ہماری زبان اور دنیا کا تعلق

نام کتاب: معنی اور صداقت

مصنف: برٹرینڈ رسّل

مترجم: امیر خان حکمت

صفحات: 386

قیمت: 450 روپے

ناشر: سٹی بُک پوائنٹ۔ نوید سکوائر، اردو بازار، کراچی

یہ کتاب برٹرینڈ رسّل کی ’این انکوائری اِن ٹو میننگ اینڈ ٹرتھ‘ کا ترجمہ ہے۔ برٹرینڈ رسّل 18 مئی 1872 میں پیدا ہوئے اور دو فروری 1970 میں انتقال کر گئے۔ وہ صرف برطانیہ ہی کے نہیں دنیا بھر میں ایک عظیم فلسفی، ماہر منطق، ماہر ریاضی، مورخ اور سماجی نقاد کے طور جانے جاتے ہیں۔

انھیں ایک لبرل یا آزاد خیال اور سوشلسٹ بھی کہا جاتا ہے لیکن وہ ہمیشہ یہ کہہ کر اس کی تردید کرتے رہے کہ وہ ان میں سے کسی کی معیار پر بھی خود کو پورا نہیں پاتے۔

رسّل جنگ کے مخالفت کرنے والے دنیا کے سرفہرست لوگوں میں شامل رہے، عالمی جنگ کے دوران انھیں جیل میں بھی ڈال دیا گیا۔ انھوں نے سٹالن پر بھی کڑی تنقید کی اور ایک بڑی سامراج دشمن بھی رہے، ہٹلر کے خلا نکلنے والوں میں بھی وہ انتہائی نمایاں تھے، ویت نام کی جنگ میں انھوں نے امریکہ کی شدید مخالفت کی، ایٹمی اسلحے کی مخالفت میں بھی سب سے آگے رہنے والوں میں شامل تھے۔ انھیں 1950 میں امن کا نوبل انعام پیش کیا گیا۔

’معنی و صداقت‘ یا ’این انکوائری اِن ٹو میننگ اینڈ ٹرُتھ‘ پہلی بار 1940 میں شائع ہوئی۔ جہاں تک مجھے علم ہے یہ اردو میں اس کتاب کا پہلا ترجمہ ہے۔ اس طرح آپ کہہ سکتے ہیں کہ اردومیں اس کتاب کو آنے میں سات دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ لگ گیا۔

اس کتاب میں برٹرینڈ رسّل نے زبان اور دنیا کے درمیان تعلق پر بات کی ہے۔ اور بظاہر ایسے لگتا ہے کہ یہ کتاب زبان، زبان کے فلسفے یا فلسفوں و تصورات اور زباندانی سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ہی ہو گی لیکن اس سے یقینی طور پر ادب اور سماجیات سے دلچسپی رکھنے والے لطف اور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

انگریزی پڑھ سکنے والوں میں جن لوگوں کو لسانیات، ادب، فلسفے اور سماجیات سے دلچسپی رہی ہے، انھوں نے تو یوں بھی اس کتاب کا یقینی طور پر مطالعہ کیا ہو گا لیکن اب اگر وہ اسے اردو میں بھی پڑھیں تو اس سے یقینی طور پر انھیں اردو اور پاکستان کی دوسری قومیتی زبانوں میں اظہار کے لیے بہت مدد مل سکتی ہے۔

اس کتاب کے بارے میں تو رسّل نے خود کہا ہے کہ انھوں نے اس کتاب میں منطقی اور ریاضیاتی پہلوؤں سے احتراز کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے ’یہ (منطق اور ریاضی) وہ مسئلہ اجاگر نہیں کرتے جس پر میں بات کرنا چاہتا ہوں‘۔

بظاہر عام پڑھنے والوں کے لیے اس کتاب میں کوئی دلچسپی نہیں ہو سکتی اور وہ سوچ سکتے ہیں کہ یہ بالکل ایک ایسی خْشک کتاب ہو گی جس کا صرف ماہرین سے ہی تعلق ہوگا لیکن ایسا نہیں ہے۔

یہ کتاب کچھ مشکل ضرور ثابت ہو سکتی ہے لیکن آپ اسے زندگی سے لاتعلق نہیں کہہ سکتے۔ پھر برٹرینڈ رسّل کا انداز اور مثالیں ایسی ہوتی ہیں کہ ہمیں تاریخ اور سماجیات کے معاملات بھی کھلتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔

اس کتاب کا پہلا باب، لفظ کیا ہے؟ اس میں ان کا ایک جملہ ہے ’وہ آدمی جو اپنے دشمن کے نام سے آشنا ہوتا ہے، وہ اس کے ذریعے سے اُس پر طلسماتی برتری حاصل کر سکتا ہے‘۔ اس جملے سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں رسّل کا انداز کیسا ہے۔

اس کتاب کا ترجمہ امیر خان حکمت نے کیا ہے۔ انھوں نے انگریزی اور معاشیات میں ماسٹرس کیے پھر قانون کی بھی تعلیم حاصل کی اور تدریس سے منسلک ہو گئے۔ وہ 2007 میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کے طور پر عبداللطیف گورنمنٹ کالج میرپور خاص، سندھ سے سبک دوش ہوئے۔ مطالعہ ان کا خاص شوق ہے۔

اس سے قبل بھی وہ برٹرینڈ رسّل کی کتاب: میں عیسائی کیوں نہیں؟ کا ترجمہ کر چکے ہیں جو اسی ادارے سے شائع ہو چکی ہے۔

اس کے علاوہ انھوں نے جوزف مرفی کی دو کتابوں: ’ذہن کی طلسماتی طاقت‘ اور ’ذہنی حرکیات کا معجزہ‘ کے تراجم بھی کیے ہیں۔

ان کا موجودہ ترجمہ نہ تو بہت عمدہ ہے اور نہیں اسے خراب کہا جا سکتا ہے۔ انھوں نے جملوں کی ساخت میں اصل سے قریب رہنے کی بہت زیادہ کوشش کی ہے۔ ظاہر ہے اس کوشش میں جملے اکثر اوقات سیدھے نہیں رہتے۔

تراجم اور خاص طور پر ایسے تراجم میں جن میں مفہوم کی منتقلی بنیادی حیثیت کی حامل ہوتی ہے، جملوں کو پوری طرح سمجھ کر اپنی زبان کے مزاج سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔

پڑھنے والوں کے لیے خوشی کی بات یہ ہو سکتی ہے کہ اس کتاب میں پروف کی غلطیاں انتہائی کم ہیں۔ قیمت اگرچہ کچھ زیادہ ہے لیکن کتاب کی پیش کش موضوع سے انتہائی مطابقت رکھتی ہے۔

اسی بارے میں