سنجیو کمار کنوارے کیوں رہ گئے؟

Image caption سنجیو کمار کے خاندان میں زیادہ تر مرد افراد کی موت جوانی میں ہی ہو گئی تھی

بالی وڈ کے آنجہانی اداکار سنجیو کمار کی آج 75 ویں سالگرہ ہے۔ اس موقع پر ان کی دوست ان کے کنوارے رہ جانے کے بارے میں بتاتی ہیں۔

سنجیو کمار کی دوست اور اداکارہ انجو مہندرو اس موقع پر انہیں یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ وہ انھیں ہری بھائی بلاتی تھیں، جو ان کا اصلی نام تھا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ان کے کنوارے رہ جانے پر بھی اظہار خیال کیا۔

انجو کے مطابق ’سنجیو کمار بہت کم گو تھے۔ لیکن ان کا سینس آف ہیومر کمال کا تھا‘۔

انجو مہندرو نے بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے کہا ’سنجیو کے بارے میں عام خیال تھا کہ وہ بہت کنجوس ہیں۔ لیکن ایسا نہیں تھا۔ انھیں جس کو جو دینا ہوتا تھا وہ دے دیتے تھے۔ جسے نہیں دینا ہوتا تھا تو نہیں دیتے تھے‘۔

وہ کہتی ہیں کہ سنجیو کمار اپنی پرسکون قدرتی مسکراہٹ سے لڑکیوں کا دل جیت لیتے تھے، ان کی آنکھوں میں غضب کی کشش تھی۔

Image caption سنجیو کمار اپنی پرسکون قدرتی مسکراہٹ سے لڑکیوں کا دل جیت لیتے تھے، ان کی آنکھوں میں غضب کی کشش تھی، اداکارہ انجو مہندرو

’اپنے زمانے کی کئی اداکاراؤں سے ان کی گہری دوستی تھی۔ جب میں ہری بھائي سے ان کے بارے میں بات کرتی تو ہم ان کے نام سے نہیں بلکہ نمبر سے بلاتے۔ میں کہتی، ہری آج آپ کو ایک نمبر سے مل رہے ہو نہ؟ یا آج سات نمبر والی سے تمہارا جھگڑا ہوا کیا؟ وغیرہ وغیرہ‘۔

انجو کا کہنا تھا کہ وہ کبھی بھی اپنی خاتون دوست پر بے وجہ کا حق نہیں جتاتے تھے۔ وہ پوزیسیو‘ نہیں تھے، ان کے ساتھ خواتین اطمینان محسوس کرتی تھیں۔

انھوں نے کہا ’ہری بھائی عرف سنجیو کمار کے ساتھ ایک مسئلہ ضرور تھا۔ جب کبھی کوئی خاتون ان کی طرف متوجہ ہو جاتی یا ان کے ساتھ ان کا افیئر شروع ہوتا تو انہیں شک ہونے لگتا ہے کہ کہیں وہ ان کی دولت اور نام کے پیچھے تو نہیں ہے‘۔

’میں ان سے اکثر کہتی ایسے تو تم كنوارے ہی مر جاؤ گے۔ کسی ایک عورت پر تو بھروسہ کرو۔ وہ ایک خاتون کو خاصا پسند کرتے تھے لیکن شاید اس افیئر میں ان کا دل بھی ٹوٹا‘۔

Image caption سنجیو کمار نے فلم ’ہم ہندوستانی‘ سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا

سنجیو کمار نے فلم ’ہم ہندوستانی‘ سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ لیکن بطور ہیرو ان کی پہلی فلم ’نشان تھی‘ جو سنہ 1965 میں ریلیز ہوئی۔

انھوں نے دلیپ کمار کے ساتھ فلم ’سنگھرش‘ میں کام کیا۔ انھیں فلم ’کوشش‘ کے لیے بہترین اداکار کے اعزاز سے نوازا گیا۔

ان کی یادگار فلموں میں ’شعلے‘، ’سیتا اور گیتا‘، ’انگور‘، ’شطرنج کے کھلاڑی‘، ’ترشول‘، ’آندھی‘، ’کھلونا‘، ’موسم‘، اور ’ودھاتا‘ شامل ہیں۔

سنجیو کمار کے خاندان میں زیادہ تر مرد افراد کی موت جوانی میں ہی ہو گئی تھی۔

انجو نے بتایا ’وہ جب بھی کہا کرتے کہ میں بھی جلد چلا جاؤں گا، تو میں ان سے کہتی ہری چپ رہو۔ زیادہ مت پیا کرو۔ کھانے پینے کا خیال رکھو۔ تمہیں کچھ نہیں ہوگا۔ وہ اپنے آخری دنوں میں بے حد پرسکون ہو گئے تھے اور کسی سے ملتے جلتے نہیں تھے‘۔

Image caption فلم انڈسٹری میں ہری بھائي کے زیادہ دوست نہیں تھے۔ وہ شتروگھن سنہا ور پونم سنہا کے کافی قریب تھے

انجو کے مطابق سنجیو کمار ’محبت اور پراپرٹی کے معاملے میں کبھی بھی خوش قسمت نہیں رہے۔ جب بھی فلیٹ خریدنے کا خیال آتا ان کے پاس کچھ پیسے کم پڑ جاتے‘۔

آخر کار انہوں نے جوہو میں ایک پراپرٹی خریدی لیکن اس کا سکھ نہیں اٹھا پائے اور وہاں شفٹ ہونے سے پہلے ہی 6 نومبر سنہ 1985 کو 47 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا۔

فلم انڈسٹری میں ہری بھائي کے زیادہ دوست نہیں تھے۔ وہ شتروگھن سنہا ور پونم سنہا کے کافی قریب تھے۔

اسی بارے میں