وڈی ایلن کے لیے اعزازی گولڈن گلوب

Image caption ووڈی ایلن کو چار بار آسکر انعامات سے نوازا جا چکا ہے۔

ہالی وڈ کے معروف سکرپٹ رائٹر اور ہدایتکار وڈی ایلن کو سینما کے فروغ میں ان کے کردار کے لیے آئندہ سال گولڈن گلوب میں سیسل بی ڈی میل ایوارڈ دیا جائے گا۔

ان کے لیے اس انعام کے اعلان کے بعد ایلن والٹ ڈزنی، الفریڈ ہچکاک، مارٹن سکورسیز، آرڈری ہیپ برن اور الزبتھ ٹیلر جیسی شخصیتوں کی صف میں شامل ہو گئے ہیں۔

اس سے قبل گزشتہ سال یہ ایوارڈ جوڈی فوسٹر کو دیا گیا تھا۔

رومانی مزاحیہ فلموں کے لیے معروف 77 سالہ ایلن کو ان کی فلم ’اینی ہال‘ کے لیے بہترین ڈائریکٹر اور سکرین رائٹر کے آسکر انعامات سے نوازا گیا تھا۔

اس ایوارڈ کے منتظم تھیو کنگما نے کہا کہ ’ان سے زیادہ اس انعام کا کوئی دوسرا مستحق نہیں۔‘

ایلن عام طور پر ہالی وڈ کی تقریبات سے اجتناب برتتے رہے ہیں اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا وہ جنوری میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں انعام لینے کے لیے شرکت کریں گے یا نہیں۔

گذشتہ سال منعقدہ گولڈن گلوب کی تقریب میں بھی وہ نظر نہیں آئے تھے جہاں انھیں ان کی فلم ’مڈنائٹ ان پیرس‘ کے اوریجنل سکرین پلے کے لیے انعام دیا گیا تھا اور اداکارہ نکول کڈمین نے ان کی جانب سے یہ ایوارڈ قبول کیا تھا۔

Image caption ووڈی ایلن کے بارے میں یہ بات کہی جاتی ہے کہ وہ فلم تقریبات سے زیادہ اپنے کام میں دلچسپی لیتے ہیں

اس کے برعکس نیویارک سے تعلق رکھنے والے فلم ساز ایلن اپنی فلموں پر توجہ دینا پسند کرتے ہیں ایک سال میں ایک فلم کی اوسط سے کام کرتے ہیں۔

ان کی فلم ’بلو جیسمین‘ ہدایت کار کے طور پر ان کی 49 ویں فلم ہے اور اس میں اداکارہ کیٹ بلانچٹ ایک ایسی خاتون کا کردار نبھا رہی ہیں جن کی پرتعیش زندگی مالی بحران کے نتیجے میں اچانک تعطل کا شکار ہو جاتی ہے۔

ایلن سنہ 1935 میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے ابتدا میں باب ہوپ اور سڈ سیزر جیسے فلم سازوں کے لیے مزاحیہ مکالمے لکھے۔ ان کے یک سطری جملے انتہائی پسندیدہ قرار دیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ’بغیر محبت کے سیکس بے معنی تجربہ ہے، لیکن جہاں تک بے معنی تجربوں کا سوال ہے تو یہ بہت اچھا ہے۔‘

’دا ٹو نائٹ شو‘ کے سکرپٹ اور نیویارکر میں کالم لکھنے کے بعد انھوں نے سرد جنگ کے زمانے پر منبی مزاحیہ فلم ’دونٹ ڈرنک دا واٹر‘ کے لیے سکرپٹ رائٹر کے طور پر 1966 میں آغاز کیا۔

بطور ہدایتکار اپنی پہلی فلم ’وٹز نیو پُسی کیٹ‘ کے بعد وہ اس بات سے متفق ہو گئے کہ انہیں فلموں کی خود ہی ہدایات دینی چاہییں۔

انھوں نے اپنی دو کامیاب ترین مزاحیہ فلموں ’اینی ہال اور ’مین ہیٹن‘ میں رومانس پر اپنے اعصابی، نفسیاتی اور طنزیہ تجربات کے مرکب کو بام عروج پر پہنچایا۔

اپنے پورے کیریئر میں انہیں 23 بار آسکر انعامات کے لیے نامزد کیا گیا جن میں سے چار بار انہیں انعام سے نوازا گيا۔ ان میں ’دا پرپل روز آف کائرو، ’ہانا اینڈ ہر سسٹرز، ’کرائمز ایند مسڈمینرز اور ’بلٹس اور ’براڈوے‘ شامل ہیں۔

اسی بارے میں