اسرائیل فلسطین تنازع پر بنی فلم، عرب دنیا میں ممنوع

Image caption ناقدین کا خیال ہے کہ بائیکاٹ کی وجہ سے فلم کو زیادہ شہرت ملے گی

اسرائیل فلسطین تنازعے پر بنی فلم ’دی اٹیک‘ کی نمائش عرب دنیا کے بہت سے ملکوں میں روک دی گئی ہے۔

فلم ’دی اٹیک‘ میں دیکھایا گیا ہے کہ فلم کا ہیرو امین، ایک امیر عرب اسرائیلی سرجن ہے جو تل ابیب میں کام کرتا ہے۔ امین کی خدمات کے اعتراف میں اسے شعبہ طب کے ایک بہت معتبر ایوارڈ سے نوازا جاتا ہے۔ اس موقع پر وہ فلسطین اور اسرائیل کے مل جل کر رہنے پر ایک جذباتی تقریر کرتا ہے۔ اسرائیل کی فیاضیوں کا ذکر کرتا ہے۔

اگلے سین میں ہسپتال میں ڈیوٹی کے دوران امین کو ایک دھماکے کی آواز سنائی دیتی ہے۔ دھماکے سے زخمی ہونے والے بچے اورعورتیں ہسپتال میں لائے جاتے ہیں اور امین ان کا علاج کرتا ہے۔ رات کو ہسپتال سے گھر جانے کے بعد امین کو ہسپتال بلایا جاتا ہے جہاں مردہ خانے میں ایک لاش اس کی منتظر ہے۔ یہ اس کی بیوی سائم کی لاش ہے۔ اس سے بھی بری خبر یہ ہے کہ حکام کو شبہ ہے کہ خودکش دھماکہ کرنے والا کوئی اور نہیں اس کی پیاری بیوی ہے۔

یہ فلم لبنانی ڈائرکٹر زیاد دوئری نے بنائی ہے۔ ابتدا میں لبنانی حکام نے لبنان میں فلم کی نمائش کی اجازت دی تاہم بعد میں اسے منسوخ کردیا۔

وجہ یہ بتائی گئی کہ فلم کی عکس بندی اسرائیل میں ہوئی ہے اور اس میں اسرائیلی اداکاروں نے کام کیا ہے جو اسرائیل مخالف قانون کی خلاف ورزی ہے۔

لبنان میں یہ قانون 1955 میں بنایا گیا تھا۔ اس سال مئی میں عرب لیگ نے اپنے تمام 22 رکن ممالک میں بھی اس فلم کی نمائش ممنوع قرار دے دی۔

فلسطینی حقوق کے لیے کام کرنے والے اینڈریو کارڈی نے فلم دیکھنا تک گوارا نہیں کی۔ ان کے خیال میں ڈائریکٹر نے غلط طریقہ کار اختیار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ڈائریکٹر نے اسرائیل جا کے اسرائیلی سٹاف کے ساتھ فلم بنائی، فلسطینی کے کردار کو ادا کرنے کے لیے انہوں نے کسی فلسطینی کی بجائے ایک اسرائیلی یہودی کا انتخاب کیا اور یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔‘

اینڈریو کارڈی کا مزید کہنا تھا کہ ’انہوں نے اسرائیل میں فلم بنا کے لبنانی لوگوں کے جذبات اور لبنانی حکومت کے احکامات کے خلاف کام کیا۔ لبنانی حکومت اور عوام اسرائیل سے تعلقات نہیں رکھنا چاہتے۔‘

فلم کے ڈائریکٹر ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

زیاد دوئری کہتے ہیں کہ ’یہ اسرائیل اور فلسطین پر بنی فلم ہے۔ حقائق کے قریب ترین رہنے کے لیے میں نے اسرائیل جا کے فلم بنائی۔ اس میں مشکل کیا ہے۔‘

یہ فلم امریکہ میں نمائش کی جا رہی ہے۔ اس فلم کی کئی بین الاقوامی فلمی میلوں میں بھی نمائش کی گئی ہے۔

امریکی ناقدین کے خیال میں فلم میں کہانی کو عمدگی سے پیش کیا گیا ہے اور اس میں نہ تو فلسطین کی حمایت کی گئی ہے نہ ہی اسرائیل کی۔ فلم میں اسرائیل فلسطین تنازعے کو جدید تناظر میں پیش کیا گیا ہے۔

اس ہفتے یہ متنازعہ فلم دی اٹیک یروشلم کے فلمی میلے میں نمائش کے لئے پیش کی جارہی ہے۔

ناقدین کا خیال ہے کہ بائیکاٹ کی وجہ سے فلم کو زیادہ شہرت ملے گی تاہم فلم کے ڈائریکٹر کہتے ہیں کہ انہیں اس طرح کی شہرت درکار نہیں اور وہ تو اپنی فلم کی نمائش لبنان میں چاہتے ہیں، جہاں وہ پیدا ہوئے اور جہاں سے ان کی جذباتی وابستگی ہے۔

اسی بارے میں