امریکی گلوکارہ کا پاکستان کے لیے گیت

Image caption ہیدر کے مطابق ایک فنکار کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی پہچان اپنے فن کے ذریعے کروائے

امریکہ کی پاپ گلوکارہ ہیدر شمڈ اپنی پہچان بطور پاکستانی کروانے کے لیے کوشاں ہیں۔ پاکستان سے اپنی محبت کے اظہار کے لیے انہوں نے ایک قومی نغمہ گایا ہے اور اس کے علاوہ ان پر چھ قسطوں پر مشتمل ڈرامہ سیریل بھی بنائی جا رہی ہے۔

ہیدر شمڈ گلوکاری کے علاوہ ماڈلنگ اور گیت نگاری بھی کرتی رہی ہیں۔ ان کے شوہر ڈاکٹر سید رافع مہدی پاکستانی نژاد امریکی شہری ہیں۔

ڈاکٹر سید رافع مہدی بنیادی طور پر کراچی سے تعلق رکھتے ہیں اور لڑکپن میں امریکہ چلے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے جو خواب دیکھے تھے وہ سارے پورے ہوگئے، اس کے علاوہ ان کی بیوی ہیدرگریمی اکیڈمی ممبر بن گئیں، اوپرا سنگر کا بھی اعزاز حاصل کر لیا اور پاپ سنگر کا بھی خوب پورا ہوگیا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ ہم نے سوچا کہ ایک نیا خواب بناتے ہیں۔ اس خواب کی ابتدا اس وقت ہوئی جب کشمیر میں زلزلے کے دنوں میں میں پاکستان آیا اور ہیدر نے بھی ساتھ چلنے کی خواہش کا اظہار کیا۔‘

ڈاکٹر رافع کا کہنا ہے کہ ہیدر کی نظروں سے انہوں نے ایک پاکستان اور لوگوں کو دیکھا۔ ہیدر کا خیال تھا کہ جو چیز پاکستان میں ہے اور یہاں کے لوگوں کی روح میں ہے وہ کہیں اور نظر نہیں آتی۔

پاکستان کے ٹی وی چینلز کے مارننگ شوز کی ان دنوں زینت بنی ہوئی ہیدر شمڈ نے اپنے فیس بُک پیج پر تحریر کیا ہے کہ پاکستان کی پانچ چیزوں کے بارے میں باقی دنیا کے لوگ نہیں جانتے۔

بقول ان کے پاکستانی لوگ اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں، انہیں کھانا، کھیل اور موسیقی پسند ہے، پاکستانی ممہان نواز ہیں، یہ لوگ کُھلا دل اور دماغ رکھتے ہیں۔ ہیدر کے خیال میں یہاں قابل لوگ موجود ہیں، یہاں لوگ زندگی کا لطف لیتے ہیں، اور یہ محبت کرنے اور خیال رکھنے والے لوگ ہیں۔ ان کی اس پوسٹ پر ایک ہفتے میں پندرہ لاکھ ہٹس آئیں۔

Image caption موسیقار ارشد محمود کا کہنا تھا کہ وہ نئے خیالات کے پیچھے دوڑتے ہیں

پاکستان میں ان دنوں ہیدر شمڈ ایک ویڈیو البم بنانے میں مصروف ہیں اور اس کے گیتوں کے بول انور مقصود نے لکھے ہیں جبکہ موسیقی ارشد محمود نے ترتیب دی ہے۔

ہیدر شمڈ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ایک شوہر دیا جس سے ایک بیٹے اور بیٹی کی اولاد ملی، اسی لیے وہ بھی پاکستان کے لیے کچھ کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

’میں پاکستان میں پیدا تو نہیں ہوئی لیکن مجھے یہاں اپنے گھر جیسا احساس ہوتا ہے، یہاں کی کئی چیزوں سے محبت کرتی ہوں، یہاں کی رسمیں اور کھانا مجھے پسند ہے۔‘

ہیدر کے مطابق ایک فنکار کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی پہچان اپنے فن کے ذریعے کروائے۔ ان کا کہنا ہے کہ بطور فنکار ان کی یہ ذمے داری بنتی ہے کہ وہ گیتوں کے ذریعے دنیا کے لوگوں کو یہ بتائیں کہ پاکستان ایک خوبصوت ملک ہے، اور وہ بغیر خوف و خطرے کے یہاں موجود ہیں اور گھوم پھر رہی ہیں۔

ڈاکٹر رافع مہدی کا کہنا ہے کہ اس گیت کا خیال کیسے آیا اور یہ کیسے بنا اس پر چھ قسطوں پر مشتمل ڈرامہ سیریل بن رہا ہے جس میں یہ بتایا جائے گا کہ ہیدر شمڈ کون ہے، ان کو پاکستان سے محبت کیوں ہے، اور دنیا کو ہیدر کی نظر سے یہ دکھایا جائے گا کہ پاکستان ماڈرن اور روشن خیال ہے ۔

ہیدر شمڈ کے ساتھ موجود موسیقار ارشد محمود کا کہنا تھا کہ وہ نئے خیالات کے پیچھے دوڑتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر رافع اور ہیدر ایک اچھا آئیڈیا ساتھ لائے جس سے انہیں خوشی ہوئی اور گیت کی موسیقی دینے کے لیے تیار ہوگئے۔

اسی بارے میں