بلوچستان سے دو کتابیں اور دو رسالے

بلوچستان سے دانیال طریر کا شعری مجموعہ ’معنی فانی‘ صرف شاعر سمجھے جانے والے شیخ ایاز کے افسانوں کا اردو ترجمہ ’مسافر مکرانی‘ جو ننگر چنا نے کیا ہے، بلوچستان کی تمام زبانوں کے ادب پر مشتمل کتابی سلسلہ ’مہرنامہ، اور بلوچستان میں ذرائع ابلاع کے سفر کے حوالے ’مہر در‘ کی کتاب: 2 شائع کی گئی ہیں۔ خاص طور پر کتابی سلسلے کی دونوں کڑیاں ایسی ہیں کہ شاید بلوچستان کے بارے آئندہ کوئی تحقیق ان کے حوالے کے بغیر معتبر نہیں ہو گی۔

دانیال طریر کی معنی فانی

نام کتاب: معنی فانی

مصنف: دانیال طریر

صفحات: 112

قیمت: 200 روپے

ناشر: مہر در انسٹی ٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ پبلی کیشن، کوئٹہ

شاعری، فکشن یا کسی بھی حوالے سے شائع ہونے والی کسی کتاب میں جب کتاب لکھنے والا یا ناشر ادارہ تعارف اور تنقید بھی شامل کر دیتا ہے تو تبصرہ لکھنے والے ہی کو نہیں خریدنے والے کو بھی آسانی ہو جاتی ہے۔

کچھ کتابوں میں لکھنے والا خود مقدمہ پیش کر دیتا ہے۔ اس صورت میں بھی کچھ نہ کچھ آسانی ضرور ہو جاتی ہے۔ آپ مقدمہ دیکھتے ہیں، کچھ کتاب کے اندر جھانکتے ہیں اور کتاب خریدنے نہ خریدنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔

دانیال طریر کی شاعری کے اس مجموعے میں تو آفتاب اقبال شمیم، ستیہ پال آنند، بیرم غوری کے مضامین ہی نہیں دانیال طریر کا خود اپنا لکھا پیش لفظ بھی ہے۔ یہ تحریریں پندرہ صفحوں پر پھیلی ہیں۔

آفتاب اقبال شمیم اور ستیہ پال آنند کے ناموں اور کاموں سے تو میں کسی حد واقف ہوں، البتہ بیرم غوری کی یہ پہلی تحریر ہے جو میں نے طریر کے اس مجموعے کے توسط سے پڑھی ہے۔ لیکن جو لکھنے والا ٹیری ایگلٹن کا بھی حوالہ بھی دے رہا ہو، اس کی تاریخ و جغرافیے کے بارے میں بہت کچھ خود ہی ظاہر ہو جاتا ہے۔

اس سے پہلے کہ میں آپ کو ان معززین کی آرا بتاؤں، ان لوگوں کی سہولت کے لیے جو طریر سے متعارف نہ ہوں یہ بتا دو کہ طریر جامعہ بلوچستان کے شعبہ اردو سے منسلک ہیں۔ اس کتاب سے پہلے ان کا ایک شعری مجموعہ 2005 میں ’آدھی آتما‘ کے نام سے آیا اور جو صوبائی ایوارڈ بھی لے چکا ہے۔ دوسری کتاب’بلوچستانی شعریات کی تلاش‘ کی پہلی جلد 2009 میں شائع ہو چکی ہے۔

طریر شاعری اور تحقیق کے علاوہ نقاد بھی ہیں اور ان کی ایک کتاب ’معاصر تھیوری اور تعین قدر‘ 2012 میں شائع ہو چکی ہے۔ ’جدیدیت، مابعدِ جدیدیت اور غالب‘ کے نام سے ایک کتاب زیر طبع ہے اور ’بلوچستان شعریات کی تلاش‘ کی جلد دوم زیرِ تکمیل ہے۔

آفتاب اقبال شمیم کا کہنا ہے کہ ایک عنصر جو دانیال طریر کی نظموں کو توانا اور بے حد قابلِ توجہ بناتا ہے، وہ ان کی قوت متخیلہ اور تخلیقی استعداد ہے جس کی بدولت خیال کہیں بھی حسنِ تخلیق سے عاری نہیں ہوتا اور تخلیقی رچاؤ ہمیں اپنی گرفت میں رکھتا ہے۔

ستیہ پال آنند نے طریر کی نظم ’الرجی‘ کا حوالہ دے کر انھیں ایسا قادرالکلام شاعر قرار دیا ہے جو نظم کی بنت کا کوئی تاگا بھی نہیں بھولتا۔

ان کا کہنا ہے کہ طریر کی جدید عالمی شاعری کے معیار کے عین مطابق بھی ہے اور اردو کی نظمیہ شاعری کے تناظر میں اس کا ایک جداگانہ اور منفرد مقام بھی ہے۔

بیرم غوری کا کہنا ہے کہ عقائد کی لکنت کے عہد میں طریر نے روحانی تقدس کے سرچشمے سے متعصف رہ کر خوف میں ڈوبے ماحول اور انسانی بے اعتباری کے موسم میں بھروسے، اعتماد اور شعری استدلال کے تازہ پھول قرطاسِ وقت پر رکھ دیے ہیں، جس کے معنی کبھی فانی نہیں ہوں گے۔ گلیمر، منڈی کی اسطورہ ہے اور خواب، محبت کی۔ دانیال طریر ہمارے خواب لکھتے ہیں۔

طریر کی نظمیں پڑھتے ہوئے مجھے دوسرے شاعروں کی نظمیں بھی یاد آئیں، مثلًا ’اندھیرا خدا ہے‘ کے عنوان ہی سے ذہن میں مبارک احمد کی مشہور نظم ’زمانہ خدا ہے‘ یا ’ایک اور اندھا کباڑی‘ تو ہے ہی ن م راشد کی نظم کے حوالے سے، تو یہ فیصلہ اب آپ نے کرنا ہے کہ طریر کی نظمیں حوالہ نظموں سے کیا فیض حاصل کر سکی ہیں۔

طویل نظم کی گنجائش نہیں ہے اور نظم حصوں میں نہیں کل میں ہوتی ہے۔ اس لیے ’برائے فروخت‘:

روح چاہیے تم کو/ یا بدن خریدو گے

موت سب سے سستی ہے

سامنے کے شیلفوں میں / رنگ رنگ آنکھیں ہیں/ ساتھ نیند رکھی ہے/ خواب اس طرف کو ہیں

سب سے آخری صف میں/ حسن کی کتابیں ہیں/ خیر کے فسانے ہیں

فرسٹ فلور پر سائنس/ میگزین فیشن کے/ اور علم دولت ہے/ آج کی ضرورت ہے/ سب سے بیش قیمت ہے

فرش پر جو رکھا ہے/ دین ہے تصوف ہے/ فلسفہ ہے منطق ہے/ باعثِ تپ دق ہے

ڈسک کاؤنٹر کے پاس/ شیش داں میں رکھی ہیں/ جیسے قیمتی چیزیں/ آسماں میں رکھیں ہیں

آسمان والا بھی/ کیا یہاں پہ ملتا ہے/ کیسے بھاؤ بکتا ہے

پہلے خوب چلتا تھا/ لوگ لینے آتے تھے/ اب خدا نہیں بکتا

جانے کس زمانے سے/ اس زماں میں آئے ہو/ یہ جہاں نہیں صاحب/ تم دکاں میں آئے ہو

٭٭٭

اب بتائیے جس شاعری میں قوت متخیلہ اور تخلیقی استعداد کی ایسی نوید ہو جس کی بدولت خیال کہیں بھی حسنِ تخلیق سے عاری نہ ہوتا ہو اور جس کا تخلیقی رچاؤ اپنی گرفت میں بھی رکھتا ہو رکھتا ہے، اس کا پڑھنا تو بنتا ہے۔

شیخ ایاز اورہند کا سندھ

نام کتاب: مسافر مکرانی

مصنف: شیخ ایاز

مترجم: ننگر چنا

صفحات: 128

قیمت: 220 روپے

ناشر: مہردر انسٹی ٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ پبلی کیشن، کوئٹہ

شیخ ایاز کو تو آپ جانتے ہی ہوں گے۔ مجھے ذاتی طور پر صرف ایک ہی بار ان سے ملنے کا موقع ملا۔ وہ ملنا بھی نہ ملنے جیسا تھا۔ ہماری ملاقات محض ایک اتفاق تھی۔

میں کراچی میں صدر ریگل کے فٹ پاتھ پر، تھامس اینڈ تھامس کے پاس استعمال شدہ کتابیں دیکھ رہا تھا کہ حمایت بھائی (حمایت علی شاعر) بھی وہاں آ گئے۔ میں کتابیں چھوڑ کر ان سے باتوں میں لگ گیا۔ ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ شیخ ایاز بھی ادھر آتے ہوئے نظر آئے۔ ان کی ہاتھوں میں بے جلا سگریٹ تھا جس کے وہ کش لیتے آ رہے تھے۔ میری تو ان سے کو شناسائی نہیں تھی لیکن وہ اور حمایت علی شاعر ایک دوسرے کو خوب جانتے تھے۔

میں نے یہ جان کر کہ ان کے پاس ماچس نہیں ہے، اس لیے وہ بے جلے سگریٹ کے کش لے رہے ہیں انھیں ماچس پیش کی۔

ماچس کے ساتھ میرا بڑھا ہوا ہاتھ دیکھ کر انھوں نے انکار میں سر کو حرکت دی اور کہا: ’میں نے سگریٹ چھوڑ دی ہے، یہ انگلیوں کی عادت کے لیے رکھی ہوئی ہے‘ انھوں نے ایک اور کش لے کر میری طرف دیکھے بغیر کہا۔

حمایت بھائی نے ان سے میرا تعارف کرایا، انھوں نے بے نیازانہ انداز میں سر کو اثبات میں حرکت دی اور میری طرف دیکھے بغیر کوئی اور قصہ چھیڑ دیا۔ حمایت بھائی نے انھیں چائے کا پوچھا تو انھوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ وہ یونہی ٹہلنے آ ئے ہیں اور تھوڑی دیر میں انھیں کوئی لینے آنے والا ہے اور وہ اس کے ساتھ چلے جائیں گے۔

یہی میری ان سے پہلی اور آخری ملاقات تھی۔ لیکن اس بات کا ان کے افسانوں سے کیا تعلق؟ بس یونہی خیال آیا کہ ان کا ایک سراپا جیسا میرے ذہن میں ہے آپ کو بھی دکھا دوں۔

مجھے نہیں پتا تھا کہ وہ افسانے بھی لکھتے رہے ہیں۔ اس لیے، اس کتاب کو دیکھ کر مجھے ان کے افسانوں میں خاص طور پر دلچسپی ہوئی اور میں نے کم و بیش تمام افسانے پڑھ ڈالے۔ اور میرا خیال ہے سارے ہی افسانے پڑھنے والوں کو اچھے لگیں گے۔

بیرم غوری نے دانیال طریر کی کتاب ’معنی فانی‘ پر ادب اسطورہ کے عنوان سے لکھے گئے ایک مختصر مضمون میں ٹیری ایگلٹن کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ سوشلزم اور مذہب کو ادب کے ذریعے سمجھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

اس پر بہت بات کی جا سکتی ہے لیکن 1947 کے آس پاس کے ماحول کو سندھ کے تناظر میں سمجھنے کے لیے شیخ ایاز کے یہ افسانے ان کی شاعری سے زیادہ اہمیت کے حامل ثابت ہو سکتے ہیں۔

اس کتاب میں ایک بہت بڑی خرابی ہے اور وہ اس کتاب کا مقدمہ ہے جو شیخ ایاز نے جون 1947 میں لکھا تھا۔ تب ان کے افسانوں کا پہلا مجموعے’ہمارا سندھ‘ کے عنوان سے شائع ہوا تھا۔ آج حقیقت کو اتنے نئے رنگ دے دیے گئے ہیں کہ اس مقدمے سے بہت سی دُموں پر پیر آ سکتا ہے۔ کیوں کہ ایک عرصے سے ماضی کو تبدیل کرنے پُر جوش عقیدت مندانہ تگ و دو جاری ہے۔

ننگر چنا کا کہنا ہے کہ اس کتاب میں ان کے تمام افسانے جمع کردیے گئے ہیں۔

یہ افسانے تخلیقی سطح پر گہرے باطنی تصادموں کو تو بیان نہیں کرتے اور نہ ہی تب کے ہندوستانی ترقی پسند ادب اور ترقی پسندی کو ان وسیع تر معنوں میں دیکھتے اور سوچتے تھے۔ لیکن تب کی صورتحال کی معروضی حقیقت کو معروضی نظر سے دیکھنے اور سیاسی سطح پر محسوس کرنے کے حوالے سے یہ افسانے انتہائی اہم ہیں۔

ننگر چنا کا ترجمہ بھی بہت عمدہ اور رواں ہے ترجمہ ہونے کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ وہ اگر اسی زاویے سے اس زمانے کے شاعری اور فکشن کی ایک جامع انتھالوجی بنا کر ترجمہ کردیں تو بہت ہی اچھا ہو۔

مجھے کتاب کی پیشکش بہت اچھی لگی ہے، قیمت البتہ مجھے کچھ زیادہ لگتی ہے۔

بلوچستان میں ذرائع ابلاغ

نام کتاب: بلوچستان کا عکس، مہردر

ترتیب: عابد میر

منیجنگ ایڈیٹر: پروین ناز

صفحات: 376

قیمت: درج نہیں ہے

ناشر: مہردر انسٹی ٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ پبلی کیشن، کوئٹہ

بلوچستان میں ایک عرصے سے جو کچھ ہو رہا ہے، اس کے بارے میں پورے یقین سے صرف ایک ہی بات کہی جا سکتی ہے کہ ہم اس کے بارے میں صرف اتنا ہی جانتے ہیں جتنا ایک پیدائشی نابینا کسی ہاتھی کہ بارے میں جانتا ہے اور بتا سکتا ہے۔

کتابی سلسلے مہردر کی اس کڑی میں بلوچستان میں ذرائع ابلاغ کے سفر کے بارے میں اتنا کچھ ہے اور اتنے لوگوں کا لکھا ہوا ہے کہ اس تفصیل بتانے میں ہی ساری گنجائش ختم ہو جائے گی۔ جبکہ اس کا بتایا جانا اس لیے ضروری ہے کہ آپ اس کتاب کو حاصل کرنے اور اسے پڑھنے نہ پڑھنے کا فیصلہ کر سکیں۔ جبکہ ضروری یہ بھی ہے کہ پیش لفظ کے طور پر ’کچھ فرض ۔ ۔ ۔ کچھ قرض‘ کے عنوان سے جو کچھ لکھا گیا ہے اس کے بارے میں بھی بتایا جائے۔

’بلوچستان گزشتہ ایک دہائی سے جس دنگل کو سہہ رہا ہے سیاسی کارکن تو اس کا چارہ بنتے ہی رہے ہیں، لیکن جنگ کا اژدہا اب کی بار کچھ ایسا پگلایا ہے کہ کوئی نفر اس کے شر سے، اس کے زہر سے محفوظ نہیں رہا۔ بالخصوص ہر وہ فرد جو تحریر، تقریر یا خبر کے ذریعے جنگی اژدھے کی زہرناکیوں سے لوگوں کو آشنا کرواتا ہے‘۔

’دنیا بھر میں جہاں جہاں سیاسی جبر بڑھا ہے، وہاں بڑا داب تخلیق ہوا ہے لیکن ہمارے ہاں عجائبات کی اس سرزمین پر، اب کی بار یہ بازی اُس فرقے نے مار لی، جس کے سر کبھی ’زرد‘ ہونے کے دشنام رہے، تو کبھی بلیک میلنگ کرنے، غیر تعلیم یافتہ ہونے اور نااہلیت کے طعنے دیے جاتے رہے (گو کہ الزامات کی مکمل تردید بھی مقصود نہیں) لیکن محض چند برسوں میں اس قبیلے کے ساتھوں نے دنیا بھر میں اپنے لہو کا خراج دے کر اپنی برداری کے دامن پر لگے سبھی داغ دھو ڈالے‘۔

’یہ کتاب اس سلسلے کے کچھ فرض اور کچھ قرض کی ادائیگی کی ایک کوشش ہے، جس کی تکمیل کے بعد اس کے نامکمل ہونے کی خلش باقی ہے۔‘

اب کسی حد تک اس کتاب کی وجہ آپ کے علم میں آگئی ہو گی۔

اس کتاب میں سب سے پہلے بلوچستان میں صحافت کے ماضی پر نظر ڈالی گئی ہے۔ کوثر زمرد نے 1994 تک اخبارات و جرائد تک کا جائزہ لیا ہے۔

جڑیں کے عنوان سے تصدق حسین کوثر کا ایک مضون ہے جو انھوں نے جولائی 1995 میں لکھا تھا اور ارشاد مستوئی کے مطابق یہ ایک صدی سے زائد عرصے پر محیط ہے۔

اس کے بعد خود ارشاد مستوئی نے بلوچستان کی اہم ابتدائی صحافتی شخصیات کا تعارف کرایا ہے۔ ان شخصیات میں عبدالصمد اچکزئی، عبدالعزیز کرد، یوسف عزیز مگسی، محمد حسین عنقا، غلام محمد شہوانی، عبدالرحمان غور، میر عطا محمد مرغزانی، بابوشورش، ملک محمد پناہ، ملک محمد رمضان اور نور محمد پروانہ شامل ہیں۔

جدید صحافت: آگ کا دریا کے عنوان سے، بلوچستان میں میڈیا کو درپیش خطرات، حملوں کی زد میں صحافی، صحافی دباؤ کا شکار، صحافت کا جہنم، غمزدہ میڈیا، صحافیوں کے لیے میدان جنگ اور کچھ علاج اس کا بھی اے چارا گراں کے عنوانات سے جائزے ہیں۔ وسعت اللہ خان اور سلیم شاہد کے تحریریں بھی ہیں لیکن ان کے عنوان بتانے سے متن کا کچھ اندازہ نہیں ہو سکتا۔

بلوچستان اور میڈیا کے عنوان سے ملک سراج اکبر، ذوالفقار، عنبر شمسی اور ہارون رشید نے بلوچستان کے بارے میں میڈیا کے رویّے، بلوچستان اور قومی میڈیا، پرنٹ میڈیا، حقیقت کون بتائے گا؟ اور بلوچستان خاموش میڈیا کسی کے حق میں نہیں، کے تحت جائزے لیے ہیں۔

اس کے بعد کے ابواب میں ملکی صحافت کے تحت، باب ڈیز، روشن لعل، علی سلمان، عزیز بونیزی اور ضمیر نیازی کی تحریریں ہیں۔ جن میں پاکستانی صحافت کا تناظر ہے۔

ایک ہم ہی ہیں کے عنوان سے بنائے گئے باب میں میڈیا کی عالمی صورتِ حال، خاص طور پرعرق، فلسطین، افغانستان، بھارت اور جرمن میڈیا کے حوالے سے جائزے ہیں۔

احساسِ ذمہ داری کے عنوان سے صحافتی اخلاقیات، صحافتی آزادی اور غیر ذمہ داری اور مولانا ابو الکلام آزاد کا الہلال میں تحریر کیا گیا ایک اداریہ دیا گیا ہے۔ اس کے بعد ضمیر نیازی کی کتاب ’صحافت پابندِ سلاسل‘ سے دو اقتباس ہیں جو پریس پر پہلے حملے اور صحافیوں کو کوڑوں کی سزا کے بارے میں ہیں۔

گواہی کے عنوان سے قائم کیے گئے باب میں سی پی جے کی دو رپورٹوں کا ترجمہ دیا گیا ہے جن میں ایک 1992 میں مارے جانے والے صحافیوں کے بارے میں ہے اور دوسری بلوچستان میں مارے جانے والے صحافیوں کے بارے میں۔ اس رپورٹ کے مطابق جنوری 2013 تک بلوچستان میں مارے جانے والے صحافیوں کی تعداد 33 تک پہنچ چکی تھی۔

اس کے بعد ’صحافت اور اعتماد‘، ’سوشل میڈیا‘، ’صحافت اور دانش‘، ’حل کی جانب‘، ’پروفائل‘، ’صحافتی ادب‘ کے عنوانات سے قائم کیے گئے باب ہیں اور شاعری اور فکش ہے، جن میں نئے اور کچھ سینئر لکھنے والوں کی تحریریں ہیں۔

مجموعی طور پر یہ ایک اہم ترین کام ہے اور انتہائی محنت اور بڑی ذمہ داری سے کیا گیا ہے۔

صحافت سے تعلق رکھنے والوں، صحافت کے اساتذہ اور طلبہ کے لیے تو یہ کتاب اہم ہے ہی لیکن ایسے عام قاری کے لیے بھی جو صحافت اور پاکستان کے بارے میں جاننا چاہتا ہو اس کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ اس کی قیمت 500 روپے ہے اور یہ میں نے فن کے ذریعے معلوم کی ہے۔

بلوچستانی ادب کا پیش کار

نام کتاب: مہر نامہ

مدیرِ اعزازی: دانیال طریر

صفحات: 248

قیمت: 250

ناشر: مہر در انسٹی ٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ پبلی کیشن، کوئٹہ

اس کتاب کے اعزازی مدیر نے شروع ہی میں ’احوال‘ کے عنوان سے کچھ سوال اٹھائے ہیں جن میں پہلا یہ ہے کہ کیا بلوچستان کا ادب، روحِ ادب کے حقیقی معیار اور جوہر سے آشنا ہے اور آخری سوال ہے کہ کیا یہ ادب اشاعتی جواز رکھتا ہے؟

ان سوالات کے لیے اپنا جواب تو انھوں نے عملًا اس کتاب کو مرتب کر کے اور شائع کر کے دے دیا ہے۔ لیکن یہ فیصلہ انھوں نے پڑھنے والوں پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ بتائیں کہ یہ اشاعت اپنا جواز پیش کرنے میں کس حد تک کامیاب ہے۔

پہلا خیال تو یہی آتا ہے کہ بلوچستان کے ادب کے بارے میں کتاب ہے تو اس میں بلوچی ادب ہی ہو گا یا اس کے تراجم ہوں گے لیکن ایسا نہیں ہے اس میں بلوچی ادب تو ہے ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ پشتو، براہوی، ھزارگی اور اردو ادب بھی ہے۔ اور ہر زبان کی شاعری اور افسانے اس میں شامل ہیں۔

کتاب کی ابتدا بلوچی کے نامور ادیب، اے آر داد کے مضمون سے کی گئی ہے جو انھوں نے ’میرا تخلیقی عمل‘ کے عنوان سے لکھے ہے۔

اس کے بعد گوشۂ خاص ہے جس میں ’دبنگ‘ سائرہ خان سارہ کی چھ غزلیں اور بارہ نظمیں ہیں۔ کہیں ان کا اردو ہندی آمیز اسلوب ماضی میں بہت دور تک لے جاتا ہے۔

مباحث کے عنوان سے قائم کیے باب میں شاہ محمد مری نے منیر بادینی کی ناول نگاری کا جائزہ لیا ہے، محمد ایاز نے معاصر پشتو شاعری پر وجودیت کے اثرات کو دیکھا ہے، جاوید اختر نے گل خان نصیر کو براہوی شاعر کے طور پر پرکھنے کی کوشش کی ہے، ننگر چنا نے عطا شاد کا عصرِ خاصر کے تناظر میں جائزہ لیا ہے، بلوچستانی شاعرات کے المیے پر عابد میر نے نظر کی ہے اور دانیال طریر نے معاصر تھیوری اور تعینِ قدر پر بات کی ہے۔

اس کے بعد ’بلوچی دریچہ‘ ہے۔ جس میں غنی پرداز نے خود اپنے تین افسانوں کے ترجمے کیے ہیں اور قاضی مبارک کی شاعری کا ترجمہ عمران ثاقب نے کیا ہے۔ اس اشاعت میں ان کی سات نظمیں ہیں، ان کا مطالعہ اس لیے اہم ہے کہ براہوی کے جاری عہد کو ان کا عہد کہا گیا ہے۔

ھزارگی دریچے میں منطور پویا کی تین کہانیاں ہیں جنھیں اردو میں علی بابا تاج نے کیا ہے اور قادر نائل چار نظمیں ہیں جن میں ایک کا ترجمہ طالب حسین طالب نے کیا ہے جبکہ باقی شاعر نے خود اردو میں کی ہیں۔

اس کے بعد اردو دریچہ ہے اس میں فیصل ندیم کے تین افسانے، محسن چنگیزی کی چھ اور صورت سمیع کی آٹھ غزلیں ہیں۔ اسی حصے میں ظہیر ظرف اور عمران ثاقب کی تروینیاں ہیں۔ تروینیاں ثلاثی کے انداز کی فارم ہے۔

اس کے بعد اسحاق سمیجو کا مضمون ہے جس میں انھوں نے شیخ ایاز کی بغاوت کا جائزہ لیا ہے۔

بلوچستان کی کتابیں کے عنوان سے قائم کیے گئے حصہ میں عین سلام کے شعری مجموعے پر دانیال طریر، ڈاکٹر شاہ محمد مری کی کتاب ’وفا کا تذکرہ‘ پر رکھیل مورائی، آغا گل کے افسانوں کے مجموعے ’پرندہ‘ پر عابد میر، ناطق سولنگی کی کتاب ’شاہ کے جوگی‘ پر سحر صدیقی اور زیب النسا غرشین کے سفر نامے ’چلتن سے چین تک‘ پر مجید اصغر کے تبصرے ہیں۔

اس کتاب میں گو کہ لکھنے والوں تعارف ہیں لیکن ایک تو سب کے نہیں ہیں اور جن کے ہیں وہ تشنہ ہیں۔ یہ پتا نہیں چلتا کہ وہ کب سے لکھ رہے ہیں، کہاں رہتے ہیں کیا کرتے ہیں اگر لکھنے کے علاوہ بھی کچھ کرتے ہیں تو کیا کرتے ہیں۔ عام قاری کے لیے ایسی تفصیلات ضروری ہوتی ہیں اور دنیا بھی میں اس کا خیال رکھا جاتا ہے، نئے لکھنے والوں ہی کے بارے میں نہیں نامی گرامی لکھنے والوں کے بارے میں بھی۔ توقع کی جانی چاہیے کہ آئندہ سلسلوں میں از راہِ عنایت، اس کا خیال رکھا جائے گا۔

بہت سے کتابی سلسلوں کے مقابل یہ کتاب یقینًا اس لیے اہم ہے کہ اس کے ذریعے خاص طور پر بلوچستان کی مختلف زبانوں کے افسانوں کے بارے میں اردو سے کہیں مختلف اسلوبوں یا اسالیب کا علم اور تجربہ ہوتا ہے۔

اسی بارے میں