’غیرت کے نام پر عورتیں آج بھی قربان کی جا رہی ہیں‘

Image caption اس تھیٹر ڈرامے کے ذریعے دراصل معاشرے میں پائے جانے والے ان رواجوں کوتنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے جو فیصلہ کرتے ہوئے ملزم کے صنف اور اپنے مفاد کو نظرمیں رکھتے ہیں

پاکستان میں ہرسال غیرت کے نام پرسینکڑوں خواتین کونہ صرف کاری کر کے قتل کر دیا جاتا ہے بلکہ ان عورتوں کے مسائل سے متعلق امور پرکام کرنے والی تنظیموں کا یہ بھی کہنا ہے کہ معاشرے کے بااثر لوگ اپنے چھوٹے اور بڑے مفادات کے لیے گھر کی عورتوں کو قربان کر دیتے ہیں۔

عورتوں کو پرائے مردوں کے ساتھ بدنام کر کے ان کو مارنے کے موضوع پر’کاری‘ کے نام سے تھیٹر ڈرامہ اسلام آباد میں منعقد کیا گیا۔

اسلام آباد میں فن اور فنکاروں کے فروغ کے لیے قائم ادارے پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس میں پیش کیے گئے اس کھیل کا موضوع ایک بستی تھی جہاں کی پنچایت کو شام کو شروع ہونے والی ایک کہانی کا اختتام صبح کا اجالا ہونے سے پہلے کرنا تھا۔ اگر وہ ایسا نہ کر پاتے تو ایک بااثر مرد کے ہاتھوں قتل ہونے والے ایک شخص کے قتل کی نہ صرف ان کے خلاف ایف آئی آر درج ہو جاتی بلکہ اس قتل کے بدلے اُن کے ایک فرد کا مارا جانا بھی یقینی ہوجاتا۔

پنچایت کو، جو حسب معمول بااثر زمینداروں پر مشتمل تھی، اس معاملے سے نمٹنے کے لیے ایک عورت درکار تھی جس کو مقتول کے ساتھ کاری قرار دے کر اس معاملے کو وہیں ختم کرنا تھا۔ یہ قربانی جن عورتوں میں سے ایک کو دینی تھی ان میں سے تین پہلے ہی مردوں کے ’نامناسب‘ اور ’یکطرفہ‘ فیصلوں کی بھینٹ چڑھ چکی تھیں لیکن پنچایت نے تو اپنی عزت اور قبیلے کو خونریزی سے بچانا تھا۔

ان کا مقصد تھا کہ یہ سب کچھ جلدی ہو جائے اور یہ ہی کسی کو پتہ چلے اور ساتھ میں کام بھی ہوجائے۔ اس مقصد کے لیے وہ ڈرامے میں کام کرنے والی نوجوان اداکارہ ماہ نورکوچنتے ہیں۔

اس تھیٹر ڈرامے کے ذریعے دراصل معاشرے میں پائے جانے والے ان رواجوں کوتنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے جو فیصلہ کرتے ہوئے ملزم کے صنف اور اپنے مفاد کو نظرمیں رکھتے ہیں اورعورت کو مال مویشی اور اپنی جائیداد سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں دیتے۔

تھیٹر کے انتظام میں معاونت کرنے والی غیر سرکاری تنظیم کیمپ کے چیف ایگزیکٹو نوید شنواری کا کہنا تھا کہ دراصل اس کوشش کے ذریعے پاکستان کے ان علاقوں اور دیہی معاشروں میں شعور کو بیدار کرنا ہے جہاں پر لوگوں کو اس بات کا ادراک نہیں کہ عورت ان کے برابر کی مخلوق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ان تھیٹرز کو دیہی علاقوں میں لے جانے کی کوشش کرینگے تاکہ جہاں یہ سب ہوتا ہے، وہ لوگ بھی اس کو دیکھ کراس سے سبق حاصل کرسکیں۔

ڈرامے کی ہدایتکار مدیحہ گوہر کا کہنا تھا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اب معاشرے میں ان موضوعات پر بات کرنا ماضی کے مقابلے میں اتنا آسان نہیں لیکن اجوکا تھیٹرگذشتہ انتیس سال سے یہی کام کر رہا ہے۔ نہ صرف کاری (غیرت کے نام پرقتل) بلکہ غیرت، تعاقب اور جواز کے نام سے بھی اسی قسم کے موضوعات پر ڈرامے پیش کر چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہرگزرتے دن کے ساتھ ان موضوعات کو اٹھانا اور ان پر بات کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ معاشرہ بھی اپنا ردعمل ظاہر کر رہا ہے اور اب وہ جو ہر کسی کو آسانی سے خاموش کرجاتے تھے، اب وہ بھی اتنے طاقتور نہیں رہے۔

اسی بارے میں