دلیپ کمار کو دیکھنے آئے سب سے پہلے امیتابھ

دلیپ کمار اور امیتابھ بچن
Image caption دلیپ کمار جب تک آئی سی یو میں تھے انہیں گھر والوں کے علاوہ کسی سے ملنے کی اجازت نہیں تھی۔

ممبئی کے ایک ہسپتال میں داخل دلیپ کمار کی حالت میں مسلسل بہتری آ رہی ہے اور اب انہیں آئی سی یو سے باہر شفٹ کر دیا گیا ہے۔

جیسے ہی دلیپ صاحب کو انتہائی نگہداشت کے وارڈ سے باہر لایا گیا سب سے پہلے امیتابھ بچن ان سے ملنے پہنچےاور تقریباً آدھے گھنٹے تک دلیپ کمار کے پاس رہے۔

امیتابھ بچن اور دلیپ کمار کے قریبی خاندانی تعلقات ہیں۔

دلیپ کمار سے ملاقات کر کے واپس آنے کے بعد امیتابھ بچن نے اپنے بلاگ میں لکھا کہ میں نے بھارتی سنیما کے عہد ساز اور عظیم اداکار دلیپ کمار کو ایسے پہلے کبھی نہیں دیکھا وہ بیمار حالت میں بستر پر لیٹے ہوئے تھے۔

امیتابھ بچن نے لکھا کہ ’مجھے دیکھ کر دلیپ صاحب بہت خوش ہوئے۔‘

دلیپ کمار جب تک آئی سی یو میں تھے انہیں گھر والوں کے علاوہ کسی سے ملنے کی اجازت نہیں تھی۔

ہسپتال میں دلیپ صاحب کی دیکھ بھال ان کی بیوی سائرہ بانو کر رہی ہیں۔

نوے سالہ دلیپ کمار اپنی اہلیہ سائرہ بانو کے ساتھ باندرہ کے پالی ہل علاقے میں رہتے ہیں۔

دلیپ کمار کا شمار بالی وڈ کے تاریخ ساز فنکاروں میں کیا جاتا ہے۔ فلموں میں ان کی جذباتی اداکاری کے لیے انہیں ’شہنشاہِ جذبات‘ کا خطاب ملا تھا۔

ان کی اداکاری کے لیے انھیں کئی اعزازات و انعامات سے نوازا گیا۔ پچاس اور ساٹھ کے عشرے میں وہ فلم انڈسٹری پر چھائے ہوئے تھے۔

دلیپ کمار کا اصل نام محمد یوسف خان ہے۔ وہ گیارہ دسمبر سنہ انیس سو بائیس میں پاکستان کے شہر پشاور میں پیدا ہوئے تھے۔

دلیپ کمار کا فلمی کیریئر چھ دہائیوں پر مشتمل ہے۔ سنہ انیس سو چون میں جب فلم فیئر ایوارڈز شروع ہوئے تو انہوں نے بہترین اداکار کا ایوارڈ جیتا تھا۔

اپنے فلمی کیریئر میں دلیپ کمار نے بہترین اداکاری کے شعبے میں آٹھ فلم فیئر ایوارڈ جیتے۔ سنہ انیس سو اکناوے میں ان کو پدم بھوشن ایوارڈ جب کہ سنہ انیس سو چورانوے میں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ ملا۔

وہ سنہ دو ہزار سے سنہ دو ہزار چھ تک راجیا سبھا کے رکن بھی رہے۔ پاکستان نے ان کو سنہ انیس سو اٹھانوے میں نشانِ امتیاز سے نوازا۔

اسی بارے میں