سعودی عرب کی پہلی خاتون فلم ساز

Image caption فلم واجدہ اسم با مسمی ہے کیونکہ اس میں واجدہ کی تلاش کو دیکھایاگیا ہے

سعودی عرب میں خواتین کو نہ تو ووٹ ڈالنے کا حق ہے، نہ گاڑی چلانے کا اور نہ ہی انہیں مردوں کے ساتھ کام کرنے کی اجازت ہے۔ ایسے میں جب حیفہ المنصور اپنی تعلیم مکمل کر سعودی عرب لوٹيں تو انہیں یو محسوس ہوا کہ جیسے ان کا کوئی وجود ہی نہیں۔

سعودی عرب کے سماج میں مردوں کو اولیت حاصل ہے ایسے میں نہ تو حیفہ کی آواز کو سننے والا کوئی تھا اور نہ ہی ان کی شخشيت کو اہمیت دینے والا۔

اس بات سے بے حد مایوس حیفہ نے یہ طے کر لیا کہ وہ کچھ ایسا کر دكھائیں گي جس سے ان کی بات، ان کی آواز لوگوں تک پہنچے۔ ان کی اسی سوچ نے انہیں سعودي عرب کی پہلی خاتون فلم ساز بنا دیا۔

حیفہ کی فلم ’واجدہ‘ کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔ حال ہی میں جب وہ بی بی سی کے لندن سٹوڈیو آئیں تو انہوں نے بتایا کہ ہدایتکاری کی جانب ان کے قدم کیونکر بڑھے۔

وہ کہتی ہیں: ’میرے ہی ملک میں نہ تو میری آواز سنی جا رہی تھی اور میرے ہونے یا نہ ہونے سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا۔ یہ بات مجھے بہت کھل رہی تھی، پریشان کر رہی تھی۔‘

حیفہ کہتی ہیں: ’فلم بنانا تو میں نے شوقیہ شروع کیا۔ ایک مختصر فلم بنا کر میں نے اسے ابوظہبی میں ہونے والے ایک مقابلہ میں بھیجا۔ انہوں نے میری فلم کو مقابلہ کے لیے منتخب کر لیا۔ مجھے وہاں بلایا گیا. جب میں وہاں پہنچی تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں سعودی عرب کی پہلی خاتون ہدایتکار ہوں۔ اس بات کو سن کر مجھے کتنی خوشی ہوئی، میں آپ کو بتا بھی نہیں سکتی۔‘

حیفہ کہتی ہیں کہ انہیں اس بات کا فخر ہے کہ وہ سعودی عرب کی پہلی خاتون فلم ڈائریکٹر ہیں لیکن انہوں نے فلمیں بنانا صرف اس ٹیگ کے لیے نہیں شروع کیا۔ وہ فلم ساز اس لیے بنیں تاکہ ان کی اپنی ایک شناخت ہو۔

اب تو بطور فلم ساز حیفہ اپنی شناخت بنا چکی ہیں لیکن فلموں کے تئیں ان کا یہ جو لگاؤ ہے اس کی شروعات کیسے ہوئی؟

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے حیفہ کہتی ہیں: ’میں سعودی عرب کے چھوٹے سے شہر سے تعلق رکھتی ہوں۔ ہم 12 بھائی بہن ہیں۔ ہمارے گھر میں خوب شور رہتا تھا۔ ہمیں دھینگا مشتی سے بعض رکھنے کے لیے میرے والد ہمارے لیے فلمیں لایا کرتے تھے۔ یہ فلم یا تو جیکی شین (چین) کی ہوتی تھی یا پھر بروس لی کی۔ تو بس بچپن سے ہی مجھے فلموں سے پیار ہو گیا۔‘

حیفہ کی فلم ’واجدہ‘ ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے جو ایک سبز رنگ کی سائیکل خریدنا چاہتی ہے۔ لیکن لڑکی ہونے کی وجہ سے اسے سائيکل خریدنے کے لیے نہ تو اجازت ملتی ہے اور نہ ہی پیسہ۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح یہ لڑکی سائیکل خریدنے کے لیے پیسے جمع کرتی ہے۔

Image caption حیفہ المنصور نے فلم سازی شوقیہ شروع کی تھی

حیفہ کہتی ہیں کہ اپنی اس فلم کے ذریعہ وہ یہ دکھانا چاہتی تھیں کہ کس طرح ان کا ملک نئے اور پرانے کے درمیان مطابقت پیدا کر رہا ہے۔ وہ کہتی ہیں: ’سعودی عرب ایک جدید ملک ہے، یہاں بڑی عمارتوں سے لے کر جدید ہر طرح کی ٹیکنالوجی موجود ہے لیکن ابھی بھی لوگوں کی ذہنیت بہت روایتی ہے۔ یہ میری فلم کی کہانی کے لیے ایک بہترین پس منظر تھا۔‘

حیفہ نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنی اس فلم کے ذریعہ صرف یہ نہیں بتانے کی کوشش کر رہیں کہ سعودی عرب مردوں کا تسلط ہے بلکہ وہ یہ دکھانے کی کوشش بھی کر رہی ہیں کہ کس طرح یہ لڑکی مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے اپنی منزل حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

عربی زبان میں ’واجدہ‘ کا مطلب ہوتا ہے کسی چیز کو حاصل کرنے کی چاہ رکھنے والی۔ حیفہ چاہتی ہیں ہیں کہ ان کی یہ فلم سعودی عرب کے گھر گھر میں دیکھی جائے۔

اسی بارے میں