پانچ شعری مجموعے یا پانچ اسلوب؟

عبدالرشید/ حبس کا موسم ٹھہر گیا ہے، اختر عثمان/ ستارہ ساز، خاقان غازی/ میں چیتر نہیں چکھیا، اختر سلیمی/ خواب داں اور جمیل الرحمٰن/ کارنیوال کے ساتھ شعری ذوق کا امتحان ہیں۔

حبس کا موسم ٹھہر گیا ہے

نام کتاب: حبس کا موسم ٹھہر گیا ہے

مصنف: عبدالرشید

صفحات: 176

قیمت: 300 روپے

ناشر: سانجھ پبلی کیشنیز۔ 2/46 مزنگ روڈ۔ لاہور

Web:www.sanjhpublication.com

عبدالرشید کا یہ بارہواں شعری مجموعہ ہے۔ انی کنت من الظالمین 1973 سے 2012 میں، حبس کے اس ٹھہرے ہوئے موسم تک انھوں نے بہت سفر کیا ہے۔ ان کی اچھائی یہ ہے کہ وہ دنیا بھر کی شاعری پڑھتے اور بہت پڑھتے، اگر آپ کو یقین نہیں آتا تو ان کی یہ اکتالیس نظمیں پڑھ لیں۔ وہ مضبوط ذہن کے مالک ہیں اور شعری وفور کی وارفتگی ان پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہو پاتی۔

ان کی شعری کائنات میں داخل ہونے کے لیے ان کے وسیع تر تصور شعر سے ہم آہنگی ناگزیر ہے، یہ ہم آہنگی نہیں تو یہ شاعری آپ کے لیے نہیں ہے۔ شاعر کے لیے خود پر اس یقین کو کیا شعر کی پہلی لازمی شرط نہیں کہا جا سکتا؟

لیکن اس قضیے کو ایک طرف رکھیے، پہلی بات تو یہ جاننا ہے کہ یہ شاعری آپ کے لیے ہے یا نہیں، تو اس کا پتا تب تک کیسے چلے گا جب تک آپ رشید کی شاعری کو اُس خلوص سے نہیں پڑھیں گے جو کسی اور کی نہیں خود اپنی تلاش کے لیے درکار ہوتا ہے۔ تو بسم اللہ کریں۔ کتاب عمدہ شائع ہوئی ہے قیمت بھی زیادہ نامناسب نہیں۔

ستارہ ساز

نام کتاب: ستارہ ساز

مصنف: اختر عثمان

صفحات: 128

قیمت: 500 روپے

ناشر: احباب پبلی کیشنز رابطہ: 5231096-0333

اختر عثمان کے اس سے قبل چار شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں اور زیر طبع کتابوں کی ایک لمبی فہرست ہے۔

لگتا ہے کہ ان کے شعر اور شخصیت نے مداحوں کا ایک پُرجوش حلقہ پیدا کرنے میں بھی کامیابی حاصل کی ہے۔ جنھیں اپنی آرا پر شدید اور عقیدت مندانہ اصرار ہے۔ ان میں ایسے بھی ہیں جنھیں ان میں پاؤنڈ، ایلیٹ، حافظ، غالب کا اجتماع بھی نظر آتا ہے، انھیں ان کی شاعری میں بیتھوون کی سمفنی سنائی دیتی ہے (میں کوشش کے باوجود خود کو نہ تو سمفنی کی موسیقیت سے مانوس کر سکا ہوں اور نہ فہم سے) مجھے اختر عثمان کی شاعری ایک با مہارت، با مطالعہ اور خوش حال و بے نیاز کی معنی پر اصرار کرتی شاعری لگی ہے جو منطقی ذہنوں کو زیادہ متاثر کر سکتی۔

اگر آپ اس نوع کی شاعری کی تلاش میں ہیں تو یہ اس کا ایک یقینی نیا ذائقہ ہے۔ کتاب کی قیمت زیادہ ہے لیکن عمدہ شائع ہوئی ہے۔

خواب داں

نام کتاب: خواب داں

مصنف: اختر رضا سلیمی

صفحات: 124

قیمت: 200 روپے

ناشر: سانجھ پبلی کیشنیز۔ 2/46 مزنگ روڈ۔ لاہور

Web:www.sanjhpublication.com

فہمیدہ ریاض: اختر رضا سلیمی کی شاعری میں فکر و احساس کا ایسا امتزاج ملتا ہے جو ہماری صدیوں کی روایت کا ورثہ ہے اور نئی شاعری میں بہت کم نظر آتا ہے۔

محمد اظہار الحق: سلیمی پیچیدہ سے پیچیدہ مضمون انتہائی سہولت سے شعر میں سمونے پر قدرت رکھتے ہیں۔

قاضی جاوید: سلیمی کی شاعری عالمی شعور اور تخیل کا پتا دیتی ہے۔ انھوں نے اپنی نظموں میں وہ سوال اٹھائے ہیں جو اردو شاعری میں پہلی بار پوچھے گئے ہیں۔

اس شعری مجموعے میں کافی صفحے وکلا کے لیے مخصوص کیے گئے ہیں۔ مندرجہ بالا آرا پسندیدہ اقتباسات کے خلاصے ہیں جو مجھے اثبات سے تہی ہونے کا تاثر دیتے ہیں اور ہم آہنگ محسوس نہیں ہوتے۔ سب سے مثبت بات ناصر عباس نیّر نے کی ہے کہ سلیمی کی نظم پر غزل کا سایہ نہیں ہے۔ میری نظر میں بھی یہ نظم کی پہلی شرط ہے جو پڑھنے، محسوس کرنے اور سراہنے میں بھی پہلی ہے۔

باقی آرا سے میں خود کو متفق نہیں کر پایا، آپ بھی پڑھیں، میری خواہش ہے کہ میں غلط نکلوں۔ مجھے کتاب بوجھل نہیں لگی۔ کتاب عمدہ شائع ہوئی ہے اور قیمت مناسب ہے۔

کارنیوال

نام کتاب: کارنیوال

مصنف: جمیل الرحمٰن

صفحات: 144

قیمت: 300 روپے

ناشر: ملٹی میڈیا افیئر۔ 21 ناند سٹریٹ، شام نگر، چوبرجی، لاہور 54505

جمیل الرحمٰن کے اس مجموعے میں شامل شاعری کا مقدمہ باصر سلطان کاظمی، اظہر غوری، ابرار احمد اور ڈاکٹر ضیا الحسن کے ہاتھ میں ہے۔

باصر کا کہنا ہے: اعلٰی نثر کے بارے میں بعض اوقات کہا جاتا ہے کہ یہ شاعری ہے۔ میں سمجھتا ہوں کے اعلٰی شاعری کا بھی ایک وصف یہ ہے کہ وہ نثر کے بے حد قریب آ جاتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جمیل کی نظموں میں غزل، ڈرامہ، کہانی، مثنوی اور رباعی کے امتیازی وصف شامل ہیں۔

اظہر غوری کے دلائل کی تلخیص میں میں اپنی نا اہلی کے باعث نہیں کر رہا۔ البتہ ابرار احمد کے رائے کا ایک حصہ ضرور آپ کو بتانا چاہتا ہوں: معاصر نثری نظم میں جمیل الرحمٰن کا امتیاز اُس کی نظموں کا منفرد لب و لہجہ ہے جو داستان اور اساطیر سے علائم کشید کرتے ہوئے اپنے عہد کو بیان کرتا چلا جاتا ہے۔ وہ عہد جو انتشار کا عہد ہے اور مانوس مناسبتوں سے رہائی حاصل کیے بغیر اپنے کامیاب تخلیقی اظہار سے انکار کرتا ہے۔

ڈاکٹر ضیا الحسن کا کہنا ہے کہ کارنیوال خالص شاعری پر مشتمل ہے۔ جمیل الرحمٰن کا شاعرانہ اسلوب نیا ہے، روایتی تصور سے مختلف ہے، نثری نظم کو یہی اسلوب درکار ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ مجموعہ پرکشش ثابت ہو گا اور زیر بحث رہے گا۔

اتنی آرا کے بعد تو اس مجموعے کو ضرور پڑھا جانا چاہیے۔ عمدہ کاغذ پر یہ مجموعہ جیسے شائع ہوا اس کے اعتبار سے قمیت مناسب ہے۔

میں چیتر نہیں چکھیا

نام کتاب: میں چیتر نہیں چکھیا

مصنف: خاقان حیدر غازی

صفحات: 172

قیمت: 300 روپے

ناشر: سانجھ پبلی کیشنیز۔ 2/46 مزنگ روڈ۔ لاہور

Web:www.sanjhpublication.com

اگرچہ خاقان حیدر غازی اُن نظموں کی زبان کے بارے میں پارکھوں سے معذرت خواہ ہیں ’جینہاں دی لفظالی تھوڑی سوکھی تے عام فہم اے‘ لیکن نظمیں پڑھتے ہوے کہیں بھی دو طرح کی زبان اور اسلوب کا احساس نہیں ہوتا۔

تمام نظموں میں ’منم محو خیال او، نمی دانم کجا رفتم‘ کی کیفیت کسی اور بات کا خیال ہی نہیں آنے دیتی۔ شاعر اور شاعری اپنی دنیا میں یوں رچے دکھائی دیتے ہیں جیسے مہندی کچھ ہاتھوں پر رچ کر محبت کے معنی دیتی ہے۔ گلزار کی شاعرانہ مقبولیت، شگفتگی اور نیا پن اسی ثقافتی خمیر کی آمیزش سے اٹھا ہوا لگتا ہے۔

غازی کی شاعری نہ تو کسی علمیت اور زعم سے بوجھل ہے اور نہ ہی بوجھل کرتی ہے۔ بہت آہستگی سے ایسے دل میں اترتی ہے جیسے کوئی راز اور کبھی فرحت اور کبھی کچھ دیر کو کسی فراموش یاد کا دُکھ بن جاتی ہے۔ شاعری سے شاعری کی اولین توقع کرنے والوں کو یہ کتاب تو ضرور پڑھنی چاہیے۔ کتاب اچھی شائع ہوئی ہے قیمت کچھ تھوڑی سی زیادہ ہے۔

اسی بارے میں