آئرش شاعر شیمس ہینے انتقال کر گئے

Image caption شیمس ہینے کو ڈبلیو بی ییٹس کے بعد سے آئرلینڈ کا اہم ترین شاعر سمجھا جاتا ہے

آئرلینڈ کے نوبیل انعام یافتہ شاعر شیمس ہینے مختصر علالت کے بعد انتقال کرگئے ہیں۔ ان کی عمر 74 برس تھی۔

شیمس ہینے شمالی آئرلینڈ میں پیدا ہوئے تھے لیکن بعد میں انہوں نے جمہوریہ آئرلینڈ میں سکونت اختیار کرلی تھی۔ وہ درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ تھے اور بعد میں شاعری میں نام کمایا۔ انہیں 1995 میں نوبیل انعام سے نوازا گیا تھا۔

بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ شمالی آئرلینڈ میں سیاسی مسائل نے ہینے کو شہرت پانے میں مدد دی کیونکہ وہ رومن کیتھلک اور آئرش قوم پرست تھے اور ہمیشہ تشدد کی مذمت کرتے تھے۔

ان کے خاندان نے جمعے کو ایک مختصر بیان میں لکھا: ’شیمس ہینے کا انتقال ہو گیا ہے۔ نوبیل انعام یافتہ شاعر آج صبح ڈبلن کے ایک ہسپتال میں مختصر علالت کے بعد چل بسے۔ ان کا خاندان اس موقعے پر خلوت کی درخواست کرتا ہے۔‘

ہینے کے ناشر فیبر نے کہا: ’ہم دنیا کے عظیم ترین مصنفین میں سے ایک کے انتقال پر اپنا بے پناہ غم و اندوہ ظاہر کرنے سے قاصر ہیں۔ ادبی ثقافت پر ان کے اثرات کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ ان کے ناشر کی حیثیت سے ہمیں فخر ہے کہ ہم گذشتہ 50 برسوں سے ان کی کتابیں چھاپ رہے ہیں۔‘

ہینے اپریل 1929 کو شمالی آئرلینڈ کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ نو بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔

انھوں نے ابتدائی تعلیم ایک کیتھولک سکول میں حاصل کی اور بعد میں بیلفاسٹ کی کوینز یونیورسٹی چلے گئے۔ اس کے بعد وہ ڈبلن منتقل ہو گئے۔

ہینے کی پہلی کتاب ’ڈیتھ آف اے نیچرلسٹ‘ 1966 میں شائع ہوئی تھی۔ ابتدا میں ان کی شاعری ان کے دیہی پس منظر سے عبارت تھی، لیکن بعد میں جب آئرلینڈ کے مسائل بڑھتے گئے تو ان کی توجہ سیاسی مسائل پر مرکوز ہو گئی۔

انھوں نے اپنے کلام کے کل 12 مجموعے شائع کیے اور ان کا آخری مجموعہ ’ہیومن چین‘ 2010 میں سامنے آیا۔

انھوں نے اپنی ادبی زندگی کے دوران متعدد انعامات اور اعزازات جیتے، جن میں نوبیل انعام بھی شامل ہے۔

وہ 1989 اور 1994 کے دوران آکسفرڈ یونیورسٹی میں شاعری کے پروفیسر بھی رہے۔

اسی بارے میں