دوستوفسکی، منٹو، حمید شاہد اور میر

اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان نے منٹو کے مستند متون کی اشاعت کے سلسلے میں شمس الحق عثمانی کی مرتب کی ہوئی پہلی جلد اور میرتقی میر کا فارسی دیوان افضال احمد سید کے اردو ترجمے کے ساتھ شائع کیا ہے۔ محمد حمید شاہد کے افسانوں کا پانچواں مجموعہ ’آدمی‘ کے نام سے آیا ہے اور دوستوفسکی کی تین مشہور کہانیوں کی ایک بار پھر اشاعت ہوئی ہے اور یہ ترجمہ ظ انصاری کا کیا ہوا ہے۔

منٹو درست آید

نام کتاب: پورا منٹو

تدوین و تحقیق: شمس الحق عثمانی

صفحات: 393

قیمت: 895

ناشر: اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان۔ پی او بکس 8214، کراچی۔ 74900

مجھے اتفاق ہے: ’اردو کے جدید افسانوی ادب میں (اب تک) سب سے مرکزی اور اہم ترین شخصیت سعادت حسن منٹو کی ہے۔ وہ بڑی حد تک اپنی زندگی میں اور باقی موت کے فورًا بعد اردو کے افسانہ نگاروں میں بلند ترین مرتبہ حاصل کر چکے تھے۔ کوئی ناخوش ہوتا ہے تو ہو، لیکن اکثر لوگوں کی یہ رائے تو بتانی ہی پڑے گی کہ منٹو اب تک کے اردو افسانہ نگاروں میں سب سے بڑے افسانہ نگار ہیں۔

منٹو نے افسانے ہی نہیں، ڈرامے، خاکے اور مضامین جو بھی لکھے ہیں وہ سب کے سب کسی نہ کسی نوع سے اہمیت کے حامل ہیں۔ مضامین میں کچھ تو ان کی ایسی سیاسی بصیرت کا پتا دیتے ہیں جو ان کے ہم عصر افسانہ نگاروں میں تو کیا، ادبی نقادوں اور سیاسی مبصرین میں بھی نہیں تھی۔

یہ کہنا غیرضروری ہے کہ وہ اپنے زمانے کے اس اچھے فکشن سے واقف نہیں تھے جو دنیا بھر میں لکھا جا رہا تھا۔ اگر وہ صحافت سے بھاگ نہ جاتے تو اپنا نقصان تو کرتے ہی کرتے ادب کا بھی بڑا نقصان کرتے۔

ان کا زمانہ ان کے افسانوں کی طرح زیادہ کشادہ اور زیادہ بھر پور تھا اور مختصر کہنا بھی غلط نہ ہو گا۔ بیسویں صدی کے سب سے زیادہ قیامت خیز واقعات نہ صرف اس دوران گزرے بلکہ اب جو ہو رہے ہیں ان کی بنیاد بھی ڈال گئے۔

ان کے افسانوں میں، ان کے آس پاس کے لوگ اور زمانہ کیسا دکھائی دیتا ہے، اس کے تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ اس بارے میں بہت کچھ لکھا جاتا رہا ہے اور لکھا جاتا رہے گا۔

لیکن اس کتاب کی کیا ضرورت تھی۔ تھی بھی یا نہیں؟

نہ صرف منٹو کی زندگی کے بعد بلکہ ان کی زندگی میں بھی ان کی تحریریں ان کی اجازت کے بغیر بار بار شائع ہوئیں، اس کے باوجود منٹو اور بعد میں ان کے وارث نہ صرف مالی منفعت سے محروم رہے بلکہ ان کتابوں کے کچھ چھاپنے والوں نے تو یہاں تک کیا کہ افسانوں کے متن اور ترتیب تک کی پروا نہیں کی۔

یہ حال صرف عام پیپر بیک کتابوں کا ہی نہیں اچھی اچھی چھپی ہوئی کتابوں کا بھی ہے۔

اس حال کو دیکھتے ہوئے پروفیسر شمس الحق عثمانی نے منٹو کی تمام تحریروں کا مستند متن اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس کے لیے تیار کیا۔ یہ اسی متن کی پہلی جلد ہے۔

اس پہلی جلد کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اسے کچھ عرصہ پہلے آنا تھا۔ خیر، بدیر آید درست آید، اب اس کی باقی جلدیں بھی آئیں گی اور نہ صرف پڑھنے والوں کو پورا منٹو ملے گا بلکہ ایک ایک لفظ سے مستند بھی ملے گا۔ کتنا مستند اس کا اندازہ آپ کو کتاب دیکھ کر خود ہو جائے گا۔

انہوں نے خاصی محنت سے کام کیا ہے اور ایک ایک لفظ کی ممکن حد تک چھان بین کی ہے۔ اوکسفرڈ پریس کا کہنا ہے: سعادت حسن منٹو کی ہر جنبشِ قلم ہمارا ثقافتی سرمایہ ہے، اس پورے سرمائے کو پیش کرنا ادارے کا ترجیحی منصوبہ ہے۔ یہ جملہ میں نے جوں کا توں نقل کیا ہے اس میں ’ہمارا‘ کا استعمال اس کا کام ہے جس سے یہ لکھوایا گیا ہے یا اسے ایڈیٹروں کی سہل پسندی بھی کہا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ ایک مقدمہ ہے، جس میں کتاب میں سامنے رکھی گئی ساری احتیاطوں اور اہتماموں کی تفصیل ہے اور بہت کام کی ہے۔

پروفیسر شمس الحق عثمانی بھارت میں جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے شعبۂ اردو سے وابستہ ہیں اور شعبے کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ادب سے وابستگی اور ادبی تفہیم کی اُس روایت کے امانت دار ہیں جو ادب کے تکنیکی ظاہر سے زیادہ اس کے معنوی باطن اور انسانی تجربے کے انکشاف کو ترجیح دیتی ہے۔ اگرچہ اردو میں یہ روایت انتہائی لاغر، کم زور اور ناتواں ہے۔

افسانے سے انہیں خاص دلچسپی ہے اور اسی لیے ان کی تنقیدی صلاحیتیں اس میدان میں اپنا پورا زور دکھاتی ہیں۔ اس سے پہلے راجندر سنگھ بیدی سے متعلق ان کی دو کتابیں ’بیدی نامہ‘ اور ’باقیاتِ بیدی‘ آ چکی ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی تصانیف میں ’محبِ وطن پریم چند اور دیگر مضامین‘، ’در اصل، در حقیقت‘، ’ابوالفضل صدیقی: شخصیت اور فن کی تفہیم‘ اور دیگر کئی ایک شامل ہیں۔

اس سے ان کے کام اورمنٹو کی اس پہلی جلد کی اہمیت کا اندازہ کیا جا سکتا۔ اس جلد میں ’آتش پارے‘ کے آٹھ افسانے اور دیباچہ، ’منٹو کے افسانے‘ انتساب، پیش لفظ اور 22 افسانے اور ایک ضمیمہ شامل ہے۔ ہر افسانے کے بعد حواشی الگ ہیں۔

ضمیمے میں 30 اگست 1940 کو لکھا جانے والا دیباچہ، شرابی، خودکشی کا اقدام اور اسٹوڈنٹ یونین کیمپ ہیں۔ اس کے بعد اشاریے ہیں جس میں پہلا، افسانوں کے حوالے سے ہے اور دوسرا پیش لفظ اور دیباچوں کے بارے میں۔

کتاب اتنی خوبصورت اور عمدہ چھپی ہے کہ دیکھ اور چھو کر دل دکھتا ہے کہ کاش یہ افسانے اس طرح منٹو کی زندگی میں بھی چھپے ہوتے۔ لیکن وہ دور کیسا بھی تھا، اتنا اندھا تو ضرور تھا کہ اُسے منٹو ویسا دکھائی نہیں دیا جیسا اب دکھائی دیتا ہے۔ قیمت زیادہ تو ہے لیکن کتاب کو دیکھ کر نہیں لگتی، کاغذ اور جلد بندی تک دیر پا ہے۔

فارسی والا، میر

نام کتاب: دیوانِ میر (فارسی) مع اردو ترجمہ

ترجمہ: افضال احمد سید

صفحات: 502

قیمت: 1500

ناشر: اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان۔ پی او بکس 8214، کراچی۔ 74900

ہم ڈاکٹر معین الدین عقیل کی اس بات سے مکمل اتفاق کر سکتے ہیں کہ اس کتاب کی اشاعت بے حد اہم ہے کہ یہ میر کا فارسی دیوان ہے اور پہلی مرتبہ مکمل کتابی صورت میں منظر عام پر آ رہا ہے۔ اسے فی الواقعہ ’میریات‘ کے ضمن میں ایک بہت اہم اضافہ سمجھا جانا چاہیے کہ بطور متن و ماخذ اس صورت میں اب عام دسترس میں ہے۔

اس اشاعت کی ایک مزید اہمیت اور خوبی یہ بھی ہے کہ اصل فارسی متن کے ساتھ ساتھ اس کا اردو ترجمہ بھی متن کے مقابل پیش کیا گیا ہے۔ اس طرح اصل مکمل متن بھی قابلِ مطالعہ ہے اور آج کے اس دور میں جب فارسی زبان سے شُد بد بھی عام نہیں ہے، عام شائقین کے لیے اس کا فہم بھی ممکن ہو گیا ہے، جس کے بغیر حقیقتًا میر کے ایک جامع مطالعے کا پورا حق ادا نہیں ہو سکتا۔

ایک اور خوبی اس اشاعت کی یہ بھی سمجھی جا سکتی ہے کہ فارسی متن کا ترجمہ افضال احمد سید نے کیا ہے جو آج کے ان معدودے چند افراد میں شامل ہیں جو ایک جانب جدید ادبی رجحانات و افکار سے مستفید ہیں اور دوسری جانب مشرقی شعری روایات اور ان کے حسن سے بھی واقف بلکہ فیض یافتہ ہیں۔ فارسی سے ان کی واقفیت بھی اس امر کا ایک اظہار ہے۔ جب کہ ان کی تخلیقات اور عالمی ادب کے ان کے تراجم ان کے اس مشترکہ اوصاف کے نمایاں شواہد ہیں۔

یہ ترجمہ نثر میں ہے، جو ایک عام قاری کے لیے بھی زیادہ سہل اور قابلِ فہم ہے۔ آج ہمارے علم کی سطح اس حد تک زوال پذیر ہے کہ انتہائی سادہ و سہل شاعروں کے کلام کی شرحیں بھی مرتب ہو رہی ہیں، اس لحاظ سے دیوان میر فارسی مع اردو ترجمہ کی یہ اشاعت ہر قاری اور خاص طور پر کلاسیکی ادب کے تمام شائقین اور میر کے چاہنے اور مطالعہ کرنے والوں کے لیے یقینًا مفید اور پُر کشش ہے۔

یہاں علم کی سطح کے زوال کی بات خاصی بحث طلب ہے اور اُس خاص سوچ کی مظہر ہے جس میں غالبًا سماجی و سیاسی عوامل اور محرکات کو زمانی فہم کے لیے درکار مناسب اہمیت نہیں دی جاتی۔

افصال احمد سید نے خود جو تعارف لکھا ہے وہ بھی پڑھنے کے لائق ہے۔ اس میں ایک بات انھوں نے مظفر علی سید کے حوالے سے کہی ہے جو میر کی فارسی شاعری کو بیدل اور غالب کے درمیانی دور کی بہترین فارسی شاعری قرار دیتے ہیں۔ یعنی اس دور کی فارسی شاعری کو دیکھنے کے لیے ہمیں بیدل اور غالب کی فارسی شاعری کے بھی ایسے ہی ترجمے درکار ہوں گے۔

افضال سید کا کہنا ہے کہ یہ نثری ترجمہ اصل فارسی متن سے ممکنہ حد تک مطابقت رکھتے ہوئے کیا گیا ہے اور اس امید کے ساتھ کہ قارئین ان خوبصورت اور بیش قیمت اشعار کو پڑھ کر میر کی شاعری کی ایک اور جہت سے آشنا ہوں گے اور ان اشعار کے محاسن اور ان کی جمالیاتی اور فکری ثروت میں اضافہ کریں گے۔

میر کے اشعار کی نثر میں اشاعت ایک اور اعتبار سے بھی اہم ہے کہ غزل کا کتنا حصہ ہے جسے اس نوع کی نثر میں لایا جائے تو اس کی شعریت، جمالیاتی قدر اور فکری ثروت باقی رہے گی۔ نہیں رہتی تو اسے کیا کہا جائے گا؟ اور وہ لوگ جو شعر کے لیے خارجی آہنگ، بحور، قافیوں اور ردیفوں کو لازمی خیال کرتے ہیں تب کیا دلائل استعمال کریں گے؟

ان ترجموں کے لیے افضال احمد سید نے اردو کا جو پیرایہ اختیار کیا ہے وہ ایک تو ان اپنے نثری انداز سے مختلف ہے اور پھر پورا نثری بھی نہیں ہے۔ اس سے آزاد غزل کے حامیوں کو یقینی تقویت ملے گی، کیونکہ مصرے چھوٹے بڑے ہیں، بحر قائم بھی کی جائے تو ایک نہیں ہو پائے گی اور آہنگ تو نثری شاعری والا بھی نہیں ہے۔

غنچے کی طرح سے دل پہلو میں یار کی محبت میں پُرخوں ہے

میرا رنگِ شکستہ عشق کی ایک یادگار ہے

فارسی شعر یوں ہے:

چوں غنچہ دل بہ پہلو پُرخوں ز مہر یارے ست

رنگِ شکستۂ من از عشق یادگارے ست

کیا یہ ترجمہ یوں بھی ہو سکتا ہے:

یار کی محبت میں دل پہلو میں غنچے کی طرح پُر خوں ہے

میرا شکستہ رنگ عشق سے یادگار ہے

اب دوسری شکل میں کیا بات آنے سے رہ گئی ہے، یہ تو آپ دیکھیں مجھے اس کا خیال اس ترجمے سے ہی آیا ہے، ورنہ تو مجھے فارسی ف کی حد تک بھی نہیں آتی۔ پھر خود اردو غزل کا کتنا حصہ ایسا ہے جس کے لفظوں کو سیدھا کر دیا جائے تو ان کی شعریت باقی رہے گی۔

کتاب بظاہر اچھی ہے لیکن قیمت یقینی طور پر زیادہ ہے کیونکہ اس میں کاغذ کچھ زیادہ اچھا نہیں ہے۔ لیکن یہ کتاب اپنے متن کے اعتبار سے انتہائی اہم ہے صرف اردو ادب کے طلبہ اور اساتذہ ہی کے لیے نہیں، ہر اُس غزل کہنے والے کے لیے بھی جسے فارسی نہیں آتی۔ اور اگر افصال احمد سید نے بیدل اور غالب کی فارسی شاعری کو بھی اردو میں کر دیا تو سمجھ لیں کہ غزل والوں کا نصاب ہی پورا ہو گیا، کیونکہ انھیں علم ہو سکتا ہے کیا کچھ کہا جا چکا ہے، کیسے کیسے کہا جا چکا ہے، جو نہیں کہنا ہے لیکن جو غزل میں مضمون پر مضمون یا مضمون بدل کر بدل کر باندھتے ہیں ان کے لیے یہی کتاب ایک بے بہا خزانہ ثابت ہو گی۔

فکشن والوں کے لیے

نام کتاب: دستوئیفسکی کہانیاں

مصنف: فیدور دستوئیفسکی

مترجم: ظ انصاری

صفحات: 480

قیمت: 600 روپے

ناشر: بُک ٹائم، اردو بازار کراچی

فیدور دستوئیفسکی، جنہیں ہمارے ہاں دوستو فسکی بھی لکھا جاتا ہے روسی ادب میں ہی نہیں، دنیا بھر کے ادب میں ایک عظیم نام ہیں۔ اب تو وہ ناول نگار، فلسفی اور انشا پرداز کے طور بھی جانے جاتے ہیں لیکن انھوں نے اپنی ابتدا کہانیوں سے کی۔ ان کی ہر تحریر کو کسی کرشمے سے کم نہیں سمجھا جاتا۔

ان کا پہلی کہانی ’بے چارے لوگ‘ تھا جب 1846 میں شائع ہوئی تو ان کی عمر 25 سال تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جسے روس کا سماجی اور سیاسی طور ہی نہیں روحانی طور پر بھی مشکلات کا زمانہ کہا جاتا ہے۔ انھوں نے 1966 میں ’جرم و سزا‘ کی اشاعت تک کہانیاں ہی لکھیں۔ لیکن انھیں ان کی پہلی کہانی کی اشاعت پر ہی عظیم ادیب قرار دے دیا گیا تھا۔

ان کے کام اور فن کے بارے میں اتنا کچھ لکھا گیا ہے کہ اس کا خلاصہ بھی یہاں نہیں دیا جا سکتا۔ مختصرًا یہ ہے کہ ان کی تین ناول کرامازوف برادران‘، ’ایڈیٹ‘ اور ’جرم و سزا‘ ایسے ہیں کہ جنھیں دنیا کے سر فہرست ناولوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ کسی کی نظر میں ایڈیٹ زیادہ اہم ہے، کسی کی نظر میں جرم و سزا اور کسی کی نظر میں کرامازوف برادران۔

ایک زمانہ تھا کہ سوویت یونین سے روسی زبان میں لکھی جانے والی کتابوں کے اردو اور انگریزی میں ترجمے آیا کرتے تھے۔ انتہائی عمدہ چھپے ہوئے اور بہت کم قیمت۔ کراچی کی حد تک مجھے یاد ہے کہ صدر، الفیسٹن سٹریٹ پر، جسے اب زیب النسا سٹریٹ کر دیا گیا ہے، ایک دکان ہوتی تھی، جہاں یہ ترجمے ملا کرتے تھے۔ لیکن تب یہ بھی کہا جاتا تھا کہ جو اس دکان کی طرف جاتا ہے اس کے پیچھے سی آئی ڈی لگ جاتی ہے۔

اسی دکان سے میں نے بہت سی کتابیں دو سے ساڑھے تین روپے تک کی خریدیں۔ ضیا الحق کے دور میں ان کتابوں کی آمد کم ہوئی اور سوویت یونین کے خاتمہ کے ساتھ بالکل ختم ہو گئی۔

انہی ترجموں سے ظ انصاری کے نام سے بھی واقفیت ہوئی بعد میں پتا چلا کہ انتہائی پڑھے لکھے آدمی ہیں۔ لسانیات میں پی ایچ ڈی ہیں اور اردو، روسی، عربی، انگریزی اور فارسی پر عبور رکھتے ہیں۔

انھوں نے برنارڈ شا، الیگزینڈر پُشکن، چیخوف اور دوستوفسکی جیسے ادیبوں کے فن پاروں کو اُردو میں منتقل کیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے امیر خسرو، غالب اور علامہ اقبال پر بھی جو کام کیا اسے عالمی اہمیت کا حامل تصور کیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انھوں نے اردو - روسی لغت بھی مرتب کی تھی لیکن دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا۔

بک ٹائم نے دوستوفسکی کی جو یہ تین کہانیاں شائع کی ہیں وہ بھی انصاری صاحب ہی کا ترجمہ ہیں۔ لیکن بظاہر دیکھنے میں خوبصورت یہ کتاب غالبًا صرف کمپوزر پر اعتماد کر کے شائع کر دی گئی ہے۔ کسی نے کمپوزنگ کو پڑھنے کی زحمت تک گوارا نہیں کی۔

کتابیں شائع کرنے والے ایسا کیوں کرتے ہیں۔ یہ تو کسی اور کے ساتھ نہیں خود اپنے ساتھ ظلم کرنے کے مترادف ہے۔ یہ کتاب یقینًا کتاب ہی کو سامنے رکھ کر کمپوز کی گئی ہو گی۔ اس لیے نہیں کہا جا سکتا کہ پڑھنے میں وہ دقت ہوئی ہو گی جو دستی مسودوں میں ممکن ہو سکتی ہے۔

اچھی کمپوزنگ اور پروفنگ سے مصارف کتنے بڑھتے ہوں گے؟ لیکن جتنے بھی ہوں ان کی وجہ سے سارے اخراجات اور نام کو خطرے میں ڈالنا تو کارباری اعتبار سے بھی دانش مندی نہیں ہے۔

ذی ہوش قصہ گو

نام کتاب: آدمی

مصنف: محمد حمید شاہد

صفحات: 192

قیمت: 300 روپے

ناشر: مثال پبلشرز، رحیم سینٹر، پریس مارکیٹ امینپور بازار، فیصل آباد

E-mail:misaalpb@gmail.com

محمد حمید شاہد کے افسانوں کے اس سے پہلے چار مجموعے:بند آنکھوں سے پرے،جنم جہنم،مرگ زاراورپارواور اس کے علاوہ پچاس افسانوں کا ایک انتخاب شائع ہو چکا ہے۔ ان کا ایک ناول ’مٹی آدم کھاتی ہے‘ اور تنقید کی بھی کئی کتابیں شائع جن میں ایک تو ہے ہی ’اردو افسانہ: صورت و معنی‘۔

ان کی افسانہ نگاری کے بارے میں اردو کے نقادوں نے بہت کچھ کہا ہے لیکن تین لوگو ں کی آرا کو میں مختصرًا یہاں پیش کرتا ہوں۔ یہ تینوں اردو میں تو کم از کم اب کسی تعارف کے محتاج نہیں ہے۔ ان میں ایک تو شمس الرحمٰن فاروقی ہیں، دوسرے ناصر عباس نیّر اور تیسرے منشا یاد۔ منشا یاد کو میں نے اس لیے شامل کیا ہے کہ حمید شاہد ان سے بہت قریب تھے اور دونوں کا ایک دوسرے کہ بہت جاننا فطری ہے۔

شمس الرحمٰن فاروقی:

محمد حمید شاہد اپنے افسانوں میں ایک نہایت ذی ہوش اور حساس قصہ گو معلوم ہوتے ہیں۔ جدید افسانہ نگار اپنے قاری کے لیے کتابی تو وجود رکھتا ہے لیکن زندہ وجود نہیں رکھتا۔ محمد حمید شاہد اس مخمصے سے نکلنا چاہتے ہیں اور شاید اسی لیے وہ اپنے بیانیے میں قصہ گوئی، یا کسی واقع شدہ بات کے بارے میں ہمیں مطلع کرنے کا انداز جگہ جگہ اختیار کرتے ہیں۔

محمد حمید شاہد کے ہاں موضوعات کا تنوع ہے۔ ان کے سروکار سماجی سے زیادہ سیاسی ہیں، حتی کہ وہ اپنے ماحولیاتی افسانوں میں بھی کچھ سیاسی پہلو پیدا کر لیتے ہیں

ناصر عباس نیّر:

محمد حمید شاہد نے خود شعوریت کے ذریعے ادب اور افسانوی عمل کے امتیاز اور استناد کو باور کرانے کی سعی کی ہے اور یوں گہرے ثقافتی شعور کا مظاہرہ کیا اور اس کے مقابل مخصوص تخلیقی سٹرٹیجی کو وضع کیا ہے ۔خود شعوریت سے جہاں ان کے افسانوں میں متن در متن یا Frame Narrative کی صورت پیدا ہوئی ہے، وہاں یہ افسانے نئی قسم کی حقیقت نگاری کے مظہر بھی بن گئے ہیں ’برشور‘، ’لوتھ‘، ’تکلے کا گھاﺅ‘، ’موت منڈی میں اکیلی موت کا قصہ‘ اور ’مرگ زار‘ محمد حمید شاہد کی نو حقیقت پسندی کی عمدہ مثالیں ہیں ۔ واضح رہے کہ ان کی حقیقت نگاری نہ تو سماجی حقیقت نگاری ہے، نہ مارکسی حقیقت نگاری اور نہ نفسیاتی یا باطنی حقیقت نگاری۔ ان کی حقیقت نگاری دراصل معاصر زندگی پر غیر مشروط مگر کلی نظر ڈالنے سے عبارت ہے ۔اور یہ اس توازن کو بحال کرتی ہے، جسے جدیدیت پسندوں اور ترقی پسندوں کی انتہا پسندانہ روشوں نے پامال کیا تھا۔

منشا یاد:

حمید شاہد کے فن ِافسانہ نگاری کی اہم خوبی ہے کہ وہ کسی ایک خاص ڈکشن کے اسیر نہیں ہوے اور صاحبِ اسلوب بننے کی کوشش میں خود کو محدود نہیں کیا۔ حمیدشاہد کے ہاں ایسا نہیں ہے۔ وہ خیال، مواد اور موضوع کے ساتھ تکنیک اور اسلوب میں ضرورت کے مطابق تبدیلی پیدا کر لیتے ہیں۔ وہ ہر رنگ کی کہانی لکھنے پر قادر ہیں ان کی کہانیاں زمین سے جڑی ہوئی ہوتی ہیں۔اپنی تہذیب، ثقافت اور اقدار کی خوشبو لیے ہوئے اور افسانے کی روایت سے گہرا رشتہ رکھتے ہوئے۔ لیکن تازگی اور ندرت کی حامل اور ایسی پر اثر کہ پڑھ لیں تو پیچھا نہیں چھوڑتیں ۔اندر حلول کرجاتی ہیں۔ خون میں شامل ہو جاتی ہیں۔

میں مذکورہ بالا حضرات کے مضامین سے ان باتوں کا انتخاب کیا ہے جو میرے خیال میں محمد حمید شاہد کے اس مجموعے پر بھی صادق آتی ہیں۔ ان کے نام ذرا رعب ڈالنے کے لیے بھی دیے ہیں اور اس لیے بھی کہ مجھے بھی کم و بیش یہی کہنا تھا۔ اب اگر فاروقی صاحب اور نیّر صاحب کی رائے بدل گئی ہو یا اس مجموعے کے بعد یہ نہ رہی ہو تو میں ان آرا کو قبول نام کرتا ہوں۔

حمید شاہد کے اس مجموعے میں 17 افسانے ہیں۔ اور ان میں ایک کے انداز کے بارے میں مجھے بطور افسانہ نگار کچھ اختلاف بھی ہے لیکن جہاں تک ان کہانیوں کا تعلق ہے، آپ بھی انھیں یقینی طور پر نیّر کے الفاظ کے مطابق نئی حقیقت نگاری کی ایک اچھی مثال ہی محسوس کریں گے۔

ایک بات تو رہ ہی گئی اس کتاب کے فلیپس پر حمید شاہد نے جو ٹکڑے دیے ہیں انھیں کہانیوں کے خلاصے مت سمجھیے گا، میں تو کہوں گا کہ ٹیزر بھی اچھے نہیں افسانے زیادہ زور دار ہیں پڑھ کر دیکھ لیں۔ ایک ہی افسانہ پڑھ کی آپ میری رائے کے قائل ہو جائیں گے۔ پھر ذہن پر بہت زور بھی نہیں ڈالنا پڑے گا۔ ہاں ڈالیں گے تو فائدہ زیادہ ہوگا۔

کتاب عمدہ شائع ہوئی ہے اور قیمت بھی انتہائی مناسب ہے۔

اسی بارے میں