معروف ناول نگار ایلمور لینرڈ فوت ہو گئے

Image caption ایلمور لینرڈ کی 1996 میں لی گئی تصویر

مشہور امریکی ناول نگار فالج کے حملے کے بعد فوت ہو گئے ہیں۔ ان کی عمر 87 برس تھی۔ وہ ’گیٹ شورٹلی،‘ ’میکسیمم باب‘ اور ’آؤٹ آف سائٹ‘ جیسے جرائم پر مبنی مقبول ناولوں کے خالق تھے۔

ان کی آفیشل ویب سائٹ پر کہا گیا ہے کہ منگل کو ان کے خاندان کے افراد ان کے ہمراہ تھے۔

لینرڈ نے 45 ناول لکھے اور وہ اپنا 46واں ناول تحریر کر رہے تھے۔

مصنفہ پیٹریشیا کورنویل نے انھیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ جرائم اور تفریح پر مبنی ادب کا بڑا نام تھے‘ اور ان کی شدید کمی محسوس کی جائے گی۔

لینرڈ پر اس سال کے اوائل میں امریکی شہر ڈیٹروئٹ میں فالج کا حملہ ہوا تھا۔ وہ شہر کے نواح میں بلوم فیلڈ گاؤں میں اپنے گھر میں فوت ہوئے۔

برطانوی ادیب ایئن رینکن نے لینرڈ کو ’عظیم ادیب‘ قرار دیا۔ انھوں نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’انھوں نے ایک بار مجھے کچھ مشورے دیے تھے جو میں نے نظرانداز کر دیے۔‘

لینرڈ 1925 میں امریکی شہر نیواورلینز میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے ابتدا میں ویسٹرین کہانیاں لکھیں لیکن 1960 کی دہائی میں جرائم پر مبنی فکشن کی طرف مائل ہو گئے۔

ان کا اندازِ تحریر سادہ اور جامع تھا اور وہ مکالمے کا استعمال کم کم کیا کرتے تھے۔

ان کی تحریروں پر مبنی کئی فلمیں بنائی گئیں، جن میں ’ہومبرے،‘’ 3.10 ٹو یوما،‘ ’گیٹ شورٹلی‘ اور ’رم پنچ‘ شامل ہیں۔ موخرالذکر ناول کو مشہور فلم ساز کونٹن ٹورنٹینو نے ’جیکی براؤن‘ کے نام سے فلمایا تھا۔

اس کے علاوہ ان کے ایک کردار پر ٹیلی ویژن سیریز ’جسٹیفائیڈ‘ بنائی گئی۔

تاہم لینرڈ اکثر اپنی تحریروں پر بننے والی فلموں سے شاکی رہتے تھے۔ ان کے ناول ’دا بگ باؤنس‘ پر دو فلمیں بنائی گئیں تو انھوں نے کہا:

’میں اپنی کتابوں پر اچھی فلمیں بنتی ہوئی دیکھنا چاہتا ہوں، لیکن کسی وجہ سے وہ بہت بیکار بنتی ہیں۔ پہلے پہل مجھے اس سے بہت کوفت ہوتی تھی لیکن اب میں نے اس بات سے سمجھوتا کر لیا ہے۔‘

انھیں متعدد اعزازات سے نوازا گیا جن میں 2008 میں ایف سکاٹ فٹزجیرلڈ ایوارڈ اور 2009 میں پین یو ایس اے ایوارڈ شامل ہیں۔

اسی بارے میں