دنیا زاد 37: ایک اور یادگار اشاعت

Image caption پروین رحمان نے پسماندگی کا شکار طبقوں کے حقوق کے لیے کام کرنے کا انتخاب کیا

نام کتاب: کتابی سلسلہ: دنیا زاد 37

ترتیب: آصف فرخی

صفحات: 396

قیمت: 300 روپے

ناشر: شہر زاد، بی 155، بلاک 5، گلشنِ اقبال، کراچی

www.scheherzad.com

کتابی سلسلہ دنیا زاد کی ہر اشاعت کو ایک نیا نام بھی دیا جاتا ہے، اس اشاعت کا نام ’پھول کتاب‘ ہے اور اسے پروین رحمان کے نام کیا گیا۔

پروین رحمان نے پسماندگی کا شکار طبقوں کے حقوق کے لیے کام کرنے کا انتخاب کیا اور اتنی ہمت، حوصلے اور دلیری سے کام کیا کہ ان کا وجود ہی مفاد پرستوں کو خطرہ محسوس ہونے لگا اور انھوں نے اس خطرے سے بچنے کے لیے ان کی جان لے لی۔

اب تک ان کے قاتلوں کا کوئی سراغ نہیں ملا، کہاں سے ملے گا؟ اس شہر اور اس ملک میں جہاں قانون نافذ کرنے والوں کے ہاتھوں ایک نوجوان کوگولیوں کا نشانہ بنتے ہوئے سب نے دیکھا اور سارا معاملہ ہفتے بھر بعد غائب ہو گیا، پروین رحمان کو بھی مصلحت کوشی میں دبا دیا جائے گا یا شاید دبایا جا چکا ہے۔

اس کتاب کا پہلا حصہ سعادت حسن منٹو اور میرا جی کے بارے میں مضامین پر مشتمل ہے۔ اس میں انتظار حسین کا مضمون ’سو ہے وہ بھی آدمی‘ کے عنوان سے ہے۔ ڈاکٹر ناصر عباس نیّر نے ’حاشیے پر لکھا متن‘ کے عنوان سے بات کی ہے، عبدالسمیع نے منٹو اور دیوندر ستھیارتھی کے حوالے سے بات کی ہے جبکہ فہمیدہ ریاض نے میرا جی کی شاعری کی پیچیدگیوں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔

فہمیدہ نے بات تو ژولیاں کے ناول سے شروع کی ہے اور ان کا خیال ہے کہ بدیشی ہونے کی وجہ سے ہندوستانی تہذیب، مذہبی فلسفے اور تہذیبی روایات کے پیچ و خم، نزاکتیں اور ننھی ننھی اور اہم تفصیلات ان کی شخصیت میں یوں رچی ہوئی نہیں ہیں جیسے کسی ہندوستانی میں ہو سکتی ہیں۔

یہ بات ہندوستانیوں کے بارے میں بھی کہاں تک درست ہے، یہ ایک بحث طلب معاملہ ہے لیکن ناول کے حوالے سے کم از کم یہ سوال غیر اہم ہے اور شاید اہم بات یہ ہے کہ ناول کا مرکزی کردار کیسے انسان کے روپ میں سامنے آتا ہے۔ کم از کم ناولوں کو تاریخ اور خاکہ نویسی سے تو الگ ہی رکھنا چاہیے۔

منٹو کے بارے میں ڈاکٹر ناصر عباس کا مضمون منٹو پر لکھے گئے اہم ترین مضامین میں ہمیشہ شامل رہے گا۔

اس کتاب میں شمش الرحمٰن فاروقی کے دو مضمون ہیں ایک میں انھوں نے غالب کے ایک شاگر امو جان ولی اور ان کی رباعیات کے دیوان کا تذکرہ کیا ہے اور دوسرے میں اشفاق احمد ورک کے مرتب کردہ انتخاب ’غزل آباد‘ پر بات کی ہے لیکن اصل بات انھوں نے یوں کر دی ہے کہ کڑے انتخاب کا انحصار انتخاب کرنے والے کے کڑے پن پر ہوتا ہے۔

شاہد حمید خاص طور سے ٹالسٹائی اور دوستووفسکی کے ’جنگ اور امن‘ اور ’کارامازوف برادران‘ کے ناموں سے کیے جانے والے تراجم کے حوالے سے بھی معروف اور محترم ہیں۔ اس کتاب میں انھوں نے جین آسٹن کے ناول ’پرائیڈ اینڈ پریجوڈس‘ کے دو سو سال مکمل ہونے کے حوالے سے ایک تفصیلی مضمون لکھا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ مضمون اس ناول کے اردو ترجمے کی دوسری اشاعت میں شامل ہو گا۔ انھوں یہ ترجمہ ’تکبر و تعصب‘ کے نام سے کیا ہے۔

Image caption کتابی سلسلہ دنیا زاد کی ہر اشاعت کو ایک نیا نام بھی دیا جاتا ہے، اس اشاعت کا نام ’پھول کتاب‘ ہے اور اسے پروین رحمان کے نام کیا گیا

حسن منظر کی اس شاعت میں یادداشتیں ہیں جو نائیجریا کی خانہ جنگی کے بارے میں بتاتی ہیں۔ حسن منظر کو اردو کے باذوق قارئین کہانیوں اور ناولوں کے حوالے سے بخوبی جانتے ہیں۔

مبشر زیدی کی کہانیاں اس اشاعت کا ایک خاص حصہ ہیں۔ ان کہانیوں میں انھوں نے خود پر، ہر کہانی سو لفظوں میں مکمل کرنے کی شرط عائد کی ہے۔ اس انداز کو مغرب والوں اور خاص طور پر امریکیوں نے فلیش فکشن کا نام دیا ہے لیکن یہ بات تو چینی حکایتوں اور جاتک کہانیوں تک بھی جاتی ہے اور پھر کافکا کی کہانیوں کو کہاں رکھا جائے گا لیکن طے کر کے گنے چُنے لفظوں میں کہانی لکھنے کی کوشش شاید مبشر زیدی سے پہلے اردو میں نہیں ہوئی تھی۔

اس اشاعت کی ایک اور خاص بات ضیا محی الدین کی تحریریں ہیں۔ انھیں دنیا ایک اداکار، صداکار اور اب پرفارمنگ آرٹس کی تربیت کا ادارہ چلانے والے کامیاب آدمی کے طور پر تو جانتی ہی ہے لیکن اب ان کی اردو نثر آنے سے ان کی شخصیت کا ایک اور پہلو بھی اجاگر ہوا ہے۔ اسی حصے میں مشاق احمد یوسفی اور داؤد رہبر کی تحریریں بھی ہیں۔

محمد سلیم الرحمان نے اس اشاعت کے لیے چینی زبان کے مایہ ناز ادیب پوسونگ لنگ کی دو کہانیوں کا ترجمہ کیا ہے، ان کا انکسار اپنی جگہ لیکن ان کہانیوں میں ان کی نثر ان کے پچھلے کئی تراجم سے بہت مختلف محسوس ہوتی ہے اور ان کی سوچ میں آنے والے تبدیلی کا عندیہ دیتی ہے۔

بنگال کے مصنف احمد مصطفٰے کمال کی کہانی کا ترجمہ مسعود اشعر نے کیا ہے۔سنہ 1986 میں نوبل انعام پانے والے نائیجریا کے ناول اور ڈرامہ نگار اور شاعر اولے سوینکا، جنھیں وول سووینکا بھی لکھا جاتا رہا ہے کے ایک خطبے کا ترجمہ ہے ’خوف کا بدلتا روپ‘ کے نام سے کیا گیا ہے جو ان کی ان پانچ خطبات کا حصہ ہے جو انھوں نے معاشرے اور فرد پر، دہشت گردی، انتہا پسندی، مذہبی خطابت اور خوف کے اثرات کے حوالے سے لندن میں دیے تھے۔

گذشتہ سال نوبل انعام حاصل کرنے والے چینی ادیب مو یان کا خاصا اچھا تعارف اور ان کی ایک کہانی کا ترجمہ بھی اس اشاعت کا حصہ ہے یہ تعارف و ترجمہ نجم الدین احمد کا ہے۔ انگریزی میں لکھنے اور آئرلینڈ کے رہنے والے ولیم ٹریور کی کہانی کا ترجمہ اس اشاعت کے لیے ظفر قریشی نے کیا ہے۔

شاعری کے حصے میں منیب الرحمٰن، امجد اسلام امجد، اوم پر بھاکر، عذرا عباس، شوکت عابد، اور فاطمہ حسن کی نظمیں ہیں اور تنوس کوافی کی ایک نظم کا ترجمہ ہے جو محمد سلیم الرحمٰن نے کیا ہے۔

غزلوں میں میں اسلم فرخی، احمد مشتاق، انور شعور، محسن شکیل، ضیا الحسن، عرفان ستار، انعام ندیم، احمد شہر یار اور خواجہ جاوید اختر کا کلام شامل ہے۔

اگر کسی ایک کتاب میں پڑھنے کے لیے اتنا کچھ ہو تو پڑھنے والوں کو اور کیا چاہیے۔ لیکن ناصر عباس نیّر کا مضمون، ضیا محی الدین کی تحریرں، سوینکا کا خطبہ اور حسن منظر کی یادداشتیں اس اشاعت کو یادگار بنائے رکھیں گی۔

اسی بارے میں