بالی وڈ کا مقبول ترین نغمہ ’بہارو پھول برساؤ‘

سورج
Image caption اس گیت کو اپنے زمانے میں موسیقی، لیرکس اور آواز تینوں درجوں میں فلم فیئر ایوارڈز ملے تھے

بی بی سی ایشین نیٹ ورک کے سامعین نے محمد رفیع کی آواز میں فلم ’سورج‘ کے سدا بہارگیت ’بہارو پھول برساؤ میرا محبوب آیا ہے‘ کو بالی وڈ کی تاریخ کے سب سے مقبول نغمے کے طور پر منتخب کیا ہے۔

واضح رہے کہ ہندوستانی سینما کے سو سال کو اپنے انداز سے منانے کے لیے بی بی سی کے ایشین نیٹ ورک نےسال 1940 سے 2010 کےدرمیان ریلیز ہونے والی فلموں سے سو منتخب نغموں کی فہرست جاری کی تھی۔

اس فہرست کو ماہرین کے ایک پینل نے ترتیب دیا تھا اور جس کے لیے سامعین کی جانب سے ووٹ ڈالے گئے تھے۔

اس نغمے کو لکھنے کے لیے حسرت جے پوری کو اور اس کی موسیقی کے لیے شنکر جے کشن کو فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا تھا جبکہ محمد رفیع کو اسی گیت کے لیے بہترین پلے بیک سنگر کا ایوارڈ بھی ملا تھا اور فلم کو اس سال کی بہترین فلم قرار دیا گیا تھا۔

یہ فلم 1966 میں آئی تھی اور اس میں راجندر کمار اور ویجنتی مالا نے اہم کردار نبھائے تھے۔

اس کا اعلان ٹومی سندھو کے ایک سپیشل پروگرام میں کیا گیا اور اس میں شامل دوسرے لوگوں میں ایشین نیٹ ورک کے پریزینٹرز اور ہندوستانی فلموں کے ناقد راجیو مسند بھی شامل تھے۔

ایشین نیٹ ورک کی ایڈیٹر نیلا بٹ نے کہا کہ ’ہمارے سامعین میں بالی وڈ انتہائی مقبول ہے اور سو گیتوں کا انتخاب کا مطلب ہے بالی وڈ کی تمام چیزوں کا جشن۔‘

دوسرے نمبر پر راج کپور کی فلم ’آوارہ‘ کا نغمہ ’آوارہ ہوں‘ رہا جسے مکیش نے اپنے انداز میں گایا تھا اور یہ فلم 1951 میں آئی تھی جبکہ تیسرے نمبر پر ’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘ کا گیت ’تجھے دیکھا تو یہ جانا صنم‘ آیا اسے لتا منگیشکر نے گایا ہے۔

چوتھے نمبر پر ’دل اپنا اور پریت پرائی‘ کا نغمہ ’عجیب داستاں ہے یہ کہاں شروع کہاں ختم‘ جسے لتا منگیشکر نےگایا تھا۔

پانچویں نمبر پر ’کبھی کبھی‘ فلم کا ’کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے‘ جو لتا منگیشکر اور مکیش دونوں کی آواز میں ہے۔

چھٹے نمبر پر ’ویر زارا‘ کا گیت ’تیرے لیے‘ رہا جبکہ ساتویں نمبر پر 1975 میں آئی سوپر ہٹ فلم ’شعلے کا گیت ’یہ دوستی ہم نہیں چھوڑیں گے‘،منّا ڈے اور کشور کمار کی آواز میں ہے۔

آٹھویں نمبر پر فلم ’مغل اعظم‘ کا مشہور نغمہ ’جب پیار کیا تو ڈرنا کیا‘، لتا منگیشکر کی آواز میں ہے۔

نویں نمبر پر فلم ’دل سے‘ کا گیت ’چھیاں چھیاں‘ رہا جسے گلزار نے لکھا تھا۔

اور دسویں نمبر پر زمانے کے بہترین نغموں سے بھرپور کمال امروہی کی فلم ’پاکیزہ کا گیت ’چلتے چلتے‘ رہا۔

ایشین نیٹ ورک کی پریزنٹر نورین خان کا کہنا ہے کہ ’کئی بار تو لوگ صرف ایک گیت کے لیے فلم دیکھنے جاتے ہیں اور بالی وڈ کی مقبولیت کے اس کی موسیقی اور نغمے ہیں اور وہ اس کی روح ہیں۔‘

اسی بارے میں