دو مجموعے فکشن کے اور دو شاعری کے

محمود احمد قاضی کے دو ناول اور افسانہ’ٹلّہ جوگیاں (جدید)‘ اور خالد فتح محمد کے افسانے ’تانبے کے برتن‘ کے نام سے، جب کہ ریاض ساغر کی شاعری کا مجموعہ ’پانچواں موسم‘ اور فضل احمد خسرو کی شاعری ’لمحۂ موجود‘ کے نام سے شائع ہوئی ہے۔

ٹلّہ جوگیاں (جدید)

نام کتاب: ٹلّہ جوگیاں (جدید)

مصنف: محمود احمد قاضی

صفحات: 180

قیمت: 300 روپے

ناشر: سانجھ پبلیکیشنز، 2/46 مزنگ روڈ، لاہور

E-mail:sanjhpks@gmail.com

ٹلّہ جوگیاں (جدید) پڑھتے ہوئے پہلی بار مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ افتخار جالب نے جو ایک بار فی بطنِ شاعر کی اصطلاح استعمال کی تھی وہ فی بطنِ فکشن نگار کے طور پر بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔

اب یہی دیکھ لیں کہ محمود احمد قاضی نے اپنے ایک ناولٹ ’ٹلّہ جوگیاں (جدید)‘ کو اس مجموعے کا نام بھی بنایا ہے۔ اور اس کے ساتھ عام قاعدے کے مطابق کتاب کے سرِ ورق پر یہ وضاحت بھی نہیں کی کہ اس میں ایک اور ناولٹ اور ایک افسانہ بھی ہے۔

لیکن اس کی تو ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ اسے (A Trio) بھی قرار دیتے ہیں جس کے معنی: ایک تِگڈَم، یا تین آوازوں میں گانے یا تین سازوں پَر بَجانے کا راگ یا سَہ انتَرے کی تَقسیم بھی لیے جاتے ہیں۔

لیکن وہ جو فی بطنِ افسانہ نگار والی بات ہے وہ ٹلّہ جوگیاں میں نہیں، ’جدید‘ پر اصرار میں چھپی ہے۔ کوئی اسرار ہے جو اس اصرار میں پوشیدہ ہے اور مصنف کہیں اس کی گرہ میں بندھا ہے۔

فکشن کی اصطلاح از خود اس بات پر اصرار کرتی ہے کہ اسے حقیقت تو سمجھا جائے لیکن تاریخی نوع کی نہیں۔ فکشن وہ متوازی تاریخ اور حقیقت ہے جو غیر تاریخی اور غیر حقیقی اور ہوتے ہوئے بھی ہمیں تاریخ اور حقیقت کے قریب لے جاتی ہے۔ اسی قرب سے اُسے متوازی کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔

مجھ ایسے عام قاری کے لیے ٹلّہ جوگیاں (جدید) ایک علاقے کا نام ہے جو ناولٹ کے آخر میں ایک تختی کی صورت منکشف ہوتا ہے۔ اس تختی پر کچھ اور بھی لکھا ہوتا تو مجھے کوئی فرق نہ پڑتا۔ نہ تو پڑھے جانے کی قوت کے حوالے سے نہ ہی معنی کے حوالے سے۔

میں تو یہی دیکھتا کہ اس میں نمایاں کرادار معتوب ہیں دوسروں کے بھی خود اپنے بھی۔ ایسا لگتا ہے وہ نہیں بلکہ زندگی انھیں گذار رہی ہے۔ وہ کسی شمار میں نہیں ہیں۔ کوئی انھیں سمجھتا نہیں۔ یہاں تک کہ ماں بیٹے کو اور بیٹا ماں کو نہیں سمجھ پاتا۔

لیکن اس میں تو کوئی ایسی خاص بات نہیں ہے جو اس سے پہلے فکشن میں نہ آئی ہو اور تو اور اردو فکشن میں بھی آئی ہو گی لیکن ایسے نہیں آئی ہو گی جیسے محمود قاضی بیان کر رہے ہیں۔ اس میں تو بیٹا موتیوں کا گجرا لاتا ہے تو ماں ناراض ہو جاتی ہے۔

ان دو ناولٹوں اور ایک افسانے پر مشتمل اس ٹریو کا قضیہ وہ درد ہے جو ان ناولٹوں اور افسانہ، تینوں میں مشترک ہے اور شاید اسی لیے محمود قاضی نے ان تینوں کو وہ راگ قرار دیا ہے جو تین سازوں پر بج رہا ہے۔

ایک بات اور جو ان تینوں میں مشترک ہے وہ کرداروں کا طبقاتی علاقہ ہے، تنویر قاضی کی اس بات سے اختلاف کی گنجائش ہے کہ وہ خطِ غربت سے نیچے کے ہیں۔ وہ نچلے طبقے کے تو ہیں لیکن اتنے پسماندہ ہیں جو پسماندگی کو مقدر کے طور پر ایسے قبول کر چکے ہیں کہ انھیں اپنے آپ پر اصرار کرنے اور ہونے کا خیال تک نہیں آتا۔

اگر تنویر قاضی نہ بھی بتاتے تو بھی پڑھنے والوں کو علم ہو جاتا کہ محمود قاضی وسیع المطالعہ ہیں کیوں کہ خود کو اس کے اظہار سے روک نہیں پائے۔ جب تک مطالعہ محو نہ ہو فکشن کا جن بالعموم قابو نہیں آتا۔ یا پھر فکشن کو مطالعے کی ری کری ایشن پر استوار کیا جا سکتا ہے۔

مجھے یہ تو علم نہیں کہ اس کے علاوہ محمود احمد قاضی کا اور کیا کیا شائع ہو چکا ہے لیکن اس ٹریو کو پڑھ کر یہ پتا چلا ہے کہ ان میں کتنی قوت ہے اور یہی وجہ تکلیف کی بھی ہے کہ انھیں اس قوت کا احساس نہیں ہے ہوتا تو بات ناولٹوں پر نہ رکتی۔

کتاب میں پروفنگ کی معمولی غلطیاں ہیں۔ کتاب اچھی پروڈکشن کا نمونہ ہے۔ قیمت بھی مناسب ہے۔

تانبے کے برتن

نام کتاب: تانبے کے برتن

مصنف: خالد فتح محمد

صفحات 144

قیمت: 250 روپے

ناشر: سانجھ پبلیکیشنز، 2/46 مزنگ روڈ، لاہور

E-mail:sanjhpks@gmail.com

اس کتاب میں اٹھارہ افسانے ہیں جو لگ بھگ ایک سو ستائیس صفحات پر پھیلے ہیں تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ صرف ایک افسانہ ذرا طویل یعنی گیارہ صفحے کا ہے باقی سترہ میں ایک چار صفحے کا ہے اور باقی پانچ سے آٹھ صفے کے اور کوئی بھی ایسا نہیں کہ پڑھنے والے کو زیادہ جان مارنی پڑے۔

سب سے زیادہ جان تو پڑھنے والے کو اس کتاب کے دیباچے پر مارنی پڑے گی جو سمیع آہوجہ نے لکھا ہے۔

ان کا کہنا ہے : آئیے، افسانوی بیوٹی پارلر میں گھس کر اک جہانِ دیگر کا نظارہ کرتے ہیں۔ افسانوی خد و خال کو سنوارنے کا بیوٹی پارلر مختلف کریموں اور پاؤڈروں سے بھرا پڑا ہے جو رنگ نکھارنے کے لیے نہیں، اس کی رنگت کو تبدیل کرنے کے لیے ہیں: اسی لیے اس کے ہاں سِریت کی ایک جھلک نے اپنا آنچل پوری فضا پر ڈال کر جو روپ بخشا ہے، وہ وہ تبدیلیِ رنگت کا حربہ چونکانے والے حربے کا جواز بناتا ہے۔

انھوں نے سریت کے پٹ کھول کر جو بتایا ہے وہ آپ کتاب میں پڑھ لیجے گا لیکن میں یہ کہوں گا کہ اس دیباچے کو ہرگز بھی پہلے پڑھنے کی کوئی ضرورت نہیں، پہلے افسانے پڑھیں اور پھر مزا بدلنے کے لیے دیباچہ بھی پڑھ لیں۔

اس دیباچے میں انھوں خالد فتح محمد کے بارے میں وہ باتیں بھی بتائی ہیں جو کتاب میں ویسے نہیں دی گئیں جیسے یہ کہ ان کے افسانوں کا ایک مجموعے ایک سے پہلے بھی آ چکا ہے۔ ان کی زندگی کے اور باب، خاص کر عسکری، کھولنے کی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن مجھے سمیع آہوجہ کی یہ چونکانے والی بات کچھ زیادہ بیٹھتی نہیں لگی۔

انداز کھردار بھی نہیں ہے، ہو بھی نہیں سکتا، ذرا طبقہ تو دیکھیں۔ لیکن کچھ باتیں وہ عجیب کرا دیتے ہیں مثلاً ’خانۂ سنگ‘ میں رخشی کا سر منڈوا دیا اور احمد حسن کو ایسا بگھایا کہ نصف صدی گذار دی۔ یہ صرف محلے یا معاشرے کا ڈر تو نہیں تھا، اندر کا تھا، اندر کا تھا تو اس کی کشمکش کہاں چلی گئی۔

مجھے لگتا ہے کہ خالد گہرائی جانتے ہیں لیکن اس میں اترنے پر تیار نہیں ہوتے لیکن بتا ضرور دیتے ہیں اور یہی بات شاید ان سے افسانے لکھواتی ہے۔ انہیں کوئی روگ نہیں جو افسانے یا کہانیاں نہیں لکھیں گے تو ان کا جینا دوبھر ہو جائے گا۔

ساری کہانیاں پڑھنے کی ہیں اور ایسی ہیں کہ ایک ساتھ پڑھنی بھی نہیں چاہیں بالکل اُسی طرح جیسے ایک ساتھ کئی خوشبوئیں نہیں سونگھنی چاہیں۔ کوئی قانونی پابندی تو نہیں لیکن دوسری کے بعد کسی خوشبو کی اصل کا پتا نہیں چلے گا۔

کچہ گلہ شاہد شیدائی سے بھی کر لیں: کہتے ہیں ’افسانے کے زیر نظر مجموعے میں وہ تمام محاسن ہیں جو کسی افسانہ نویس کو منفرد مقام عطا کرتے ہیں۔ انھوں نے کسی بندھے لگے اصول کا تتبع کیے بغیر اپنے افسانوں کو ہئیت، تکنیک اور زبان و بیان کے نت نئے تجربات سے ہم کنار کیا ہے‘۔

مجھے یقین ہے کہ اگر خالد کے افسانے شاہد شیدائی کو نام بتائے بغیر دیے جاتے تو وہ کبھی ایسی باتیں نہ کرتے۔

خالد کے افسانے اچھے ہیں، پڑھنے میں ناگوار نہیں، خالد مزے سے کہانی سناتے ہیں، کیا یہ کم ہے؟ اس کچھ اور ڈالنے کی کیا ضرورت ہے؟ تانبے کے برتن واقعی ایسی کہانی ہے کہ اُسے ٹائیٹل بنایا جانا چاہیے تھا۔

کتاب کی پروڈکشن عمدہ ہے۔ قیمت بالکل مناسب ہے اور مجھے اس کا ٹائٹل خاص طور پر اچھا لگا ہے۔

پانچواں موسم

نام کتاب: پانچواں موسم

مدیر: ریاض ساغر

صفحات: 198

قیمت: 350 روپے

ناشر: سانجھ پبلیکیشنز، 2/46 مزنگ روڈ، لاہور

E-mail:sanjhpks@gmail.com

ریاض ساغر کے اس مجموعے نے میرے لیے آسانی پیدا کردی ہے کیوں کہ اس میں انھوں نے بہت سارے وکیل جمع کر لیے ہیں۔ اس لیے میرے کچھ بتانے کی ذمہ داری کم ہو گئی ہے۔

یہ وکیل بھی ایک پہ ایک ہیں۔ انور شعور، محمد علی صدیقی، سعادت سعید، رشید مصباح، حسنین رضا، افسر منہاس، عابد حسین عابد، غلام حسین ساجد، پروفیسر محمد صفیان صفی، فاضل جمیلی اور دیگر

انور شعور کا کہنا ہے: ریاض ساغر شعر و ادب کا عمیق مطالعہ رکھنے والے بہت پختہ شاعر ہیں۔ آپ کی غزلوں میں کلاسیکی رچاؤ بھی موجود ہے اور نئے نئے خیالات بھی انتہائی سلیقے اور ایمائیت کے ساتھ باندھے گئے ہیں۔

محمد علی صدیقی کہہ گئے ہیں: ریاض ساغر جذبے کی سچائی اور فکری گہرائی کے ساتھ شعر کہتے ہیں اور یہ وہ خوبی ہے جو فی زمانہ مفقود ہوتی چلی جا رہی ہے۔ انھوں نے پختہ کاری کی تائید بھی کی تھی۔

سعادت سعید نے بتایا ہے: ’ریاض ساغر کی نظمیں اور غزلیں اپنے معنوی فیبرک کے اعتبار سے عصری اردو نظم کے سیاق و سباق میں موجود انسان شناسی کی گہری روایتوں سے مربوط ہیں۔ ان کے خیال میں غریب دشمنی بدترین انسان دشمنی ہے‘۔

عابد حسین عابد: ریاض ساغر کی شاعری پڑھ کر ہمیں معاشرتی سفاکیوں کے نتیجے میں جنم لینے والی بے بس انسانی زندگی کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ فاختاؤں، پھولوں، سبز جھیلوں، تتلیوں اور نئی صبح کی خواہش میں دن گذارنے والا یہ شاعر انسانی رشتوں کی کمزور پڑتی گرفت پر بہت دکھی ہے۔

غلام حسین ساجد: ریاض ساغر کی شاعری خصوصًا اس کی نظمیں غیر محسوس طور پر ان معاملات سے جڑی ہیں جو آج کے عہد اور طرزِ معاشرت کا خصوصی استعارہ ہیں۔ عدم تحفظ، تنہائی کا دکھ، رومانی پیکار، تعصب اور عداوت کی وسعت پذیری اور اس نوع کے دیگر مسائل اس کی نظموں میں اس طرح اپنے ہونے کی جھلک دیتے ہیں جیسے ان میں اور اس کی شاعری میں ایک سرّی یگانگت فروغ پا چکی ہو۔

پروفیسر محمد صفیان صفی: میری دانست میں سرزمینِ ہزارہ سے قتیل شفائی کے بعد اور کوئی اتنی توانا آواز نہیں ابھری۔

کتاب کے ابتدائی بیس صفحے آرا کے لیے مخصوص ہیں۔ میں اس کے حق میں نہیں ہوں اس لیے کہ یہ طریقہ منفی اثر مرتب کرتا ہے۔

لیکن ریاض ساغر کا مجموعہ پڑھتے ہوئے مجھے لگا ہے کہ وہ 1990 اور 1999 میں اپنی منفرد پہچان بنانے کے بہت قریب تھے لیکن پھر وہ اس انداز کو جاری نہیں رکھ سکے۔ شاید وہ اس پتّہ مارے پر تیار نہیں ہوں گے۔

ان کی 1990 کی غزل دیکھیں:

آئینے رکھ دیے گئے دیوار و در کے بیچ

دیوار و در کے بیچ، مری چشمِ تر کے بیچ

مدت کے بعد آئی تھی اک سانولی سی شام

اک سانولی سی شام کہاں ان نگر کے بیچ

پہلے مصرے کے آخری ٹکڑے کو دوسرے مصرے میں دہرانا اگر ان کی اپنی اختراع اور ایجاد تھی تو انھیں اسی انداز کو تسلسل دینا چاہیے تھا۔

اسی طرح ان کی نظم شہر آشوب ہے۔ جو انھوں نے 1999 میں کہی تھی:

ہر راہ میں حائل ہے ہمارے کوئی دیوار ---------------- دیوار کے اس پار

قاتل ہے لیے برچھی، سروہی لبِ سوفار-------------- ہم قتل کو تیار

تو یہ انداز، اگر ان کا تھا، تو انھیں اسے قائم رکھنا تھا، اب بھی کر سکتے ہیں۔

ان کی شاعری کا مطالعہ کسی کے لیے بھی ناخوشگوار نہیں ہو سکتا۔

کتاب بھی بہت اچھی چھپی ہے۔ قیمت انتہائی مناسب ہے۔

لمحۂ موجود

نام کتاب: لمحۂ موجود

مصنف: فضل احمد خسرو

صفحات: 144

قیمت: 250 روپے

ناشر: سانجھ پبلیکیشنز، 2/46 مزنگ روڈ، لاہور

E-mail:sanjhpks@gmail.com

فضل خسرو نے اپنی پچاس سالہ زندگی کا نچوڑ یہ نکالا ہے کہ زندگی اڑنے والی مٹھی بھر ریت ہے وہ صوفیوں اور سادھو سنتوں کی تقلید میں جیون کو مایا قرار دیتے ہیں۔ انھوں نے میر تقی میر کی طرح درد و غم جمع کیے ہیں۔ دنیا کے وقوعات نے انھیں پریشانیوں میں مبتلا کیا ہوا ہے۔ پیار اور عشق ان کے آئیڈیلز ہیں۔ انھوں نہ ہر لمحے ٹوٹ کر پیار کیا ہے وہ لال پھریرے لہراتے رہے ہیں انہوں نے جو خواب اگائے ہیں ان کی فصلیں ایک دن ضرور پکیں گی۔

ان کی امید پرست سوچیں انھیں اس امر کا احساس دلا رہی ہیں کہ اگر وہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے کام کرتے رہے تو انسانوں سے ان کا غیر مشروط تعلق استوار ہو جائے گااور وہ ان چاہی پریشانیوں سے نجات پالیں گے۔

یہ کسی ستارہ شناس کے نہیں، فضل خسرو کے بارے میں پروفیسر ڈاکٹر سعادت سعید کے الفاظ ہیں۔

ڈاکٹر محمد علی صدیقی کا کہنا تھا:

’یوں تو فضل احمد خسرو نے غزل اور نظم گوئی کے ساتھ یکساں طور پر مہارت کا مظاہرہ کیا ہے لیکن ان کی نظم گوئی کا فنِ تعمیر بطور خاص دلکش ہے۔ وہ اپنی نظم میں الفاظ کا انتخاب کفایتِ لفظی کے ساتھ کرتے ہیں۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ ’لمحۂ موجود‘ کی نظمیں بطور خاص متاثر کرتی ہیں۔

ہر چند کہ وہ ادیب کی سماجی ذمے داری کے تقاضوں کے قائل ہیں لیکن وہ اپنے شعری اظہار میں محاسنِ شعری کی اہمیت کا یکساں طور پر خیال رکھتے ہیں۔

لمحۂ موجود ہمارے شعری ادب میں اہم اضافہ ہے۔‘

کتاب میں ان کی سفارش کرنے والے ڈاکٹر روش ندیم بھی ہیں: ان کا کہنا ہے کہ، حسرو: لمحۂ موجود کے منفرد شاعر ہیں۔ یہ کتاب میں شامل ان کی مضمون کا عنوان ہے۔ امید ہے مضمون آپ کتاب میں پڑھ لیں گے۔

شاعری تین طرح کی ہوتی ہے۔ ایک وہ جو ماضی کی ہوتی ہے اور حال کی اور مستقبل کی لگتی ہے اور ہوتی بھی ہے۔

دوسری وہ ہوتی ہے حال کی ہوتی ہے اور ماضی کی لگتی، یہی شاعری بالکثرت ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں مشاعرے نے اسی شاعری کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

تیسری وہ ہوتی ہے جو حال کی ہوتی ہے، حال کی لگتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے ماضی کو ہو جاتی ہے۔

فضل خسرو کی شاعری مقصدیت سے لبریز، جوش، ولولے اور نعروں کی شاعری ہے۔ یہ مجمعوں کے لیے اور گانے کے لیے کارآمد ہو سکتی ہے اور اس نوع کے شاعر کم ہوتے جا رہے ہیں۔

یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جن مسائل نے خسرو کے ذریعے اظہار پایا ہے وہ موجود نہیں ہیں لیکن ان کا جو حل ان کی شاعری میں ہے اس حل کو پیش کرنے والے اب این جی اوز میں چلے گئے ہیں۔

اگر یہی مجموعہ کوئی ستر سال پہلے شائع ہوتا تو اس کو وہ پذیرائی ہوتی کے دیکھنے کے لائق ہوتی۔ اب بھی آپ ان جذبات کی سیر کرنا چاہیں تو ’لمحۂ موجود‘ یقینًا آپ کا مدد گار ہو گا۔

اسی بارے میں