’احساس کشمیر کنسرٹ‘ سے قبل 4 افراد ہلاک

Image caption مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ زوبن مہتا شو کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے خلاف آپریشن کے دوران عام شہریوں پر فائرنگ کی گئی

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں تنازعے کا شکار بنے عالمی سطح کے موسیقی کنسرٹ سے تھوڑی دیر قبل بھارتی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ چار مسلح حملہ آوروں کو ایک جوابی کارروائی میں ہلاک کیا گیا۔

تاہم مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ زوبن مہتا شو کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے خلاف آپریشن کے دوران عام شہریوں پر فائرنگ کی گئی۔

یہ واقعہ جنوبی قصبہ شوپیان کے گگرن علاقہ میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے کیمپ کے قریب رونما ہوا۔

سی آر پی ایف کے آئی جی نالین پربھات نے ہمارے نامہ نگار ریاض مسرور کو بتایا ’یہ لوگ حملہ کرنے کے لیے جب کیمپ کے صدر دروازے کی طرف بڑھے تو ہمارے جوانوں نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔ انہوں نے گولیاں چلائیں اور بم پھینکے۔ تاہم جوابی کارروائی میں تینوں مارے گئَے۔‘

فائرنگ کے اس واقعے میں مزید دو شہری زخمی ہوگئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابھی تک مارے گئے تین نوجوانوں کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔

واضح رہے وادی بھر میں سنیچر کے روز زوبن مہتا کے کنسرٹ کے خلاف ہڑتال کی گئی اور سرینگر میں ایک اور کنسرٹ کا اہتمام کیا گیا۔ زوبن مہتا عالمی شہرت یافتہ فنکار ہیں جو مغربی کلاسیکی موسیقی کے استاد مانے جاتے ہیں۔

ان کے کنسرٹ کو یہاں کی علیحدگی پسند جماعتوں، انسانی حقوق کے اداروں اور طلبا نے کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی کے تعبیر کیا ہے۔

اس کنسرٹ کے لیے سخت ترین سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ کنسرٹ میں ایک ہزار سے زائد مہمان مدعو کئے گئے ہیں جن میں اکثریت بھارتی فلم ستاروں اور صنعت کاروں کی ہے۔ تاہم مقامی طلبا، دانشوروں اور انسانی حقوق کے اداروں نے زوبن مہتا کے ’احساس کشمیر‘ کے مقابلے میں ’حقیقت کشمیر‘ عنوان سے ایک کنسرٹ کا اہتمام کی۔

اس میں طلبا، مصوروں، مزاح نگاروں، فنکاروں اور اداکاروں نے شرکت کی۔ اس کنسرٹ کے مہتمم خرم پرویز نے بتایا کہ انہیں کنسرٹ منعقد کرنے کی اجازت تو دی گئی لیکن اس میں شمولیت کے لیے لوگوں کو پولیس نے روک لیا۔

اسی بارے میں