کسوٹی کے قریش پور انتقال کر گئے

Image caption ان کا اصل نام ذوالقرنین قریشی تھا

پاکستان ٹیلی ویژن کی مشہور شخصیت، ناول نگار اور کالم نگار قریش پور طویل علالت کے بعد پیر کو کراچی میں انتقال کر گئے۔

قریش پور کوذرائع ابلاغ کے ماہر کے طور بھی جانا جاتا تھا۔

پاکستان ٹیلی ویژن کے مقبول پروگرام ’کسوٹی‘ کے ذریعے عبید اللہ بیگ اور افتخار عارف کے ساتھ ساتھ ملگ گیر شہرت حاصل کرنے والے قریش پور نے سنہ 1972 میں پی ٹی وی سے باقاعدہ وابستگی اختیار کی۔

وہ اپنی ذمہ داریوں کے اعتبار سے کنٹرولر پریزنٹیشن بنے اور اسی حیثیت میں سنہ 1992 میں سبک دوش ہوئے۔

ہمارے نامہ نگار انور سِن رائے کے مطابق کئی کتابوں کے مولف اور مصنف عقیل عباس جعفری، جنھوں نے ان کے ساتھ کئی پروگراموں میں کام بھی کیا، بتاتے ہیں کہ ان کا اصل نام ذوالقرنین قریشی تھا اور قریش پور ان کے مطابق قریشی کی بدلی ہوئی شکل ہے۔

تاہم عقیل عباس کو بھی ان کے پس منظر اور خاندان کے بارے میں زیادہ علم نہیں ہے۔ قریش پور کے اہلِ خانہ بات سے کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہو سکی۔

Image caption دائیں سے بائیں: عقیل عباس جعفری، قریش پور، ضیا محی الدین، عبید اللہ بیگ اور ایوب خاور

قریش پور نے پی ٹی وی سے ’کسوٹی‘ کے علاوہ ’لفظ کی تلاش‘، ’شیشے کے گھر‘، ’ذوقِ آگہی‘، ’یو این کوئیز‘ کے ناموں سے پروگرام کیے اور ضیا محی الدین کے پروگرام ’جو جانے وہ جیتے‘ میں بطور ماہر شریک رہے۔

سنہ 1970 کی دہائی میں پی ٹی وی سے شروع ہونے والا پروگرام ’کسوٹی‘ معلومات کا پروگرام تھا جس میں قریش پور اور عبید اللہ بیگ ایک ایسی جوڑی کے طور پر سامنے آئے جسے ’ہر چیز کے بارے میں ہر بات کا علم‘ تھا۔ یہی اس پروگرام کی مقبولیت کا راز تھا۔

بعد میں اس پروگرام میں افتخار عارف اور پھر غازی صلاح الدین شریک ہوئے۔

واضح رہے کہ عبید اللہ بیگ گذشتہ برس جون میں کینسر کے باعث انتقال کر گئے تھے۔ غالبًا عبید اللہ بیگ کی تدفین وہ آخری موقع تھا جہاں غم زدہ قریش پور کو آخری بار دیکھا گیا۔

اطلاعات کے مطابق قریش پور طویل عرصے سے علیل اور نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ خاندانی ذرائع کے مطابق قریش پور کی حالت گذشہ شب زیادہ خراب ہو گئی تھی۔

اسی بارے میں