طلسمِ ہوشربا کا ایک شاندار انتخاب

انور سِن رائے

نام کتاب: طلسم ہوشربا

مصنفین: محمد حسین جاہ، احمد حسین قمر

انتخاب: محمد حسن عسکری

صفحات: 336

قیمت: 500

ناشر: آصف جاوید، نگارشات، پبلیشرز، 24 مزنگ روڈ، لاہور

طلسمِ ہوشربا کے اس انتخاب میں اگر عزیز احمد کا مقدمہ اور محمد حسن عسکری کا دیباچہ نہ ہوتا، اور انتحاب کے پہلی بار شائع ہونے کے ذکر کی طرح انھیں بھی غیر ضروری سمجھا لیا جاتا تو معاملہ بہت آسان ہو جاتا۔ پھر یہی بتانا پڑتا کہ اس انتخاب میں جو رکھا گیا ہے وہ کیسا ہے، اس میں کیا ہے اور اسے کیوں پڑھا جائے۔

انیسویں صدی کے آخری حصے میں لکھی جانے والی اس داستان کے مصنفین اور شائع کرنے والوں کو اگر سات جلدوں کے بعد دو جلدوں کے ضمیمے کی بھی ضرورت محسوس ہوئی تو یہ کہنا پڑے گا کہ وہ اس کہ اہل نہیں تھے۔

ان نو میں سے پہلی چار جلدیں محمد حسین جاہ نے اور باقی احمد حسین قمر نے، اور انھیں نہ اہل کہنے والا کم سے کم ایسا ہونا چاہیے کہ اس نے معیار یا مقدار میں کم سے کم اتنا کام کیا ہو۔ معاملہ مقدار کی کمی کا ہے، یعنی چھٹائی کر کے وہ مال نکال لیا ہے جو انتخاب کرنے والے کے مقاصد کی نمائندگی کرتا ہے۔

یہ معاملہ ہر انتخاب میں پیش آتا ہے۔ انتخاب کرنے والا پہلے مقاصد طے کرتا ہے اور پھر جو اس پر پورا نہیں اترتا اُسے الگ کرتا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انتخاب اور تدوین کو ایک کر کے دیکھا جائے۔

اگرچہ تدوین میں بھی پہلے روح کا تعین کر لیا جاتا ہے اور پھر جو زیادہ ہوتا ہے اسے الگ کر دیا جاتا ہے جیسے پتھر سے مجسمہ تراشا جاتا ہے یا لکڑی سے کوئی شکل نکالی جاتی ہے لیکن زبان کے ذریعے بیان ہونے کا معاملہ شاید ایسا نہیں۔ اس میں وہ باتیں بھی آ جاتی ہیں جو بظاہر بیان کرنے والے کو، بیان کرتے وقت محسوس نہیں ہوتیں۔ اس بات کو جدید تنقید کے ذریعے بھی آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے اور اس بات سے بھی جسے عسکری نے چیزوں اور نثر کے رشتے سے بیان کیا ہے۔

میں نے نہ تو طلسم ہوشربا پوری پڑھی ہے اور نہ ہی اس تبصرے کو کبھی پورا پڑھنے تک موقوف رکھ سکتا ہوں۔ اس لیے میں یہ نہیں بتا سکتا کہ جو چھوڑ دیا گیا ہے اس میں کیا کیا چھٹ گیا ہے اور وہ کتنا ضروری تھی یا نہیں تھا۔

لیکن اردو میں عسکری نے جو ساکھ بنائی ہے یا دھاک بٹھائی ہے، وہ نہ بھی ہوتی تو انھوں نے دیباچے میں جو کچھ کہا ہے اس کی بنا پر بھی یہ انتخاب فکشن لکھنے والوں کے لیے ہی نہیں اردو پڑھنے والے سبھی لوگوں کے ضرور اہم قرار پاتا۔ یہ دیباچہ انھوں نے سنہ 1950 میں لکھا تھا تو ایک اندازہ تو یہی ہوتا ہے کہ یہ انتخاب پہلی بار اسی سال یا اس سے اگلے سال یعنی سنہ 1951 میں چھپا ہوگا۔

عسکری نے ایک تو جاہ اور قمر کی نثر اور انداز میں فرق قائم کیا ہے۔ پہلے وہ بتاتے ہیں کہ رجب علی بیگ سرورکے ہاں نثر چیزوں کو تصورات میں بدل دیتی ہے اور میرامن کی نثر میں چیزیں ایک دوسرے سے الگ اور اپنی روشنی سے منور دکھائی دیتی ہیں۔

پھر یہ بیان ہے کہ طلسم ہوشربا کی نثر چیزوں کو تصورات میں نہیں بدلنا چاہتی، اس نثر کو شاید چیزوں کی روح سے وہ ہم آہنگی حاصل نہیں، اس کے برخلاف وہ ہر چیز میں الگ الگ اور زیادہ دلچسپی لیتی ہے۔

ان کا کہنا ہے، 1۔ یہ نثر ہر چیز میں اس کا چٹ پٹا پن تلاش کرتی ہے۔ 2۔ یہ نثر چیزوں کی پیاسی ہے اور ان سے لذت لینے کا کوئی موقع کبھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔

اس دیباچے میں آج کے فکشن کو دیکھنے اور اس پر بات کرنے کی لیے اتنی باتیں ہیں کہ اگر کھل گئیں تو یہاں سمٹ نہیں پائیں گی۔ اس لیے وہ سن لیں جو عسکری نے اس انتخاب کو کرتے ہوئے پیش نظر رکھیں یا جنھیں بروئے کار لائے۔

1۔ ہر انتخاب (ٹکڑا) اپنی جگہ پورا قصہ ہو۔

2۔ طلسمِ ہوشربا میں جو مختلف اسالیب ملتے ہیں ان کے تمام نمونوں کی نمائندگی ہو۔

3۔ گنجلک نثر بھی ہے لیکن اسے کانٹ چھانٹ کر مختصر کر دیا ہے۔

4۔ طلسم ہوشربا کو میں نے ایک عام ادب پڑھنے والے یا ایک ایسے آدمی کی طرح پڑھا ہے جس نے افسانے لکھے اور مختلف اقسام کی نثر نگاری اور اس کی ضرورتوں کو سمجھنے کو کوشش کی۔

اس کے علاوہ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ کتاب ہماری قوم کی وہ تصویر دکھاتی ہے جو قوم نے ایک زمانے میں اپنے ذہن میں قائم کر رکھی تھی‘۔

’ان صفحوں میں اردو نثر نگاری اور افسانہ نویسی کے بعض بہترین نمونے موجد ہیں‘۔

اب عزیز احمد: طلسم ہوشربا، دراصل عورتوں کی داستان ہے، طلسم ہوشربا کی عورتیں زیادہ تر جادو گرنیاں ہیں، شریف جادوگرنیاں اور رذیل جادو گرنیاں، الھڑ جادوگرنیاں اور چالاک جادو گرنیاں، کٹنیاں اور بلائیں، لیکن قصے کی تہ کے نیچے یہ سب اس زمانے کے لکھنؤ کی عورتیں ہیں۔

ان میں سبھی طرح کی عورتیں ہیں، بیگمات جو زہرِ عشق اور دوسری مثنویوں کی عورتوں کی طرح چھپ چھپ کے عاشقی کرتی ہیں، رسوائی سے ڈرتی ہیں لیکن عشق بھر پور، بدمست جوانی کے عشق سے باز نہیں آتیں۔ چوک کی رنڈیاں جن کی بات چیت، نرت میں شہد پن ہے۔ مٹکنے والی خادمائیں اور اصیلیں۔ (جن کے) انکار کا مطلب اقرار ہے اور اقرار کا اصرار۔

عزیز احمد بھی کہتے ہیں کہ طلسمِ ہوشربا میں ہر طرح کی زبان محفوظ کی گئی ہے۔ وہ کٹنیوں کے بول سے مثال دیتے ہیں:

’ہمارے کام کو آپ کیا پوچھتے ہیں؟ ہم نے سینکڑوں کے گھر غارت کر دیے۔ لاکھوں کو بہلا پھسلا کر بیچ ڈالا۔ ہزاروں نسبتیں اور بیاہ کرا دیے۔ صدہا طلاقیں دلوائیں اور بہت بیٹیاں جن کا دامن تک کسی نے نہ دیکھا تھا، ان کے نو نو یار کرادیے‘۔

ضرورت تو اس بات کی بھی ہے کہ اردو کے روایتی اور کلاسیکی ادب کو کوئی ایسی ادیب اور دانشور بھی پڑھے جو نسائیت کے بارے میں مردوں سے زیادہ فہم رکھتی ہو۔ بدقسمتی یہ ہے کہ عکم برداری اور نعرے بازی کرنے والی تو بہت ہیں لیکن پتہ مار کے اس پر لگنے والی کوئی دکھائی نہیں دیتی۔ میری شدید خواہش کہ میرا یہ خیال غلط ثابت ہو، سال چھ مہینے میں نہیں تو دو چار سال میں۔

جس کتاب میں یہی نہیں اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہو کیا اسے پڑھنے کو دل نہیں کرے گا؟ پھر کتاب اچھی بھی چھپی ہے، مجلد ہے، کاغذ ضرور نیوز پرنٹ ہے۔ جس بنا ہر کہہ سکتے ہیں کہ قیمت کچھ زیادہ ہے۔

اسی بارے میں