’جابز‘ امریکی باکس آفس پر ناکام

آئی فون اور آئی پیڈ سے دنیا میں دھوم مچانے والے امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کے شریک بانی سٹیو جابز کی زندگی پر بنی فلم ’جابز‘ باکس آفس پر ناکام رہی ہے۔

اس فلم کا کئی ماہ سے انتظار کیا جا رہا تھا لیکن گزشتہ ہفتے جب یہ ریلیز ہوئی تو فلم ناقد اور سٹیو جابز کے چاہنے والے دونوں ہی مایوس ہوئے۔

امریکہ میں فلم صرف 67 لاکھ ڈالر کا کاروبار ہی کر پائی جو اوسط سے کافی کم ہے اور ساتویں نمبر پر رہی۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ناقدین کے خیال میں اس فلم میں ایپل کمپنی پر زیادہ اور سٹیو جابز کی زندگی پر کم روشنی ڈالی گئی اور بہتر ہوتا اگر فلم کا نام ’جابز‘ کی بجائے ’ایپل کمپیوٹر کی تاریخ‘ ہوتا۔

اس فلم میں سٹیو جابز کا کردار ایشٹن كوچر نے ادا کیا اور کچھ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ وہ اس سے انصاف نہیں کر پائے وہیں کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے لکھا ہے کہ كوچر نے سٹیو جابز کی جوانی کے دنوں کو اچھی طرح نبھایا۔

امریکی اخبار ’وال سٹریٹ جرنل‘ نے لکھا ہے کہ سٹیو جابز جس طرح کی باریکیوں میں جانے کے لیے مشہور تھے، وہ باريكياں اس فلم میں کہیں نہیں نظر آئیں۔

سٹیو جابز کی زیرِ قیادت ایپل نے آئی فون اور آئی پوڈ اور آئی ٹیونز متعارف کروائے جس نے اس کمپنی کی قسمت بدل دی۔

دراصل یہ فلم اس دور کی شروعات سے پہلے ہی ختم ہو جاتی ہے جب آئی ٹيونز اور آئی فون کے ذریعہ سٹیو جابز نے ایپل کو دنیا کی سب سے مالدار کمپنیوں کی فہرست میں سب سے اوپر لا کھڑا کیا۔

’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مبصرین نے فلم کو دو اسٹار دیے ہیں اور تھوڑی بہت تعریف اگر کسی نے کی ہے تو وہ سی این این کی ویب سائٹ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ فلم نے سٹیو کی زندگی کے کئی پہلوؤں کو نظر انداز تو کیا ہے لیکن مجموعی طور پر فلم بری نہیں ہے۔

ایک کروڑ بیس لاکھ ڈالر کی لاگت سے بنی اس فلم کی زبردست تشہیر کی گئی تھی اور کوشش کی گئی کہ ٹیکنالوجی کے شائقین اس فلم کے لیے ایسے ہی قطار لگائیں جیسے ایپل کے نئے ’گیجٹس‘ کے لیے لگتی ہیں۔

اسی بارے میں