پرنس کلاؤز ایوارڈ پانے والی پہلی ویژوئل آرٹسٹ

Image caption پاکستان میں نائزہ خان سے پہلے یہ ایوارڈ ممتاز ماہرِ تعمیرات اور ٹاؤن پلانر عارف حسن اور ’اجوکا تھیٹر‘ کی مدیحہ گوہر کو مل چکا ہے

پاکستان کی سینیئرمصورہ اور ویژوئل آرٹسٹ نائزہ خان کو سنہ 2013 کا پرنس کلاؤز ایوارڈ دیا گیا ہے۔

ہالینڈ کا یہ ایوارڈ حاصل کرنے والی وہ پہلی پاکستانی ویژوئل آرٹسٹ ہیں۔

یہ ایوارڈ ہر سال ایشیائی اور افریقی ممالک اور جنوبی افریقہ کے گیارہ ایسے افراد اور تنظیموں کو دیا جاتا ہے جن کے کام اور سرگرمیاں ان کے ممالک میں ترقیاتی کاموں کے فروغ میں مدد دیتی ہیں اور جن کے باعث نوجوانوں کو مثبت کام کرنے کی تحریک ملتی ہے۔

پاکستان میں نائزہ خان سے پہلے یہ ایوارڈ ممتاز ماہرِ تعمیرات اور ٹاؤن پلانر عارف حسن اور ’اجوکا تھیٹر‘ کی مدیحہ گوہر کو مل چکا ہے۔

نائزہ خان سے پوچھا کہ وہ پینٹنگ، مجسمہ سازی، انسٹالیشن، فوٹوگرافی اور ویڈیوز بھی کرتی ہیں تو یہ فیصلہ کیسے ہوتا ہے کہ کس بات کے لیے کون سا ذریعہ مناسب رہے گا؟ انہوں نے کہا یہ مختلف پروسسز اور میڈیم ہیں وہ ان کے لیے اتنے مختلف نہیں ہیں کیوں کہ جب وہ ایک ویڈیو بناتی ہیں یا اس کے بارے میں سوچتی ہیں تو کئی چیزیں ہوتی ہیں جن کا اظہار صرف ویڈیو میں کیا جا سکتا ہے اور کئی ایسے پہلو ہوتے ہیں جنھیں صرف آئل پینٹنگ میں ہی بیان کیا جا سکتا ہے۔

’تو یہ کچھ یوں ہے کہ میں ایک خیال یا آئیڈیے کو مختلف جہتوں سے دیکھنے کی کوشش کرتی ہوں لیکن جو کام نکلتا ہے وہ ایک ہی تھیم میں اور ایک ہی ڈائریکشن یا جہت میں ایوالو یا مرتب ہوتا ہے‘۔

ایک نیا کینوس یعنی دیواروں کو استعمال کرنے کا خیال کیوں کر آیا؟ اس کے جواب میں انہوں نے کہا ’یہ پروجیکٹ میرے سٹوڈیو میں شروع ہوا۔ میں مہندی کے ساتھ تجربہ کر رہی تھی۔ بطور میڈیم، مہندی کی کیا خاصیت ہے، ہم اسے ہاتھوں پر لگاتے ہیں، یہ آرائش کی ایک فطری چیز ہے، اس سے جسم کو ٹھنڈک ملتی ہے پھر یہ شادی کے سمبلزم کا بھی حصہ ہے۔

’تو یہ کام جب میں نے پہلی بار اپنے سٹوڈیو کی دیوار پر بنایا تو مجھے خیال آیا کہ یہ گیلری سپیس میں صحیح نہیں لگے گا۔ اسے میں کسی دیوار پر بناؤں تا کہ لوگ بھی اس کا تجربہ کر سکیں، ایک فنکار کے طور بھی میں شہر کی دیواروں کو ری کلیم کرنا چاہتی تھی۔ پھر یہ بھی دیکھنا چاہ رہی تھی کہ لائف سائز باڈی (انسانی قامت کے پورے جسم) دیکھ کر لوگ کیسے ری ایکٹ کریں گے، کس ردِعمل کا اظہار کریں گے۔‘

Image caption یہ ایوارڈ ہر سال، ایشیائی، افریقی ممالک اور جنوبی افریقہ کے گیارہ ایسے افراد اور تنظیموں کو دیا جاتا ہے جن کے کام اور سرگرمیاں ان کے ممالک میں ترقیاتی کاموں کے فروغ میں مدد دیتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس پروجیکٹ کے بارے میں بہت سے سوال تھے، جینڈر ایشوز (صنفی معاملات) بھی تھے لیکن میرا خیال ہے کلاس یا طبقاتی سوال بھی اس میں شامل تھے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ جب وہ یہ کام کر رہی تھیں تو کوئی ایسا یادگار یا ناخوشگوار تجربہ بھی ہوا، کیوں کہ مختلف اور انوکھی بات تو ہے کہ سرِعام ایک عورت کھڑی پینٹ کر رہی ہے۔

نائزہ کا کہنا تھا کہ پہلے دن تو ایک صاحب آئے، کچھ دیر کھڑے دیکھتے رہے اور پھر پوچھنے لگے کہ کیا میرا تعلق پامسٹری سے ہے کیونکہ تصویر ہاتھ کے پیٹرن سے بنی ہوئی تھی۔ پھر ایک دن کچھ نوجوان ادھر سے گزر رہے تھے تو رک کر دیکھنے لگے۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا انھیں ڈر نہیں لگا، اور کتنے لوگ ہو تے تھے یا وہ کوئی گارڈ وغیرہ بھی ساتھ رکھتی تھیں، تو انہوں نے بتایا کہ اس روز ان کے ساتھ ایک اور آرٹسٹ بھی ان کی مدد کر رہی تھیں لیکن انھیں کوئی ڈر نہیں تھا۔

جینڈر ایشوز کے بارے میں نائزہ نے کہا ’عورت کی داخلیت کو درکار علاقے کی بات کرنا کس حد تک ٹیبو ہے یا کس حد تک اس کی اجازت ہے؟ یہ ہے وہ سوال جو میں اپنے کام میں پوچھنا چاہ رہی ہوں اور میں سمجھتی ہوں کہ یہ انتہائی نجی سوال ہے، جو انفرادی بھی ہے اور اجتماعی بھی۔اب تو ہمارے معاشرے میں عورت کے حوالے سے بہت تبدیلیاں آ گئی ہیں، کچھ ترقی بھی ہوئی ہے اور کچھ منفی باتیں بھی ہوئی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں زیادہ تر پیش رفت ہوئی ہے۔ ایک حد تک، شہروں میں تو لبریشن بھی آئی ہے۔ خواتین کے کام میں اور پبلک سپیسز میں۔ لیکن میں محسوس کرتی ہوں کہ یہ جو ان ویژوئل، دکھائی نہ دیتی لکیر ہے جسے ہم دھکیلنا چاہ رہے ہیں یا عبور کرنا چاہ رہے ہیں، اُسے پہچاننا اور سمجھنا بھی بہت ضروری ہے۔

اسی بارے میں