میڈونا آج کل قرآن پڑھ رہی ہیں

Image caption پچپن برس کی میڈونا آج کل اسلامی ممالک میں لڑکیوں کے لیے سکول تعمیر کروا رہی ہیں

معروف پوپ گلوکارہ میڈونا نے انکشاف کیا ہے کہ جب وہ پہلی مرتبہ نیو یارک آئی تھیں تو انھیں ریپ کیا گیا تھا۔

پچپن سالہ گلوکارہ نے یہ بھی بتایا کہ کس طرح انہیں بندوق کی نوک پر یرغمال بنایا گیا اور ان کے چھوٹے سے فلیٹ میں تین مرتبہ چوری ہوئی۔

’ہارپرز بازار‘ نامی میگزین کے لیے لکھے گئے ایک مضمون میں انہوں نے اس بات کا انکشاف بھی کیا کہ وہ آج کل قرآن پڑھ رہی ہیں۔

اس مضمون میں انہوں نے برطانیہ میں رہنے اور ہدایت کار گائے ریچی سے شادی کا ذکر بھی کیا ہے۔

میڈونا لکھتی ہیں کہ’ نیو یارک ویسا نہیں تھا جیسا میں نے سوچا تھا۔ اس نے مجھے خوش آمدید نہیں کہا۔‘

انہوں نے بتایا کہ وہ ’کرایہ دینے کے لیے آرٹ کلاسز میں برہنہ پوز کرتی تھیں اور لوگ مجھے گھور رہے ہوتے تھے۔‘

مڈ ویسٹ سے نیو یارک آنے کے بارے میں میڈونا لکھتی ہیں کہ ’پہلے سال مجھے بندوق کی نوک پر یرغمال بنایا گیا۔ ایک عمارت کی چھت پر میرا ریپ ہوا۔ میری پیٹھ پر چھری رکھ کر مجھے اوپر لے جایا گیا تھا۔ میرے فلیٹ میں تین مرتبہ چوری بھی ہوئی جس کی مجھے سمجھ نہیں آئی کیوں کہ میرے پاس کوئی قیمتی چیز بھی نہیں تھی۔ پہلی مرتبہ وہ میرا ریڈیو لے گئے تھے۔‘

میڈونا لکھتی ہیں کہ ’میں اسلامی ممالک میں لڑکیوں کے لیے سکول تعمیر کروا رہی ہوں اور قرآن پڑھ رہی ہوں۔ میرے خیال میں تمام مقدس کتابوں کا مطالعہ ضروری ہے۔‘

’جیسا کہ دوست یامان کا کہنا ہے کہ ایک اچھا مسلمان ایک اچھا یہودی ہوتا ہے، ایک اچھا یہودی ایک اچھا عیسائی ہوتا ہے اور میں اس بات سے اتفاق کرتی ہوں۔‘

اسی بارے میں