھ مورتی گذشتہ دسمبر میں 80ویں سالگرہ منا چکے ہیں۔ وہ ہندوستان کے شہر میسور کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔

وہ کنّڑ زبان میں لکھتے ہیں جو ہندوستان کی بڑی زبانوں میں سے نہیں ہے۔ ان کے اب تک پانچ ناول، ایک ڈرامہ، افسانوں کے آٹھ اور شاعری کے تین مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔

ان کی کتابیں ہندوستان کی کئی زبانوں ، انگریزی اور کئی بیورپی زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں۔ انھیں اخبار ’ہندو‘ کے ادبی انعام کے علاوہ جنوبی ایشیائی ادب کا انعام بھی پیش کیا جا چکا ہے۔ ان کے فکشن کی طاقت آفاقی تصورات کو مقامی سانچے میں بروئے کار لانے میں مضمر بتائی جاتی ہے۔ اس کتاب میں ان کا ایک انٹرویو ہے اور ایک کہانی ہے ’سورج کا گھوڑا‘۔ کہانی کا ترجمہ حیدر جعفری سید نے کیا ہے۔

انتظار حسین اردو میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ وہ بلاشبہ اس وقت اردو کےاہم ترین افسانہ نگار ہیں۔اس کتاب میں ان کے بارے میں کئی تحریریں جمع کر دی گئی ہیں جو محمد سلیم الرحمٰن ، شمیم حنفی، محمد حمید شاہد کی ہیں لیکن ایک تفصیلی انٹرویو آصف فرخی کا کیا ہوا ہے، جو کم و بیش انتظار حسین کے سارے کام کا بڑی حد تک احاطہ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ شروع ہی میں انتظار حسین کا وہ خطبہ بھی ہے جو انھوں نے چوتھے کراچی لٹریچر فیسٹیول کی افتتاحی تقریب میں دیا تھا۔

دنیازاد38، عالمی بُکر انعام کی دستاویز

نام کتاب: کتابی سلسلہ: دنیا زاد 38

ترتیب: آصف فرخی

صفحات: 486

قیمت: 500 روپے

ناشر: شہر زاد، بی 155، بلاک 5، گلشنِ اقبال، کراچی

www.scheherzad.com

کتابی سلسلہ دنیازاد کے دو شمارے 37 اور 38، کوئی ہفتے عشرے کے وقفے سے آگے پیچھے آئے۔ شمارہ 38 ایک خاص شمارہ یا کتاب ہے اور عالمی مین بُکر پرائز 2013 سے متعلق ہے۔

اس بار اس انعام کے لیے جو دس ادیب فائنل مقابلے میں موجود ہیں ان میں اردو کے ممتاز افسانہ نگار اور ناول نگار ادیب انتظار حسین بھی شامل ہیں۔ اس لیے اردو ادب پڑھنے والوں اور پاکستانیوں کو کل یعنی بدھ 22 مئی کو ہونے والے فیصلے سے نسبتاً زیادہ دلچسپی ہو گی۔

اسی لیے مناسب یہی لگا کہ دنیازاد 38 کو نہ صرف دنیازاد 37 پر بلکہ ’آج 75 ‘، اثبات ممبئی کے فحاشی نمبر اور اسالیب کے دو جلدوں پر مشتمل خصوصی نمبر پر بھی ترجیح دی جائے۔

دنیا زاد38 میں عالمی بکر کے تمام فائنلسٹوں کا نفصیلی تعارف ہے۔ کئی ایک کے انٹرویوز کے تراجم ہیں اور تمام تحریروں کے تراجم ادیبوں نے کیے ہیں اور سب سے زیادہ تو خود آصف فرخی نے ہی کیے ہیں۔

اس کے علاوہ رابرٹ میک کرم کا ایک اہم مضمون ہے جس میں انھوں نے کتابوں کے لیے ادبی انعامات کی ضرورت پر بات کی ہے۔ پھر بکر انعامات اور بکر عالمی یا انٹرنیشنل انعام کے بارے میں بھی مضمون ہیں۔

انتظار حسین کے علاوہ نو فائنلسٹ ادیبوں میں یوآرآننتھ مورتی(انڈیا)، اہرن ایپل فیلڈ (اسرائیل)، لیڈیا ڈیوس (امریکہ)، یان لیانکے (چین)، ماری این جائے(فرانس)، جوزف نواکوچ(کینیڈا)، میریلین روبنسن(امریکہ)، ولادی میر سوروکن(روس) اور پیٹر سٹام (سوئٹزر لینڈ) شامل ہیں۔

ان میں میریلین روبنسن واحد ہیں جو اس سے پہلے بھی اسی انعام کے لیے نام زد ہو چکی ہیں۔ باقیوں میں سے بھی تقریباً سبھی نے اپنے ملکوں کے یا دوسرے کئی انعام اور اعزاز حاصل کیے ہوے ہیں۔ ان میں چینی یان لیانکے اور روسی سوروکن ایسے ہیں جن کی کتابوں پر ان کے ملکوں میں پابندیاں بھی لگ چکی ہیں۔ یہ اور ایسی بہت سی مزید تفصیلات آپ دنیا زاد کے اس کتاب میں پڑھ سکتے ہیں۔

البانوی اسمائیل کادرے پہلے ناول نگار اور شاعر تھے جنھیں 2005 میں مین بکر کا عالمی اعزاز پیش کیا گیا۔ ان کے بعد 2007 میں نائجیریا کے چنوا اچیبے کو، 2009 میں کنیڈین افسانہ نگار ایلس منروکو اور 2011 میں امریکی ناول نگار فلپ روتھ کو یہ اعزاز پیش کیے گئے۔

اس کے علاوہ اس کتاب میں اسماعیل کادرے کی تخلیقات، چنوا اچیبے کی تحریریں، ایلس منرو کی تحریر اور ان سب کے انٹرویو اور ان کے بارے میں انتظار حسین، ناڈین گورڈیمر، فاروق سردار اور بینا شاہ کی تحریں ہیں، جو مل کر اس کتاب کو ایک یادگار اور اول تا آخر پڑھی جانے کتاب بناتی ہیں۔

ایک اور اہم تحریر اردو کے ایک اہم ترین ناول اور کہانی کار حسن منظر کا ، ناول کے آج اور کل کے بارے میں مضمون ہے۔

اس کتاب میں یہ سب دیکھنے اور پڑھنے کے بعد 2011 میں عالمی بُکر حاصل کرنے والے، امریکی فلپ روتھ کی کمی بڑی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ یہ کتاب بلاشبہ ایک دستاویز کہلانے کے لائق ہے لیکن اگر اس میں فلپ روتھ کی تحریریں اور انٹرویو زبھی شامل ہوتے تو عالمی مین بُکر انعام کے حوالے سے یہ کتاب ایک مکمل دستاویز بن جاتی۔

اسی بارے میں