’ری میک کے شہنشاہ بھی امیتابھ بچن‘

Image caption امیتابھ بچن کی بہت ساری فلموں کے ری میک میں ان کی فلم ڈان بھی شامل ہے اور اب دیوار بھی قطار میں ہے

حال ہی میں امیتابھ بچن کی دو فلموں ’آخری راستہ‘ اور ’اندھا قانون‘ کے ری میک یا کسی کہانی پر دوبارہ فلم بنانے کے حقوق خریدے گئے ہیں۔

یہ دونوں ہی فلمیں 80 کی دہائی کی بے حد کامیاب فلموں میں شمار ہوتی ہیں۔ ان فلموں کے ری میک کا حق پین انڈیا نیٹ ورک نے خریدے ہیں۔

بی بی سی کے ویبھو دیوان بتاتے ہیں کہ اس سے قبل شاہ رخ خان نے امیتابھ کی فلم ’ڈان‘ اور ریتھک روشن نے ’اگنی پتھ‘ کے ری میک میں کام کیا تھا۔

’زنجیر‘ کے ری میک کی شوٹنگ چل رہی ہے۔ ’دو اور دو پانچ‘، ’ستے پہ ستا‘ اور ’دیوار‘ کے ری میک کے حقوق خریدے جانے کی بات چل رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں بالی ووڈ میں کئی پرانی فلموں کے ری میک بنے ہیں، لیکن ری میک کے اس بازار میں سب سے زیادہ مانگ امیتابھ بچن کی فلمیں کی ہے۔ بھلا ایسا کیوں؟

’اگنی پتھ‘ کا ری میک بنانے والے ڈائریکٹر کرن ملہوترا کہتے ہیں: ’امیتابھ بچن بھارت کے سب سے بڑے سٹار ہیں۔ ہم تمام لوگ انہیں دیکھ کر بڑے ہوئے ہیں۔ ہر کوئی خود کو ان سے جڑا ہوا محسوس کر سکتا ہے۔ اسی وجہ سے ان کی فلموں کے ری میک کی سب سے زیادہ مانگ ہوتی ہے۔‘

Image caption امیتابھ ہر عمر اور نسل کے لوگوں میں مقبول ہیں اور گزشتہ 40 سال سے مختلف طرح کے کردار نبھا رہے ہیں

امیتابھ کے قریبی دوست اور 1978 کی ان کی سپر ہٹ فلم ’ڈان‘ کے ڈائریکٹر چندرا باروٹ کہتے ہیں: ’امیتابھ گزشتہ 40 سال سے لوگوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ہر دور میں اپنے آپ کو ڈھالا ہے۔ ہر نسل کے ناظرین ان سے منسلک ہیں۔ باقی سٹارز کے ساتھ یہ بات نہیں ہے۔‘

’آخری راستہ‘ اور ’اندھا قانون‘ کے ری میک کے حقوق خریدنے والی پین انڈیا کمپنی کے پاس امیتابھ بچن کی کئی فلموں کے ویڈیو حقوق ہیں جنہیں وہ کئی سیٹلائٹ چینلز کو فروخت کرتی ہے۔

پین انڈیا کے سی ایم ڈی جينتي لال گاڑھا کہتے ہیں، ’امت جی کی فلمیں جتنی بار بھی ٹی وی پر دکھائی جاتی ہیں انہیں کافی ناظرین دیکھتے ہیں۔ ٹی وی چینلز کے لیے وہ ہمیشہ فائدے کا سودا ثابت ہوتی ہیں۔ امیتابھ بچن کا نام، اتنا بڑا برانڈ ہے کہ ہر کوئی اس سے منسلک ہونا چاہتا ہے۔ اس لیے وہ ری میک کے بازار کے بھی شہنشاہ ہیں۔‘

کرن ملہوترا بھی اس بات سے اتفاق رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’ٹی وی پر ہم ان کی وہ فلمیں دیکھ کر بھی بھرپور لطف اٹھاتے ہیں جو اپنے دور میں کامیاب نہیں رہیں۔ ’طوفان‘ اور ’جادوگر‘ جیسی فلموں کو دیکھتے ہیں اور پھر ان کی کاپی کرتے ہیں۔ کسی بھی پروڈیوسر سے آپ ری میک کی بات کرو اور صرف امیتابھ کی فلم کا نام لے لو۔ وہ فوراً تیار ہو جاتا ہے۔‘

Image caption امیتابھ نے اپنی ہی ایک ری میک میں کام کیا تھا لیکن وہ فلاپ رہی

اگرچہ فلم ناقدین مانتے ہیں کہ امیتابھ کی فلموں کے ری میک بناتے وقت اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ نئی فلم میں ہیرو کے کردار کو تھوڑا تبدیل کر دیا جائے ورنہ لوگ اسے امیتابھ کے کردار سے مقابلے کے طور پر دیکھیں گے اور یہ بات نئی فلم کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگی۔

کرن ملہوترا کہتے ہیں: ’میرے لیے پرانی ’اگنی پتھ‘ کے امیتابھ بھگوان کی طرح تھے۔ وہ ’لارجر دین لائف‘ کردار تھے۔ وہیں میں نے اپنی ’اگنی پتھ' میں اس کردار کو تھوڑا انڈرڈاگ بنایا جس کو ریتھک روشن نے ادا کیا۔ میری ’اگنی پتھ‘ کا وجے دینا ناتھ چوہان میرا دوست تھا۔

یہاں یہ یاد رہے کہ امیتابھ کی تمام فلموں کا ری میک کامیاب نہیں رہا۔ مثال کے طور پر شعلے کا ری میک جس میں خود امیتابھ بچن نے کام کیا تھا۔ اور اس فلم کا نام تھا ’رام گوپال ورما کی آگ‘۔

اسی بارے میں