دو کتابیں، 13 مصنف، 33 کہانیاں

Image caption ’فارسی کہانیاں٢‘ سب سے زیادہ کہانیاں آلِ احمد کی ہیں۔ یہ تمام کہانیاں اجمل کمال نے ترجمہ کی ہیں

نام کتب: فارسی کہانیاں جلد٢ اور٣

انتخاب و ترجمہ: اجمل کمال

صفحات: جلد٢ (257) اور٣ (278)

قیمت: جلد٢، 380 روپے اورجلد٣، 430 روپے

ناشر: آج کی کتابیں، سٹی بُک شاپ۔ 316مدینہ سٹی مال، عبداللہ ہارون روڈ، صدر کراچی74400

ای میل:ajmalkamal@gmail.com

فارسی ان زبانوں میں سے ایک ہے جن میں دوسری زبانوں کی کتابوں کے سب سے زیادہ تراجم ہوتے ہیں اور یہ کہنا اضافی ہے کہ کسی زبان میں اظہار کی وسعت اس میں ترجموں کے تناسب سے پیدا ہوتی ہے اور جتنی یہ وسعت ہوتی ہے اتنے ہی تخلیقی قوت کے امکانات ہوتے ہیں۔

نقادوں کا کہنا ہے کہ جدید ایرانی افسانے کی تاریخ کو تین ادوار میں بانٹا جا سکتا ہے۔ ابتدائی زمانہ جب ایران میں فارسی افسانے کی شکل بننا شروع ہوئی، درمیانہ زمانہ، استحکام اور نمو کا دور اور تیسرا تنوع کا دور۔

لیکن عملًا اس نوع کی تقسیم شاید زیادہ درست اور ممکن نہیں۔ کیونکہ یہ تینوں دور ایک دوسرے سے ایسے ملے ہوئے ہیں کہ درمیان میں کوئی خط کھینچا نہیں جا سکتا، لیکن یہ ضرور ہے ایران میں سیاسی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ افسانہ ضرور متاثر ہوتا رہا ہے۔

اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ایران میں ادیبوں کی بڑی تعداد کا تعلق بائیں بازو سے رہا ہے اور شاہ کا زمانہ تھا یا اس کے بعد اب تک نام نہاد اسلامی انقاب کا دور ہے، آزادیِ اظہار کا ماحول کبھی بھی سازگار نہیں رہا۔

فارسی افسانے یا کہانی کا ابتدائی دور محمد علی جمال زادہ (1997-1892) کے ’یکے بود یکے نبود‘ ( اشاعت برلن 1921) سے ہوتا ہے اور یہیں سے فارسی افسانہ، قصوں اور لوک کہانیوں کے انداز کو چھوڑ کر نیا انداز اختیار کرتا ہے۔ اس مجموعے میں نہ صرف عام اور روز مرہ کی زبان اور محاورے استعمال کیے گئے بلکہ سیاسی اورسماجی موضوعات کے ساتھ طنزیہ پیرایہ بھی استعمال کیا گیا۔ یہ مجموعہ 1985 میں Once Upon a Time کے نام سے ترجمہ ہو کر نیویارک سے شائع ہوا۔

جمال زادہ کی کہانیوں میں پلاٹ کو مرکزیت حاصل رہتی ہے اور وہ اپنی کہانیوں کا اختتام موپاساں اور او ہینری کی طرح ڈرامائی اور چونکانے والے انداز میں کرتے ہیں۔ لیکن انھوں نے زبان کا جو انداز اختیار کیا اس نے فارسی میں افسانے کے لیے جس زبان کی بنیاد رکھی وہ اب تک برقرار ہے۔ ممکن ہے کچھ لکھے والے زبان کے اس انداز سے باہر بھی ہوں لیکن اسے میری کم علمی میں شمار کر لیں۔

نیّر مسعود نہ صرف برصغیر میں فارسی کے اہم سکالر ہیں بلکہ خود بھی اس دور میں اردو کے سرفہرست افسانہ نگاروں میں سے ایک اور اعلٰی درجے کے مترجم ہیں۔انھوں نے غلام حسین ساعدی کے افسانے ’فقیر‘ کا ترجمہ’روضے والی‘ کے عنوان سے کیا ہے۔ اس افسانے کے بارے میں وہ کہتے ہیں: ’فارسی افسانوں کی خصوصیت یعنی بول چال کی زبان ترجمے کی راہ میں حائل تھی۔ کسی طرح افسانے کا ترجمہ تو کر لیا لیکن پچیس تیس لفظ اور فقرے ایسے باقی رہ گئے جن کا مطلب فرہنگوں کو ورق گردانی سے بھی حل نہ ہوا۔‘

انھوں نے اس مشکل پر ایرانی دوست ابرہیم حسنی کی مدد لی۔ ان کا یہ افسانہ ان کے ترجمہ کیے ہوئے افسانوں کے مجموعے ’ایرانی کہانیاں 2002، ‘ آج کی کتابیں، میں شامل ہے۔

لیکن جدید افسانے کا دوسرا اور اصل دور صادق ہدایت کے افسانوں کے مجموعے ’زندہ بگور‘ (1930)، اُس کے بعد ’سہ قطرۂ خوں‘ (1932) سایۂ روشن (1933)، وغ وغ ساباب، طویل کہانی علویہ خانم (1933) اور ناول بوفِ کور (1937) سے ہوتا ہے۔

صادق ہدایت کی زبان بظاہر مزید سادہ اور واضح تھی لیکن وہ کہانی میں حقیقت پسندی اور سرریلسٹ فینٹسی کو اس طرح ملاتے ہیں کہ کہانی کی شکل ہی کچھ اور ہو جاتی ہے۔ اس پر ان میں عدم تحفظ کا احساس اور مایوسی، جس کے بارے میں نیّر مسعود کا کہنا ہے:

’یہ شخصیت جنون کی حد تک غیر معتدل اور نفسیاتی گتھیوں سے بھری ہوئی تھی۔ یہ شخصیت با آسانی مریضانہ کہی جا سکتی ہے اور اس کے افسانے اسی شخصیت کا نقش ہیں۔‘

صادق کے کم و بیش تمام ہی افسانوں کے مرکزی کرداروں کا انجام یا تو موت پر ہوتا ہے یا وہ خود کشی کرتے ہیں۔ وہ ایک فلسفیانہ قسم کے اضطراب اور نفسیاتی کرب کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ ہدایت نے خود بھی آخر فرانس میں جا کر خود کشی کر لی۔

Image caption آج کی کتابیں بالعموم اچھی، خوبصورت و خوب سیرت ہی ہوتی ہیں، سو یہ بھی ہیں اور قیمت بھی زیادہ نہیں ہے

ہدایت کے ساتھ ہی بزرگ علوی کا ذکر بھی آنا چاہیے جن کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’چمدان‘ (سوٹ کیس) 1934 میں شائع ہوا۔ ان کے ہاں بھی پڑھنے والوں کی ملاقات افسردہ، دل شکستہ اور پریشان کرداروں سے ہوتی ہے۔ علوی بائیں بازو کے لیے بھی سرگرم تھے اس لیے ان کی گرفتاری ہوئی اور اس گرفتاری نے ان کی افسانہ نگاری کے انداز پر بھی اثر ڈالا۔

’علوی کا کہنا ہے کہ وہ جیل جانے سے پہلے سیاسی سرگرمیوں میں عملی طور پر شریک نہیں تھے بلکہ ان لوگوں میں تھے جو مارکسی نظریات سے شناسائی پیدا کر رہے تھے۔‘ (اجمل کمال)

اس واقعے نے فارسی افسانے کو نئے انداز سے متعارف کرایا جو سماجی ناانصافیوں اور استبداد کو بیان کرنے کا تو تھا ہی لیکن نظریاتی بھی تھا۔

وابستگی کا یہی انداز فریدون تنکابنی، محمود دولت آبادی اور ان دوسرے افسانہ نگاروں میں بھی دکھائی دیتا ہے جنھیں بائیں بازو والے بھی کہا جاتا ہے۔

جمال میر صادقی اور ہوشنگ گلشیری اپنے اپنے انداز میں بزرگ علوی کے انداز سے متاثر ہیں جنھوں فارسی افسانے میں عورت کو ایک انسان اور کثیرالجہتی انسان کے طور پر بھی دکھایا۔

فارسی افسانے کو ایران کے سیاسی حالات کے آئینے کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے، اگرچہ ان افسانے لکھنے والوں کی اکثریت افسانے اور تاریخ و سیاست کے فرق کو بہت نمایاں طور سمجھتی ہے۔

اس پس منظر میں اجمل کمال نے پہلے 1994 میں کتابی سلسلہ ’آج‘ کا ایک ’خصوصی شمارہ فارسی کہانیاں‘ کے لیے وقف کیا۔ جس میں اٹھارہ لکھنے والوں کی 23 کہانیوں کے تراجم تھے۔ اور اب 19 سال بعد انھوں نے ’فارسی کہانیاں٢‘ اور ’فارسی کہانیاں٣‘ کے نام سے دو جلدیں شائع کی ہیں۔

’فارسی کہانیاں٢‘ میں ابراہیم گلستان، بزرگ علوی، جلال آلِ احمد، نادر ابراہیمی، محمود دولت آبادی، نسیم خاکسار، منیروروانی پور، ہوشنگ گلشیری، غلام حسین نظری اور اسماعیل فصیح یعنی دس لکھنے والوں کی 20 کہانیاں ہیں۔

ان میں نو کہانیاں ایسی ہیں جو اس سے پہلے 1994 میں شائع ہونے والے آج کے خصوصی شمارے میں بھی شامل تھیں۔

’فارسی کہانیاں٢‘ سب سے زیادہ کہانیاں آلِ احمد کی ہیں۔ یہ تمام کہانیاں اجمل کمال نے ترجمہ کی ہیں۔ اور وہ اس پہلے بھی نہ صرف فارسی کہانیوں بلکہ صادق ہدایت کے مشہور ناول ’بوفِ کور‘ کا بھی ترجمہ کر چکے ہیں۔

’فارسی کہانیاں٣‘ میں امین فقیری، غلام حسین ساعدی اور سیمین دانشور کی 13 کہانیاں یا افسانے ہیں۔ ان کے تراجم اجمل کمال، وفایزدان منش اور معصومہ غلامی نے کیے ہیں۔ اس کتاب یا تیسری جلد میں شامل کہانیوں میں سے تین کہانیاں یعنی تینوں مصنفوں کی ایک ایک کہانی 1994 میں بھی شامل تھیں۔

یوں تو ان دو جلدوں میں شامل تمام ہی کہانیاں اور افسانے ایسے ہیں کہ افسانے اور کہانیاں لکھنے والوں کو کئی کئی بار، اور خاص طور پر فکشن پڑھنے والوں کو ضرور پڑھنی چاہیں۔ اس سے نہ صرف ایران اور ایرانی ثقافت و تہذیب اور سیاست کے بارے میں بہت کچھ جانا جا سکتا ہے بلکہ اردو افسانے کے بارے میں بھی بہت کچھ سمجھا جا سکتا ہے۔

ایک اور اہم بات ان دو جلدوں کی یہ کہ ان کے آخر میں لکھنے والوں کے تعارف دیے گئے ہیں جو ایران میں ادیبوں اور ریاست کے تعلقات کے کم سے کم ساٹھ ستر برسوں کی دستاویز ہیں۔

اس کی مدد سے بھی اردو کے ادیب تاریخ، سیاست، ادب اور ادیب کی ذمہ داریوں کے بارے میں بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ رہے پڑھنے والے، تو وہ تو جان ہی لیں گے کہ ریاست و اقتدار کی قربت اور چھوٹے بڑے اعزازات اور عہدے ادیب کے کردار اور لکھنے پر کیا اثر ڈالتے ہیں۔

ایک کمی ضرور محسوس ہوتی ہے کہ جہاں مصنفین کے اتنے تعارف دیے گئے ہیں ترجمہ کرنے والوں کا بھی کچھ تعارف کرا دیا جاتا تو بہت اچھا ہوتا۔

آج کی کتابیں بالعموم اچھی، خوبصورت و خوب سیرت ہی ہوتی ہیں، سو یہ بھی ہیں اور قیمت بھی زیادہ نہیں ہے۔ لیکن اگر کاغذ کچھ دیرپا ہوتا تو زیادہ اچھا ہوتا۔

اسی بارے میں