انقلابی و رومانوی شاعر پابلو نیرودا

Image caption پابلو نیرودا کو ادب کے لیے نوبیل انعام دیا گیا تھا

’جیسے تُو سنگدل تھی میں بھی سنگدل ہوں

میں نے تیرا محاصرہ کر لیا ہے

میں تجھے نیچے پھینکتا ہوں،میں تجھے تنہا کرتا ہوں

میں تیرے ناخن کاٹتا ہوں

میں تیرے باقی ماندہ دانت توڑتا ہوں۔۔۔‘

غربت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جب اسے چلی کے مشہور انقلابی شاعر پابلو نیرودا نے اپنی اس نظم ’پاورٹی‘ میں للکارا تو جیسے دنیا بھر کے ہر مزدور اور محنت کش کی زندگی کے تمام پہلو اس میں سمٹ آئے۔

پابلو نیرودا کی چالیسویں برسی:آڈیو رپورٹ

نیرودا کی چالیسیویں برسی پر انہیں یاد کرنے کے لیے اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں میرا ان سے پہلی دفعہ تعارف ہوا، ایک کمرے میں قد آور پوسٹر پر پابلو نیرودا کی تصویر کے ساتھ ان کی تاریخِ پیدائش اور تاریخ ِوفات درج ہیں۔

سٹیج پر بیٹھے حضرات نیرودا کی منتخب نظمیں حاضرین کو سنا رہے ہیں اور میں یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ لاطینی امریکہ کی ادبی دنیا کی اس قد آور شخصیت کی ذات میں چھپے رومانویت کے نشے میں چُور شخص پر فوکس کروں یا نظریہ کی بنیاد پر خود کو منوانے والے کمیونسٹ رہنما، سفارت کار، سیاستدان اور انسانیت کے نام لیوا فرد پر توجہ دوں ۔۔۔ لیکن پھر سمجھ میں آتا ہے کہ ان کی شخصیت کے دونوں پہلوؤں میں ایک چیز مشترک ہے ۔۔جذبہ ۔۔Passion !

بارہ جولائی انیس سو چار کو پیدا ہونے والے نیفٹلی ریکارڈو نے اپنے لیے پابلو نیرودا کا نام خود چنا۔وہ چلی کے اُن دو شہریوں میں شامل ہیں جنھیں ادب کا نوبیل انعام ملا تھا۔ نظریاتی اور رومانوی شاعری کا حسین امتزاج لیے پابلو نیرودا کمیونسٹ پارٹی کے رکن اور صدر سیلو یادور ایاندے کے حامی تھے۔

چالیسویں برسی پر انھیں یاد کرنے والوں میں سے ایک تجزیہ کار اور مصنف رضا رومی کہتے ہیں کہ نیرودا کی جلا وطنی اور زندگی میں کاٹی صعوبتیں فیض احمد فیض کی یاد دلاتی ہیں۔

پابلو نیرودا کی نظریاتی اور رومانوی شاعری ہسپانوی زبان میں تھی جس کا کئی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا جن میں انگریزی ہندی اور اردو بھی شامل ہیں۔

انیس سو چوبیس میں نیرودا کی دوسری کتاب ’ٹوئنٹی لوّ پوئمز اینڈ آ سانگ آف ڈیسپیئر‘ شائع ہوئی تو زمانہ رومانوی شاعری میں بے باکی کے لیے تیار نہ تھا لہٰذا نیرودا کو شہوت انگیز اور ہیجانی شاعر کہا گیا۔

اردو میں ان کی کتاب کا ترجمہ کرنے والے پاکستانی نوجوان شاعر زاہد امروز نیرودا کی شاعری کے پہلو اجاگر کرتےہوئے کہتے ہیں کہ’پابلو نیرودا کی شاعری میں عورت اور دھرتی ماں سکے کے دو رُخ ہیں۔ نیرودا نے استعاروں کا استعمال شدت سے کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ انھیں ناقدین نے جدید رومانویت قرار دیا ہے۔‘

تقریب میں شریک نیرودا کے مداح ریڈیو پاکستان کے سابق سربراہ مرتضیٰ سولنگی بھی ہیں جو نیرودا کی نظم The Saddest Lines کے اس حصے کو پڑھتے ہوئے کہتے ہیں کہ نیرودا کا نام محبت کرنے والے ہمیشہ یاد رکھیں گے۔

’محبت کتنی مختصر ہے

اور بھُلا دینا کتنا طویل

کیونکہ آج جیسی ہی کئی راتوں میں میں نے اسے بانہوں میں بھرا تھا

میری روح نہیں مانتی کہ وہ اب اسے کھو چکی ہے

چلو یہ درد آخری درد ہو

جو اس نے مجھے دیا۔۔‘

ایک اور نکتہ نیرودا کی شاعری میں پڑھنے والوں نے یہ بھی اٹھایا ہے کہ ان کی آزاد نظموں میں آغاز ہے، انجام نہیں ہے لہٰذا وہ ایک دائرہ مکمل نہیں کرتیں۔زاہد اِمروز کے نزدیک نیرودا کے کلام میں ایک معنی خیز انجام موجود ہے۔

نیرودا کا انتقال تئیس ستمبر انیس سو تہتر کو ہوا۔ ان کے خاندان والوں کے مطابق ان کی موت کا باعث کینسر تھا لیکن یہ الزامات بھی لگائے گئے کہ انھیں زہر دیا گیا ہے۔ رواں سال میں ان کی قبرکشائی کی گئی، جس کا نتیجہ آنا ابھی باقی ہے۔

اسی بارے میں