نہ تو کافی صنف ہے اور نہ پشتون ایک نسل

حفیظ خان کی کتاب، کافی: سندھ وادی کی شعوری تاریخ ادب میں ہئیت یعنی فارم کے بارے میں کافی کی تمام تعریفوں کو مسترد کرتی ہے جب کے سعد اللہ جان برق کی کتاب: پشتون اور نسلیات ہندو کش، بشریات میں نسل کے تصور کو ایک نئی وسعت میں دیکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ اسی لیے یہ دونوں کتابیں ان موضوعات سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے چیلنج ہیں۔

سندھ وادی میں شعور کی تاریخ

نام کتاب: کافی: سندھ وادی کی شعوری تاریخ

مصنف: حفیظ خان

صفحات: 344

قیمت: 500 روپے

ناشر: ملتان انسٹیٹیوٹ آف پالیسی ریسرچ، B/62 گلشن سخی سلطان، سورج میانی، ملتان

E-mail:drawar-1@yahoo.com

ادب و فنون کے عمومی تصورات کے مطابق تخلیق، خارج میں باطن کی تشکیل ہیں۔ زبان، رنگ، مٹی، پتھر، ساز و آلات، اشیا، آوازیں اور حرکات و سکنات سب خارج ہیں جو موجود و غیر موجود شکلوں اور طریقوں یعنی ہئیتوں میں جذبات، محسوسات اور تجربات یعنی باطن کی تشکیل کرتی ہیں۔

اس قضیے کے وسیع تر تناظر میں جانے کی یہاں گنجائش نہیں ہے لیکن انھی معنوں میں کافی کو بھی شعری اظہار ایک ہئیت تصور کیا جا تا ہے اور مہر عبدالحق، صدیق طاہر، آخوند رب ڈینو، فقیر سرشاری سروری، فضل احمد غزنوی، مخدو طالب المولیٰ، ڈاکٹر نبی بخش زہری، نجم حسین سید، محمد آصف خاں، کیفی جام پوری، سعید بھٹہ، مرزا معین احمد، ڈاکٹر اختر جعفری، کیفی جام پوری، ڈاکٹر موہن سنگھ اوبرائے، ڈاکٹر لاجونتی راما کرشنا، ڈاکٹر امین، صفدر میر، ڈاکٹر نذیر احمد اور دیگر کافی کی مختلف ہئیتوں کے بارے میں بتاتے ہیں۔

اس میں تو کوئی شک نہیں نجم حسین سید کے سوا جن محققین، نقادوں اور شاعروں کا حفیظ خان نے محاکمہ کیا ہے ان کا دائرہ مدرسانہ اور نصابی دائرے سے آگے نہیں جاتا اور عمومی تقاضوں کے پیش نظر جانا بھی نہیں چاہیے۔

حفیظ خان نے اپنا موقف بیان کرنے کے لیے جو 310 صفحے استعمال کیے ہیں۔ انھیں چند پیراگرافوں میں لانے کی کوشش میں اگرچہ غلط فہمی پیدا ہونے کے امکان کا خطرہ ہے لیکن کوشش کرنے میں کیا حرج ہے۔

۔حملہ آور اپنے ساتھ رب کا ایسا خود ساختہ تصور بھی لائے جسے سیاسی، فکری، تہذیبی اور معاشی قبضہ گیری کے استحکام کے لیے استعمال کیا جاتا رہا تا کہ شاہی تذکروں کے مقابل متوازی تاریخ کو مرتب نہ ہونے دیا جائے۔

- شاعری موثر ترین وسیلہ ثابت ہوئی۔ شاعری کے پردے میں سچ کو تجسیم کیا گیا۔ اس خطے میں کافی کلام زندگی کی سب سے بڑی رمز بن کر ابھرا۔ (اگرچہ) مقامی لسن و تہذیب میں ابرتے اِس رزمیے کو تجریدی معرفت اور روحانیت کے زمرے میں ڈال کر مبہم کرنے کی کوشش کی گئی۔

- میرے نزدیک یہ روشنی ’کافی‘ ہے جس نے دھرتی پر درماندہ اور افسردہ انسان کی متوازی تاریخ کا کام دیا ہے۔

- اس کافی نے ہمیشہ بدیشی زبانوں کے بجائے ماں بولی کو اعتبار عطا کیا اور حملہ آوروں کی ذہانت مقامی دانش کے سامنے کبھی نہ پنپ سکی۔ چڑھ مار کرنے والوں کا اس رمزیت سے عاری ہونا زیادہ اچنبھے کی بات نہیں۔

- میں نے کافی کی صنفی بحث، موضوعاتی حد بندیوں اور نصابی تنقید کے ضوابط ماورا اسے انسان کی متوازی تاریخ کے طور پر سمجھنے کو کوشش کی ہے۔

میں نہیں سمجھتا کہ حفیظ خان کی بات کسی طور بھی ناقابلِ فہم ہے۔ اگر ان کی اس تشریح کو بھی شامل کر لیں تو بات شاید کچھ اور آسان ہو جائے گی۔

’میں نے کافی کو ایک ایسا اروما (مہک) قرار دیا ہے جو ہر دھرتی کی اپنی تاثیر کے عین مطابق ہے۔ بین الاقوامی تنقید کے تناظر میں شاید اس روش کو پوسٹ ماڈرن ازم کا نام دیا گیا ہو لیکن یہ دھرتی کے اصل باشندوں کی الگ داستان ہے جس کے ذریعے انھوں نے معاصر اسلوبِ حیات ایجاد کیا ہے‘۔

حفیظ حان کے شعری بیانیے کو تھوڑی دیر کے بھول جائیں تو کہا جا سکتا ہے کہ کافی وہ شعری مزاحمت ہے جسے مفتوح اور محکوم متوازی تاریخ رقم کرنے اور حیات کا معاصر اسلوب ایجاد کرنے کے لیے بروئے کا لاتے ہیں۔

کیا بات اسی پر ختم ہو جاتی ہے؟ کیا زمان و مکاں میں لکیریں کھینچے بغیر مقامی اور غیر مقامی کی تقسیم ممکن ہے؟ تقسیم کو ممکن کر بھی لیا جائے تو مقامیوں کے طبقاتی تضادات کو کس شمار میں لایا جائے گا؟ اور ایسے ہی بہت سے سوالات ہیں جو حفیظ خان کی رسائی سے پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن وہ ان کی طرف جانے کی بجائے کہتے ہیں:

’سرائیکی خطے میں نمودِ نو کا زمانہ ہے اس اگاؤ میں بے شمار تہذیبی و سیاسی عوامل کا وجود بر حق لیکن اس حیاتِ تازہ میں شاعری کی اس امرت دھارا کا بہاؤ ہر جگہ دیکھا جا سکتا ہے۔ اکسویں صدی کے ابتدائی ایام میں اس کلام کا احیا معمولی واقع نہیں ہے۔ یہ اس امر کا اشارہ ہے کہ خطے کا باشندہ ہجر کی لغت کو مسترد کرتے ہوئے اپنی شعوری توانائی کے ساتھ زندہ ہے۔ اپنی تاریخ رقم کرنے کا ہنر جانتا ہے اور کشف رکھتا ہے کہ آنے والے زمانوں میں رب کے حقیقی تصور کو مہمم جوؤں کی بد نیتی سے کیسے بچا کے رکھنا ہے‘۔

میری ناقص رائے میں اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ حفیظ خان کے مطابق متوازی تاریخ کو رقم کرنے والے شعری کشف کی صلاحیت کا بنیادی منصب رب کے حقیقی تصور کو مہم جوؤں کی بدنیتی سے بچا کے رکھنا ہے۔

پڑھنے والوں کے لیے یقینی طور اس میں اور بہت سی باتیں کرنے اور سوال اٹھانے کے امکانات ہو سکتے ہیں اور یہ کتاب جس محنت سے لکھی گئی ہے وہ اسے پڑھے جانے کے لائق تو بناتی ہے۔

کتاب کو پڑھیں تو سندھ اور ہند کے لسانی فرق اور تغیر کو بھی تلاش اور شامل کریں۔ حفیظ خان محقق و نقاد ہی نہیں شاعر، افسانہ و ڈرامہ نگار بھی ہیں اور ان کی اب تک سولہ کے لگ بھگ کتابیں شائع ہو چکی ہیں، جن کی تفصیل کے لیے بھی ایک الگ باب درکار ہے۔

کتاب عمدہ شائع ہوئی ہے پھر بھی اس قیمت عام پڑھنے والوں کے لیے زیادہ ہے۔

نام کتاب: پشتون اور نسلیات ہندوکش

مصنف: سعد اللہ جان برق

صفحات 544

قیمت: 800 روپے

ناشر: عوام دوست فاؤنڈیشن۔ رحیم آباد، بھکر

E-mail:awamdost.bhakhar@gmail.com

اس کتاب کو آپ بنیادی طور پر بشریاتی یا اینتھروپولوجیکل جائزہ کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ اس میں مصنف پشتون نسلیات کو تلاش کرتے کرتے انسانی نوع تک پہنچتا دکھائی دیتا ہے۔

میں چونکہ ادب، فلم، ثقافت اور کسی حد تک سیاسیات کے مطالعے تک رہتا ہوں اس لیے اس کتاب کا مطالعہ میرے لیے کچھ انوکھا تھا لیکن اس کا دائرے اتنا وسیع تھا کہ میں اسے پڑھتا ہی چلا گیا۔

سعد اللہ نے اس کتاب کو ابواب 85 میں تقسیم کیا ہے اور کتاب کے شروع ہی میں ہی انھوں نے بڑی دلچسپ بات کی ہے۔ ان کا کہنا ہے: میں کیونکہ ایک دیہاتی کاشتکار ہوں اس لیے عادت سے ہو گئی ہے کہ جب کوئی درخت اکھاڑنا ہوتا ہے تو ایک وسیع اور دور دور تک پھیلا ہوا گڑھا کھودتا ہوں۔ اس سے کام بھی آسان ہو جاتا ہے اور جڑوں کی صورت میں اچھی خاصی لکڑی بھی حاصل ہوتی ہے۔ یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ کن کن اقسام کے درخت اپنی جڑیں کس کس طرح پھیلاتے ہیں۔

ذرا سا اور آگے چل کر وہ کہتے ہیں: انسان اور نباتات بھی اوپر جا کر آپس میں مل جاتے ہیں۔ دونوں ہی کے پیدا ہونے اور بڑھنے اور تولد تناسل کا طریقہ کافی ملتا جلتا ہے۔

اس کی مزید تفصیل آپ کتاب میں پڑھ سکتے ہیں لیکن کچھ باتیں میں آپ کو بتانے کو کوشش کرتا ہوں کیونکہ یہ باتیں بہت رائج تصورات کو چیلنج کرتی ہیں۔

میں یہاں ان کی کتاب کے مختلف ٹکڑے یہاں نقل کر رہا ہوں۔ زبان میں تھوڑا بہت ردو بدل ہو سکتا ہے لیکن یہ فرق آپ پڑھتے ہوئے خود دور کر سکتے ہیں۔

سنسکرت: انگریزوں کے دور میں قائم کی جانے والی ایشیاٹک سوسائٹی کے سربراہ ولیم جونز نے ایک لیکچر میں یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ سنسکرت میں جرمن، اطالوی، لاطینی، اور یونانی زبانوں کی سی خصوصیات ہیں۔ اس کے بعد تحقیق کی گئی اور نتیجہ نکالا گیا کہ ان سب زبانوں کی ماں وہ زبان ہے جو آریاؤں کے اجداد ’وروس‘ اپنے آبائی وطن میں بولتے تھے۔

سندھ، ہندوکش: سین کے معنی پشتو میں دریا کے ہیں۔ جس سے سیند، سندھ اور سندھو کی شکلیں نکلی ہیں۔ سین ہی سے سیندوکش بنا یعنی وہ بلندیاں یا پہاڑ جن جہاں سے دریا نکلتے ہیں۔ یہی سیندوکش ہندوکش میں تبدیل ہوا۔

ہندوستان کے مقامی: کول اور دراوڑ بھی مقامی نہیں تھے اور وہ بھی آریاؤں یا اساکوں کی طرح خیبر سے آئے تھے۔ ہند تہذیب و تمدن کے اصل بانی کول تھے جن کی رکھی ہوئی بنیادوں پر درواڑوں نے مضبوط عمارت تعمیر کی۔ ہند کے اصل باشندے کون تھے؟ یہ سوال جواب طلب ہے۔

آریا اور اساک: آریا دراصل دو گروہ تھے۔ ایک گروہ شہری تھا اور دوسرا صحرائی اور خانہ بدوش۔ خانہ بدوش اساک تھے۔ اصل آریاؤں کے مخالف۔ لفظ آریا کے معنی کیا ہیں یہ واضح نہیں ہے۔ جو معنی اس کے کیے جاتے ہیں: اصیل، نجیب، شریف، بہادراور پاک طینت وغیرہ تو یہ ہر حملہ آوور اور بالا دست اپنے آپ کو کہتا ہے۔ یہی معنی اس لفظ کو نازی نظریات کے تحت کیے گئے۔

پشتون و یہودی: کنعانی یا فونیقی مکمل طور پر تجارت پیشہ تھے اور تمام اطوار کے مالک تھے، وہ نفع کمانے کے لیے سب کچھ جائز سمجھتے تھے۔ وہ تجارت میں رائج تمام بے ایمانیوں کے بانی تھے اور انھی سے یہ خصوصیت یہودیوں کو منتقل ہوئیں۔ یہود اور بنی اسرائیل کی یہی قومی صفت انھیں پشتونوں سے الگ کرتی ہے۔ پشتون کبھی تجارت میں ملوث نہیں رہے وہ تجارت کو ذلیل پیشہ سمجھتے تھے اور سپاہ گر تھے۔

پشتون نسل: پشتونوں کو ایک نسل یا صرف ایک جد کی اولاد نہیں مانا جا سکتا۔

پشتو: پشتو محض زبان کا نام نہیں بلکہ بہت سی صفات اور خصائص سے عبارت ہے۔ مثلاً ان جملوں کو دیکھی: تم میں ذرا بھر بھی پشتو (غیرت) نہیں، میں نے اس کے ساتھ پشتو (وفا) کی، اس نے میرے ساتھ پشتو(وفا) نہیں کی۔ جس میں پشتو(غیرت) نہیں اس میں ایمان نہیں، سرجا ئے مگر پشتو(عزت) نہ جائے، جس میں پشتو (غیرت) نہیں وہ زندہ نہیں یا بے پشتو (عزت) زندگی سے موت بہتر ہے۔

پشتو رسم الخط: پشتو کو عربی رسم الخط میں لکھنے کی ابتدا سلطان محمود کے زمانے میں ہوئی اس سے پہلے پشتو دیوناگری رسم الخط میں لکھی جاتی تھی، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پشتون ادبیات کا سراغ ایک ہزار سال سے اوپر نہیں ملتا۔ جذبۂ دینی کے تحت دیوناگری رسم الخط کو کفر قرار دے کر پشتو کو مشرف بہ اسلام کیا گیا۔

قوم اور قبائلی اتحاد: ایک قبیلے کے نام پر پورے اتحاد کا معروف ہونا کوئی نئی بات نہیں، سومیری، اکادی، بابلی، کلدانی، آریا، اساک اور ہیکسوس ایک قبیلہ نہیں قبیلوں کے اتحاد تھے۔ یہی صورت پشتون قوم کی بھی ہے۔

پشتون کے نسلی عزیز: ترک، ترکمان، لاسک، ہیکوس، حتی، متانی، لودی، میدی، سیتی اور یونانی نسلی لحاظ سے پشتونوں کے عزیز ہیں۔ اسی طرح ہند کی جانب پھیلنے والی اقوام کھستری، راجپوت، پنجابی، کشمیری، سندھی، بنگالی اور بلوچ بھی پشتونوں کے شریک اور عزیز ہیں۔

پشتو زبان اور قوم: پانچویں صدی قبل مسیح میں پشتو بطور ایک اہم زبان اورپشتوں بحیثیت ایک قوم مکمل طور ابھر چکے تھے۔ پشتونوں کا ذکر بطور پکتی، پکتویس اور پکتاس تقریبًا پندھرویں صدی قبل مسیح سے تحریروں میں آنے لگا تھا۔

کھوار: قدیم زمانوں میں اہلِ چترال خود کو اور اپنی زبان کو کھوار کہتے تھے، کھوار یعنی کوہ واریعنی وہی پہاڑی جس کی نسبت سے آریاؤں کے آباؤ اجداد ورو یا وروس کہلاتے تھے۔ یہ وروس وسطی ایشیا سے نیچہ اترے تو اساک اور آریا کے ناموں سے موسوم ہوئے۔

اساک: اساک وہ تمام قبائل ہیں جنھوں گھوڑوں کے استعمال میں پہل کی۔ ان میں وہ تمام قبائل آتے ہیں جو مصر و یونان، قطبِ شمالی، بحیرہ خزر اور وسطی ایشیا، ایران، افغانستان، روس، مشرقی یورپ اور ایشیائے کوچک سے تعلق رکھتے تھے اور خانہ بدوش تھے۔ یہی اساک یوچی کی صورت ظاہر ہوتے ہیں اور چین کے نوح سے اٹھ کر ہندو کش کے اردگرد اور گھوم کر ہند تک پھیل گئے۔

پشتون کوئی نسل یا نژاد نہیں بلکہ ایک مخصوص خطے میں رہنے والے، مخصوص کلچر اور آئین کے تحت رہنے والا ہر شخص پشتون ہے جو اس سے نکل گیا وہ پشتون ہوتے ہوئے بھی پشتون نہیں۔

سعد اللہ جان نکلے تو پشتون نسل کی تلاش میں تھے لیکن شاید ان کا نتیجہ یہ نکلتا ہے نہ صرف برصغیر ہند میں بلکہ دنیا کے بڑے حصے میں کسی ایک جگہ کسی ایک نسل کے لوگوں کا ہونا شاید ممکن نہیں۔ پشتون ایک اخلاقی اور سماجی تصور ہے اور جو بھی اس تصور پر پورا نہیں اترتا وہ پشتون نہیں۔ اب شاید کتاب عمدہ شائع ہوئی ہے۔ قیمت مجھے تو کچھ زیادہ لگتی ہے لیکن لازمًا پڑھی جانے والی ہے۔

اسی بارے میں