ایک دلچسپ داستان، ایک مختلف بیان

نام کتاب: جادۂ تسخیر

مصنف: محمد حیدر علی

تدوین: سلیم سہیل

صفحات: 326

قیمت: 500 روپے

ناشر: سانجھ پبلیکیشنز، 2/46 مزنگ روڈ، لاہور

sanjhpks@gmail.com

اپنے لڑکپن کی ابتدا پر میں نے اردو اور پنجابی کی داستانوں اور قصوں کی کتابوں کو ٹھیلوں اور اُن دکانوں پر بِکتے ہوئے دیکھا تھا، جو ہر ایسی جگہ پر لگا لی جاتی تھیں، جہاں زیادہ لوگوں کے اکٹھے ہونے کا امکان ہوتا تھا۔

تب پڑھنے سے میری رغبت صرف بر بنائے خوف تھی۔ یوں بھی سرکاری اور دفتری ملازمتیں کرنے والے سفید پوش خاندان میں اس نوع کی کتابوں کی آمد اور پڑھے جانے کو اچھا کہاں سمجھا جاتا تھا۔

میری گنتی اگرچہ بگڑوں میں ہوتی تھی پھر بھی میں ان میں کوئی کتاب کبھی حاصل نہ کر سکا لیکن اب جو یاد کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو لال، ہرے اور سیاہی مائل سرخ رنگ کی وہ تصویریں ضرور یاد آتی ہیں جو ٹائٹلوں پر چھپی ہوتی تھیں۔

بہت یاد کرنے پر قصہ گُل بکاؤلی، داستانِ امیر حمزہ، الف لیلہ، داستان ہیر رانجھا، داستان سوہنی مہیوال اور کلام شاہ حسین سے آگے کوئی نام یاد نہیں آتا۔

یہ ساری باتیں مجھے ’جادۂ تسخیر‘ کو پڑھتے ہوے یاد آئیں۔ وصول ہونے سے پہلے میں نے کبھی اس کتاب کا نام تک نہ تو سنا اور نہ کہیں پڑھا تھا۔

میں سلیم سہیل کے بارے میں کچھ نہیں جانتا اور اب تک بھی اتنا جانتا ہوں کہ انھوں نے جادۂ تسخیر کی تدوین کی ہے۔

کتاب میں انھوں نے پیش گفتار کے عنوان سے ایک تعارف لکھا ہے۔ کیوں کہ اس کتاب کے سلسلے میں انھیں مظہر محمود شیرانی، محمد کاظم، تحسین فراقی اور محمد سلیم الرحمٰن کا تعاون بھی حاصل رہا ہے تو مجھے یقین ہے جو کچھ اس میں انھوں نے لکھا ہے وہ محض داستانوں سے ان کی محبت کا وفور نہیں ہے، اگر چہ ان کے انداز میں قدرے جذباتیت ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’مغرب سے مرعوبیت کی ابتدا تو 1857 میں جدوجہدِ آزادی کی ناکامی کے ساتھ ہی شروع ہو گئی تھی۔ سب سے پہلے مروج اردو شاعری پر نکتہ چینی ہوئی اور اُسے فرسودہ اور پُر از تکرار اور غیر حقیقی شے قرار دے دیا گیا۔ داستانوں پر اس قدر سختی سے تنقید نہیں ہوئی، اس کا سبب یہ تھا کہ شاعری کو اہم سمجھا جاتا تھا۔ داستانوں کو بہت سے لوگ ادب کا حصہ قرار دینے کو بھی تیار نہیں تھے‘۔

مزید ’ترقی پسند ادب کی تحریک کی مقبولیت نے جس کے نزدیک ادب کا واقعیت پسند اور افادیت آمیز ہونا لازمی تھا داستانوں کو ادب کے دائرے سے تقریبًا باہر دھکیل دیا‘۔

اب وہ بیسویں صدی کے آخری نصف پر آتے ہیں جب داستانوں کو اہمیت دینے والے نقاد سامنے آئے۔ سب سے پہلے کلیم الدین احمد نے ’اردو زبان اور فنِ داستان گوئی‘ لکھ کر داستان نگاری کے نظری مباحث کا تعین کیا اور طلسمِ ہوشربا، بوستانِ خیال، باغ و بہار، فسانۂ عجائب اور منظوم داستانوں میں سحر البیان اور گلزارِ نسیم کو پہلی مرتبہ اچھوتے انداز سے دیکھا۔

اس کے بعد وہ محمد حسن عسکری، گیان چند جیں، شمس الرحمٰن فاروقی، نیّر مسعود، ہائزخ زمر، شمیم حنفی اور دیگر کئی کے کاموں کے بارے میں بتاتے ہوئے وہ سہیل بخاری، آغا سہیل اور سہیل احمد تک آتے ہیں جنھوں نے داستان کی تنقید میں مشرق و مغرب کے ماخد یکجا کیے۔

یہ سارا پس منظر بیان کرنے کے بعد ان کا کہنا ہے کہ جادۂ تسخیر پہلی بار سن 1872 میں اور اس اشاعت سے پہلے آخری بار سنہ 1895 میں نول کشور پریس سے شائع ہوئی۔ اس زمانے میں نول کشور کے ہاں سے کتاب کا شائع ہونا از خود معیار کی ضمانت تھا۔

سلیم سہیل جادۂ تسخیر کا موازنہ فسانۂ عجائب سے کرتے ہیں اور کہتے ہیں ’فسانۂ عجائب میں آورد اور الجھاؤ کا احساس ہوتا ہے جب کہ جادۂ تسخیر میں آمد کا عنصر غالب ہے‘۔ جزیاتی حسن زیادہ ہے، تلازمہ زیادہ مضبوط ہے اور تفاصیل کے بیان میں قطعیت ہے۔

اس کے علاوہ نثر میں قوافی کا التزام، منظر کے بیان میں محل و وقوع کو موافقت، سراپا نگاری، اسم با مسمٰی کردار اور مشاہدہ ہے۔

سلیم سہیل نے یقینی طور پر تدوین بڑی محنت سے کی ہے اور کتاب کے آخر میں ایک فرہنگ بھی مرتب کر دی ہے جو آنے والے وقت کے پیش نظر اور تفصیلی ہوتی تو زیادہ اچھا ہوتا۔

جادۂ تسخیر محمد حیدر علی خاں کی لکھی ہوئی ہے جن کا تعلق رام پور کے فرما رواؤں میں سے تھا۔ انھوں نے یہ داستان شوق کے طور پر لکھی ہو گی۔ اس میں انھوں نے پانچ چھ سال کا عرصہ لگایا۔ موجودہ حالت میں 210 صفحے ہیں۔

کہانی تو اتنی ہے کہ ایک شہزادہ شکار کو جاتا ہے، ایک ہرن کا پیچھا کرتا ہے، لشکر سے بچھڑ کر ایک باغ میں پہنچتا اور ایک بزرگ سے ملتا ہے، بزرگ کی ہدایت کے برخلاف اُس باغ میں داخل ہو جاتا ہے جس میں ایک شہزادی کا مجسمہ ہے وہ اس پر فریفتہ ہوتا ہے۔ اس شہزادی کے حصول میں دنیا بھر کی مصیبتیں جھیلتا ہے اور شہزادی کو حاصل کر کے لوٹتا ہے۔ لیکن سارا لطف تفصیل کا ہے۔

تفصیل میں اُس زمانے کی سماجیات اور اخلاقیات کا بیان بھی ہے یہی اس کہانی کا حُسن اور مصنف کا کمال ہے جو اسے دوسری کہانیوں سے الگ کرتا ہے۔

جس زمانے میں یہ داستان لکھی گئی اس میں داستان گوئی کا دور تو تھا لیکن لکھنے کا رواج نہیں تھا کیوں کہ ہر ایک کے لیے شائع ہونا بھی آسان نہیں تھا ورنہ کتنی ہی ایسی داستانیں ہوتیں جو ہو سکتا تھا کہ محفوظ داستانوں سے کہیں آگے کی تخلیقات ہوتیں۔

مجموعی طور پر سلیم سہیل نے ایک اہم کام کیا ہے۔ اس کتاب کی اشاعت نہ صرف داستانوں میں اضافہ بلکہ زبان کے لیے بھی اہم تصور ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں