جدید فارسی شاعری، کانی نکاح اور غالب

جدید فارسی شاعری، ن م راشد کے تعارف و ترجمے کے ساتھ، خالد طور کے تین ناولٹ اور تین افسانے اور ان کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر نعمان الحق کا درست کردہ محاسنِ کلامِ غالب کا متن آگے پیچھے پڑھیں تو سہ آتش دیدگی کا ہی نہیں گزشتگی کا تجربہ بھی ہوتا ہے۔ خاص طور پر جب کتابیں دیکھنے میں ہی نہیں چھونے میں بھی بھلی لگیں۔

نئے شاعروں کے لیے

نام کتاب: جدید فارسی شاعری

تعارف و ترجمہ: ن م راشد

صفحات: 409

قیمت: 795 روپے

ناشر: اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان۔ پی او بکس 8214، کراچی۔ 74900

ن م راشد کو کسی تعارف کی ضرورت نہیں۔ برِ صغیر کی تمام زبانوں اور اور خاص طور پر اردو شاعری کے تمام سنجیدہ پڑھنے والے انہیں جانتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے انھیں پہچانتے بھی ہیں۔ جو پہچانتے ہیں ان میں سے بہت سے ان کے ان ترجموں سے بھی واقف ہیں جو انھوں نے زیادہ تر ایران میں قیام کے دوران کیے تھے۔

اور لوگوں نے بھی ایران کی فارسی شاعری کے ترجمے کیے ہیں اور کرتے بھی رہتے ہیں لیکن راشد کے ترجموں کی اہم بات یہ ہے کہ جن شاعروں کے انھوں نے ترجمے کیے ان میں سے اکثر سے ان کی ملاقات بھی رہی۔ ان شاعروں سے ان کی ان نظموں پر بات بھی ہوتی رہی جو انھوں نے ترجمہ کیں، اس کا ذکر انھوں نے کچھ اس کتاب کے تعارف میں بھی کیا ہے۔ مجھے ذاتی طور پر بھی ایک ملاقات میں ان سے اس بارے میں ان کے خیالات جاننے کا اتفاق ہوا تھا۔

یہ تعارف بہت سے حوالوں سے اِس دور کے شاعروں کے لیے اہم ہو سکتا ہے۔

فارسی میں جدید شاعری کی ابتدا نیما یو شیج اور 1935 سے ہوتی ہے۔ انھیں روایتیوں، کلاسیکیوں اور قدامت پرستوں کے جس استہزا اور طعن کا نشانہ بننا پڑا وہ اردو میں میرا جی اور خود راشد کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھا۔

نیما پہلا شاعر تھا جس نے قافیے، ردیف اور مروج عروض سے فارسی شاعری کو نجات دلائی۔ اپنے اوزان کی بنیاد موسیقی پر رکھی، خارجی موسیقی پر نہیں داخلی موسیقی پر اور اشیا و حالات کے نئے رشتے دریافت کیے۔ انہی عناصر کے مزید پہلو فریدون توللّی اور مہدی آخوان ثالث (م – امید) نے اجاگر کیے۔

احمد شاملو پہلا شاعر تھا جس نے شاعری کو وزن سے بھی آزاد کیا۔ اُس آہنگ کو ترک کیا جس پر نیما اور ان کے ساتھوں نے جدید شاعری کی بنیاد رکھی تھی۔

اسماعیل شاھرودی کے ابتدائی مجموعے کا دیباچہ اگرچہ نیما نے لکھا لیکن وہ اپنے راستے کی تلاش میں تھا۔ اسے سرریلسٹ انداز زیادہ پسند آیا۔ سہراب سپہری جو مصور بھی ہے، ہندو اور بدھ فلسفے سے متاثر ہوا۔ اس کے مسائل فلسفیانہ زیادہ ہیں۔

نادر نادر پور نے پھر سے قافیوں کو اختیار کرنا شروع کیا اور قدیم شاعری سے بھی استفادہ کیا لیکن ذاتی آہنگ اور مشاہدات کو ترجیح دی۔

منو چہر آتشی جو انتہائی طاقتور شاعر ہے، فرانسیسی شاعری سے متاثر ہوا لیکن اجتماعی تاریخی تمدنی معنی تخلیق کرتا ہے۔

یداللہ رویائی نے سمندر کو موضوع بنایا اور پوری زندگی کی ہمہ رنگ علامت کے طور پر استعمال کیا۔ ایسا لگتا ہے جیسے وہ سینٹ جان پرس (Saint-John Perse) کی See Marks کے حصار میں ہے۔ لیکن سی مارکس کیا، پرس کی تمام ہی نظمیں ہیبت طاری کر دینے والی تخلیقی قوت رکھتی ہیں۔ اردو میں انیس ناگی نے ان کے انداز میں کچھ کوشش کی تھی۔

فروغ فرخ زاد فارسی کی وہ جدید شاعرہ ہیں جنھیں اردو والے نسبتًا زیادہ جانتے ہیں۔ اس شناسائی میں ان کی شاعری کے ساتھ ساتھ ان کی زندگی کے ڈرامائی حالات کا بھی بڑا حصہ ہے۔ لیکن ان کی اہم بات ان کا منفرد نسائی لہجہ اورو رسائی ہے اگرچہ اس میں اردو نسائیت کی یک سطحیت، پروپیگنڈے کے بالا دستی اور لجلجے پن کی جگہ زندگی سے زندہ تعلق کی شعریت ہے۔

جب راشد ان نظموں کے ترجمے کر رہے تھے تو محمود کیانوش کا شمار بڑے شاعروں میں نہیں ہوتا تھا۔ اس لیے ان کے بارے میں راشد کا لہجہ قدرے سرپرستانہ ہے۔ کیانوش وجودی فکر سے متاثر ہے۔

اس مجموعے میں محمد زہری، ہوشنگ ابتھاج، رضا براھنی، محمد حقوقی، اسماعیل خوئی، محمد رضا شفیعی کدکنی، محمد علی سپائلو اور احمد رضا احمدی کی شاعری بھی ہے اور تعارف بھی۔ میں نے جو باتیں آپ کو بتائی ہیں ان میں سے چند ایک کے سوا باقی سب زیادہ تفصیل سے تعارف میں موجود ہیں۔

یہ انتخاب احمد رضا احمدی پرختم ہوتا ہے اور اس دور کا ایک اچھا تعارف کرادیتا ہے جسے فارسی میں جدید دور کا نام دیا جاتا ہے۔ لیکن احمد احمدی سے ہی ایک نیا دور شروع ہوتا ہے جو جاری ہے اور ’موج نو‘ کہلاتا ہے۔

ایک بار پھر احمد احمدی کو اسی سلوک سے گزرنا پڑا جس سے نیما یوسیج کو گزرنا پڑا تھا لیکن اس بار معترضین میں ’جدید‘ نہ صرف شامل تھے بلکہ پیش پیش بھی تھے۔

اس انتخاب کو پڑھتے ہوئے دو باتیں ضرور ذہن میں رکھنی چاہیں، ایک تو یہ کہ یہ انتخاب ن م راشد کا کیا ہوا ہے جو خود بھی ایک خاص طرز کے حامی اور بانی تھے۔ پھر جب ان نظموں کا انتخاب اور ترجمہ کیا گیا تھا اسے گزرے ہوئے چالیس سال ہونے کو آ رہے ہیں۔

جب راشد آخری بار کراچی آئے تھے تو ان کی ملاقات یہاں نثری شاعری کرنے والوں سے بھی ہوئی تھی جو ان کے لیے زیادہ خوش کن نہیں تھی۔ انھیں فارسی میں ’موج نو‘ کا علم تو تھا ہی یہ نہیں پتا تھا کہ اردو میں بھی نئی لہر آ چکی ہے۔

اردو میں نظم لکھنے والوں کے لیے اس مجموعے میں بہت کچھ ہے۔ اگرچہ یہ مجموعہ پہلی بار شائع نہیں ہو رہا۔ اس کی ابتدا ’نیا دور‘ میں 1969 میں اِن تراجم کی پہلی کھیپ کی اشاعت سے ہوئی اور 1987 میں پہلی بار ان تراجم کو مجلس ترقیِ ادب نے کتابی شکل میں شائع کیا۔

ان تراجم کی نئی اشاعت شاعری کے لیے خوش آئند ہے لیکن اسے ہم عصر فارسی شاعری کا نمائندہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ پھر بھی یہ اردو کے نئے ہم عصر شاعروں کے لیے ایک ایسی کتاب ہے جسے وہ کئی کئی بار پڑھ سکتے۔

یہ کتاب انتہائی عمدہ ہے۔ دیکھنے میں بھی، لمس میں بھی اور پڑھنے میں بھی۔ قیمت کچھ زیادہ کہی جا سکتی ہے۔

زمین سے جڑا ہوا

نام کتاب: کانی نکاح (ناولٹ اور افسانے)

مصنف: خالد طور

صفحات: 210

قیمت: 495 روپے

ناشر: اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان۔ پی او بکس 8214، کراچی۔ 74900

کئی برسوں پر محیط ایک طویل وقفے کے بعد اجمل کمال سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے پوچھا: کیا کوئی نیا لکھنے والا دریافت ہوا؟

ان کا جواب تھا: ہاں دو، ایک نیا ایک پرانا۔

اپنی بات سے پیدا ہونے والی حیرانی کو انھوں نے جلد ہی دو نام لے کر ختم کر دیا۔ خالد طور اور ناطق۔

خالد طور کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ان کے اور ان کے ناول ’کانی نکاح‘ کے بارے میں انھیں قاضی جاوید نے بتایا۔ اور پھر کانی نکاح کا اپنا نسخہ بھی انھیں دے دیا۔ اس کے علاوہ قاضی جاوید نے ان کے ایک افسانے کا بھی ذکر کیا۔ یہ افسانہ ’سائیں موسم‘ کے نام سے سہہ ماہی فنون لاہور میں شائع ہوا تھا، جس کی نقل انھوں نے کراچی کی بیدل لائبریری سے حاصل کو اور دونوں چیزوں کو ایک ساتھ ’آج‘ کے 2009 میں شائع ہونے والے شمارہ نمبر 63 میں شائع کر دیا۔

تب تک وہ خالد طور کو تلاش نہیں کر سکے تھے اس لیے انھوں نے کانی نکاح اور سائیں موسم کے ساتھ جو نوٹ لکھا اس میں کہا: ’مصنف کی سوانحی تفصیلات معلوم نہیں ہو سکیں‘۔

اسی نوٹ کے مطابق کانی نکاح پہلی بار 1991 میں شائع ہوا۔ جب کے اوکسفرڈ نے جو کتاب شائع کی ہے اس میں کانی نکاح کی پہلی اشاعت کا سال 1992 لکھا ہوا ہے۔

اجمل کمال کی تحقیق کے مطابق ’سائیں موسم‘ خالد طور کا شائع ہونے والا پہلا افسانہ تھا اور 1966 میں شائع ہوا تھا۔

کانی نکاح اور سائیں موسم دونوں ہی جب شائع ہوئے تو کسی کی توجہ حاصل نہ کر سکے۔ اجمل کمال کا یہ کہنا بھی درست ہے ’ان دونوں تحریروں کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا‘۔

مجھے اجمل کمال کے ان الفاظ سہ بھی اتفاق ہے: ’یہ (کانی نکاح اور سائیں موسم) نہ صرف اپنے موضوع بلکہ اسلوب کے اعتبار سے بھی قدر شناسی کے مستحق ہیں۔ خاص طور پر ناول کانی نکاح میں نفسِ مضمون اور اسلوب کی یکجائی اتنی کامیاب ہے کہ اسے اردو فکشن کے موجودہ تناظر میں غیر معمولی کہا جا سکتا ہے۔ اس کامیابی سے اس بات کی ایک بار پھر تصدیق ہوتی ہے کہ انسانی معاشرت سے بڑھ کر ہوش ربا اور کوئی طلسم نہیں اور کسی با معنی فکشن کے لیے لازم ہے کہ وہ اس زمین پر قائم انسانی معاشرت کی بے شمار شعوری اور غیر شعوری تہوں کو مشاہدے اور بصیرت کو پوری توانائی کے ساتھ دریافت اور بیان کرنے کوشش کرے‘۔

کانی، پنجابی میں سرکنڈے کو کہتے ہیں۔ ویسے ’کانا‘ بھی کہتے ہیں لیکن مصنف کے بقول ’اٹک، چکوال، میانوالی، خوشاب، اور سرگودھے میں بولی جانے والی زبانوں میں کانی سرکنڈے ہی کو کہتے ہیں۔

یہ ناول نکاح کے ایک ایسے طریقے کے بارے میں ہے جس کے ذریعے لڑکی کو کانی کی بیوی بنا دیا جاتا ہے۔ کیوں اور کیسے اس کی تفصیل کا یہاں بیان کتاب کا لطف خراب کر سکتی ہے۔

خالد طور نے اس بارے میں ایک نوٹ بھی لکھا ہے جو کتاب میں شامل ہے۔ اس کی تفصیل بھی خاصی اہم اور دلچسپ ہے۔

خالد طور 1943 میں ہندوستانی پنجاب کے فیروز پور میں پیدا ہوئے۔ وہ تحریری اور برقی ذرائع ابلاع سے وابستہ رہے ہیں۔ انھوں نے بائیس برس کی عمر سے لکھنا شروع کیا اور اب لاہور میں رہتے ہیں۔

اس کتاب میں کانی نکاح اور سائیں موسم کے علاوہ ناولٹ مرچی اور تین افسانے ڈھانچہ، ہاں گھن اور طوبٰی شامل ہیں۔

کتاب کی عمدگی میں کوئی شک نہیں، قیمت زیادہ ہے۔

کتاب میں شامل ناولٹوں اور افسانوں کے پہلے کہیں اشاعت کا کوئی ذکر نہیں جو کم از کم علمی اور اخلاقی اصولوں کے خلاف ہے۔ جس کو توقع اوکسفرڈ جیسے ادارے سے نہیں کی جا سکتی۔ یوں بھی ان معلومات پر قارئین کا حق ہے۔

بجنوری کا نسخہِ نعمان

نام کتاب: محاسنِ کلامِ غالب

مصنف: عبدالرحمٰن بجنوری

تحقیق و تدوین: سید نعمان الحق

صفحات:146

قیمت: 295 روپے

ناشر: اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان۔ پی او بکس 8214، کراچی۔ 74900

غالب کے نقادوں میں عبدالرحمٰن بجنوری کا مضمون ’محاسنِ کلامِ غالب‘ اگر ان پر سب سے اچھا مضمون نہیں بھی ہے تو اب تک لکھے جانے والے چند ایک اہم ترین میں سے ضرور ہے۔

یہ کتاب ان کے اس مضمون کے متن کی تحقیق اور تصدیق شدہ اشاعت ہے۔ جس کی ڈاکٹر نعمان چھ امتیازی خصوصیات بتاتے ہیں:

ایک: نہ صرف تمام ناموں کو درست کر دیا گیا بلکہ ان کے درست تلفظ بھی فراہم کردیے گئے ہیں۔

دو: سارے نام اصل رسم الخط کے ساتھ کتاب کے آخر میں تعارفوں کے ساتھ دے دیے گئے ہیں۔

تین: تمام غیر اردو اصطلاحوں کا اردو میں ترجمہ کر دیا گیا ہے اس میں ایسی اصطلاحیں بھی ہیں جن کا ترجمہ غالبًا اس سے پہلے نہیں ہوا۔

چار: پارہ بندی کر کے مشکل مقامات پر اعراب لگا دیے گئے ہیں، عربی کے اشعار پر بھی اعراب فراہم کر دیے گئے ہیں۔

پانچ: تمام مواد کو عالمی معیار کے مطابق کر دیا گیا ہے۔

چھ: سطور کو صفحہ وار شمار کر کے ان کا مقام مقرر کر دیا گیا ہے، ہر سطر کا شناختی نمبر دے دیا گیا ہے۔

یہ سب کرنے کی پوری طفصیل بیان کی گئی ہے جس کا خلاصہ ڈاکٹر نعمان الحق کچھ یوں کرتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بجنوری کی یہ کتاب غالب فہمی بڑی اہمیت رکھتی ہے لیکن بدقسمتی سے اس کا اصل نسخہ دستیاب نہیں ہے اور جو بھی نسخے دستیاب ہیں وہ غلطیوں سے پاک نہیں۔ کیونکہ اس میں بجنوری صاحب نے مغربی ادب، فلسفے اور مصوری تک کی نہ صرف شخصیات کے حوالے دیے ہیں بلکہ اصلاحات بھی استعمال کی ہیں جو کئی زبانوں کی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے کوشش کی ہے کہ یہ نسخہ جسے اب ’نسخہِ نعمان‘ کہنا چاہیے غلطیوں سے بالکل پاک ہو۔

ڈاکٹر محمد رضا کاظمی نے جو ادارتی مشیر ہیں فلیپ پر عبدالحمٰن بجنوری کے بارے میں ایک عمدہ نوٹ لکھا ہے۔

یہ اہم مضمون اب پوری صحت کے ساتھ دستیاب ہے اور ہمیں ان تمام بے احتیاطیوں اور غیر ذمہ داریوں کے بارے میں بتاتا جو پڑھنے لکھنے کے کاموں کو کرنے والے لوگ روا رکھتے ہیں اور جنھیں دیکھا نہیں جاتا۔

یہ بات تو سوچنی ہی چاہیے کہ اس مضمون میں، جس کا پچاسیوں جگہ حوالے دیے جاتے رہے ہیں اور جو اعلیٰ جماعتوں کے نصاب کا بھی حصہ ہے، کسی کی نظر ان غلطیوں پر کیوں نہیں گئی؟ کیا اس سے یہ نتیجہ بھی نکالا جا سکتا ہے کہ اعلیٰ تدریسی اداروں میں بھی سارا کام یوں ہی چل رہا ہے۔

کتاب پیپر بیک ہے، کاغذ عمدہ ہے۔ قیمت بھی مناسب ہے۔

اسی بارے میں